Web
Analytics
Rasa News ::رسانيوز ايجنسي - ماہ رمضان میں داخل ہونے کے شرائط
Wednesday, October 17, 2018 -
سرویس : > مقالات
وقت : 5/15/2018-7:59 PM
شناسه خبریں: 435943
 
ماہ رمضان میں داخل ہونے کے شرائط
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ماہ رمضان سے پہلے، ماہ شعبان کے آخری جمعے کو جو خطبہ دیا اسے خطبہ شعبانیہ کہا جاتا ہے ۔ رسول اللہ (صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم) فرماتے ہیں کہ "اَنفاسُکُم فیهِ تَسبیحٌ، ونَومُکُم فیهِ عِبادَةٌ، وعَمَلُکُم فیهِ مَقبول ، ودُعاؤُکُم فیهِ مُستَجابٌ"[۱]، "اس (مہینے) میں تمہاری سانسیں تسبیح ہیں، اور اس میں تمہاری نیند عبادت ہے اور اس میں تمہارا عمل قبول ہے اور اس میں تمہاری دعا مستجاب ہے"۔

تحریر: م ف حسینی

ماہ رمضان میں داخل ہونے کے شرائط: ماہ رمضان کی برکات سے فیض یاب ہونے کے لئے دو چیزوں کی ضرورت ہے: ایک ماہ رمضان کا ہونا اور دوسرا انسان کی ظرفیت اور گنجائش کی وسعت۔ یعنی انسان ماہ رمضان میں داخل ہونے کے لئے تیار ہو اور اس مبارک مہینہ کی خاص برکات کا معتقد ہو۔ اگر انسان زبان سے کہے کہ ماہ رمضان، رحمت، مغفرت اور برکت کا مہینہ ہے، لیکن دل سے اس بات کا معتقد نہ ہو تو اس مہینے سے متعلق برکات کو حاصل نہیں کرپائے گا۔ جب اس مہینے کا دوسرے مہینوں سے فرق ہے تو اس میں جو اللہ کی رحمت نازل ہوتی ہے وہ بھی دوسرے مہینوں سے بڑھ کر ہے، جو خدا اس مہینے کو دوسرے مہینوں پر فضیلت دے سکتا ہے، وہی خدا اس مہینے میں نیکیوں کے ثواب کو بڑھا بھی سکتا ہے، یہاں تک کہ عمل انجام دئیے بغیر بھی ثواب دیتا ہے، سانسیں انسان کے اختیار سے ہٹ کر چل رہی ہیں تو تسبیح لکھی جارہی ہے، انسان سو رہا ہے تو عبادت لکھی جارہی ہے۔ لہذا بخشش و عطا کی فراوانی کی خبر سُن کر اس کا انکار نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ عطا کرنے والا کریم، سخی اور لامحدود خزانوں کا مالک ہے۔

 

ماہ رمضان میں سانسیں تسبیح شمار ہوتی ہیں: ثواب عموماً اختیاری کام پر دیا جاتا ہے، سانس کا جاری رہنا انسان کے اختیار میں نہیں ہے اور نہ انسان اسے زیادہ دیر تک روک سکتا ہے۔ لیکن ماہ رمضان المبارک کی فضیلت اتنی زیادہ ہے اور رحمت الہی کا نزول اسقدر بھرپور ہے کہ اللہ تعالی غیراختیاری عمل کو بھی تسبیح شمار کرتا ہے۔ بعض علماء کا کہنا ہے کہ سانسیں اس لیے تسبیح شمار ہوتی ہیں کہ روزہ کا ارادہ کرنا اور ماہ رمضان کی حرمت کا خیال رکھنا، انسان کو ایسے عالَم میں داخل کردیتا ہے جہاں انسان نفس امّارہ سے جنگ کرتا ہے، ایسی حالت میں انسان کی حیات کا ہر نقطہ، ایسی حیات ہے جو اللہ کی عین تسبیح ہے، جیسا کہ ملائکہ کی جنس، تسبیح ہے یعنی اللہ کی طرف توجہ کرنا اور اسے عظیم سمجھنا اور خود کو نہ دیکھنا، اور روزہ دار ایسے عالَم میں داخل ہوجاتا ہے۔[2]

 

تسبیح کے معنی: تسبیح کے معنی یہ ہیں کہ اللہ کو سلبی صفات اور ہر طرح کے ضعف اور محتاجی سے مقدس اور پاک و منزہ سمجھا جائے۔[3] تسبیح کا واضح ترین مصداق "سبحان اللہ" کا ذکر ہے۔

 

تسبیح کا ثواب: تسبیح اور سبحان اللہ کی فضیلت کے بارے میں کئی احادیث نقل ہوئی ہیں، ان میں سے ایک کا یہاں پر تذکرہ کرتے ہیں۔ حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) سے منقول ہے کہ رسول اللہ (صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم) نے فرمایا: "مَنْ قَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ غَرَسَ اللَّهُ لَهُ بِهَا شَجَرَةً فِی الْجَنَّةِ وَ مَنْ قَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ غَرَسَ اللَّهُ لَهُ بِهَا شَجَرَةً فِی الْجَنَّةِ وَ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ غَرَسَ اللَّهُ لَهُ بِهَا شَجَرَةً فِی الْجَنَّةِ وَ مَنْ قَالَ اللَّهُ أَکْبَرُ غَرَسَ اللَّهُ لَهُ بِهَا شَجَرَةً فِی الْجَنَّةِ"[4]، "جو شخص کہے: "سبحان اللہ"، اللہ اس کے لئے اس کے بدلے میں ایک درخت جنت میں لگاتا  ہے اور جو کہے: "الحمدللہ"، اللہ اس کے لئے اس کے بدلے میں ایک درخت جنت میں لگاتا ہے اور جو کہے: "لا الہ الا اللہ"، اللہ اس کے لئے اس کے بدلے میں ایک درخت جنت میں کالگاتا ہے اور جو کہے: "اللہ اکبر"، اللہ اس کے لئے اس کے بدلے میں ایک درخت جنت میں اگاتا ہے۔

 

ماہ رمضان میں نیند عبادت شمار ہے: جب روزہ دار کی نیند جو بالکل بے خبری کی کیفیت ہے، عبادت ہے تو اس کی بیداری جو تلاوتِ قرآن، نماز اور دعائیں پڑھنے میں گذرے، وہ تو  اور زیادہ بڑھ چڑھ کر عبادت ہے۔ خصوصاً نماز شب کہ جس کی اس مہینہ میں توفیق آسانی سے نصیب ہوجاتی ہے کہ انسان اذان سے پہلے جاگ کر تہجد اور نماز شب میں مصروف ہوسکتا ہے جو دنیا و آخرت میں انسان کے لئے مفید ہے۔[5]

 

ماہ رمضان میں عمل قبول ہوتا ہے: قبول اور صحیح ہونے میں فرق یہ ہے کہ ہوسکتا ہے عمل صحیح ہو، لیکن بارگاہ الہی میں قبول نہ ہو، عمل تب صحیح ہوتا ہے کہ اس کے تمام اجزاء اور شرائط بجالائے جائیں، لیکن عمل کے قبول ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس عبادت میں روح پائی جاتی ہے اور عبادت کی روح، حضورِقلب ہے جو فحشا اور منکر سے منع کرتی ہے، اگر انسان عبادت کے بعد گناہ کا ارتکاب کرے تو معلوم ہوجاتا ہے کہ اس کی عبادت قبول نہیں ہوئی، روزے کی روح تقوی ہے، اگر ماہ رمضان کے بعد انسان کا تقوی اور خوفِ خدا بڑھ جائے تو روزے قبول ہوئے ہیں ورنہ اس کی صرف شرعی ذمہ داری ادا ہوئی ہے۔[6] دعا اس مہینےمیں مستجاب ہوتی ہے کیونکہ روزہ دار کا حضور قلب زیادہ ہوتا ہے اورانسان کی جتنی اللہ کی طرف توجہ زیادہ ہو، دعا کے مستجاب ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔[7]

 

بعض علماء کا کہنا ہے کہ جو عمل اللہ کی رضا کے لئے بجالاتے ہیں، وہ قبول ہوتے ہیں، کیونکہ اس مہینے میں اللہ اور بندے کے درمیان حجاب کم ہوجاتے ہیں اور اللہ اپنے اور اپنے عبد کے درمیان حجابوں کو خاص طور پر ہٹا دیتا ہے تا کہ وہ راستہ جو بندے چاہتے ہیں کہ اللہ اور بندوں کے درمیان کھل جائے، وہ کھل جائے اور چاہے ایک بار ہی، اللہ سے رابطہ کی لذت اور معنی کا ادراک کرلیں۔

 

ماہ رمضان میں دعا مستجاب ہوتی ہے: آیت اللہ مکارم شیرازی (حفظہ اللہ) " وَدُعاؤُکُم فِیه مُسْتَجابٌ"، "اور تمہاری دعا اس (مہینہ) میں مستجاب ہے" کے بارے میں تحریر فرماتے ہیں: کیونکہ خداوند نے سورہ بقرہ میں روزےکی آیات کو  جو پے در پے ہیں بیان کیا ہے " یَا أَیُّهَا الَّذِینَ ءَامَنُوا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ..." پھر فوراً اس کے بعد والی آیت میں فرمایا ہے:"وَإِذَا سَأَلَکَ عِبَادِی عَنِّی فَإِنِّی قَرِیبٌ أُجِیبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْیَسْتَجِیبُوا لِی وَلْیُؤْمِنُوا بِی لَعَلَّهُمْ یَرْشُدُونَ"[8]، " اور جب میرے بندے آپ سے میرے بارے میں سوال کریں تو (آپ کہہ دیں) میں یقینا قریب ہوں جب کوئی پکارنے والا مجھے پکارتا ہے تو میں اس کی دعا و پکار کو سنتا ہوں اور جواب دیتا ہوں۔ تو ان پر لازم ہے کہ وہ میری آواز پر لبیک کہیں اور مجھ پر ایمان لائیں (یقین رکھیں) تاکہ وہ نیک راستے پر آجائیں"[9]، اس آیت کا سابقہ آیات سے تعلق ہے یعنی روزہ رکھنے سے انسان کی دعا مستجاب ہوتی ہے روزہ دار شخص، اللہ کا محبوب ہے اور اللہ اپنے محبوب کی دعا رد نہیں کرتا۔[10] خطبہ شعبانیہ میں اگلے فقرے دعا کے بارے میں بیان ہوئے ہیں، جن پر اگلے مضمون میں گفتگو کی جائے گی۔

 

نتیجہ: ماہ رمضان اللہ تعالی کی اتنی بھرپور رحمت کا مہینہ ہے جس میں حتی سانس لینا تسبیح شمار ہوتا ہے اور سونا عبادت شمار ہوتا ہے، عمل قبول ہوتے ہیں اور دعائیں مستجاب  ہوتی ہیں، جب سونا عبادت ہے تو بیداری میں عبادت کرنے کی فضیلت تو اور زیادہ بڑھ چڑھ کر ہے، اس مبارک مہینے میں جب اتنی آسانی سے ثواب حاصل کیا جاسکتا ہے تو روزہ دار کو چاہیے کہ اپنا زیادہ تر وقت اللہ کی عبادت میں مصروف رہے اور نیک اعمال انجام دے کیونکہ اس مہینے میں اعمال قبول ہوتے ہیں اور دعائیں بھی بہترین طرح کی مانگے، کیونکہ اس مہینے میں دعائیں مستجاب ہوتی ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حوالہ جات:

[1] عیون أخبار الرضا (علیہ السلام)، شیخ صدوق، ج2، ص265.

[2] رمضان دریچه رؤیت، اصغر طاہرزادہ، ص79۔

[3] التبیان، طوسی، ج۶، ص۴۴۴ سے اقتباس۔

[4] ثواب الأعمال و عقاب الأعمال، شیخ صدوق، ج1، ص11۔

[5] ماخوذ از: گفتار معصومین (علیهم السلام)، آیت اللہ مکارم شیرازی، ج2، ص123۔

[6] ماخوذ از: گفتار معصومین (علیهم السلام)، آیت اللہ مکارم شیرازی، ج2، ص123۔

[7] ماخوذ از: گفتار معصومین (علیهم السلام)، آیت اللہ مکارم شیرازی، ج2، ص123۔

[8] سورہ بقرہ، آیت 186۔

[9] ترجمہ مولانا شیخ محسن نجفی صاحب۔

[10] ماخوذ از: گفتار معصومین (علیهم السلام)، آیت اللہ مکارم شیرازی، ج2، ص1244۔

 /۹۸۸/ ن۷۰۱

ختم خبر

رسا نیوز ایجنسی

نظریہ
نام :
ایمیل:
پیغام :
مندرجہ ذیل حروف کو باکس میں تحریر کریں:
= ۹ + ۷
ارسال
تبصرہ
اشاعت: 0
زیر التوا کا جائزہ لینے کے: 0
غیر ریلیز: 0
10/14/2018
روز عاشورہ اور امام حسین علیہ السلام
امام سجادؑ سے یہ مضمون نقل کیا ہے ۔ جوں جوں جنگ کا وقت قریب آ رہا تھا حسین ابن علیؑ اور ان کے خاص اصحاب کی کیفیت یہ تھی کہ ان کے چہروں کے رنگ نکھرتے چلے جا رہے تھے ۔
10/12/2018
امام زین العابدینؑ سے منقول شب عاشور کے واقعات
شب عاشور میرے والد خیمے میں اپنے چند اصحاب کے ہمراہ تشریف فرما تھے اور ابوذر کے غلام جون آپؑ کی تلوار تیز کر رہے تھے۔
10/8/2018
اب پاکستانی قوم کو ثابت کرنا ہے کہ ہم غلام نہیں بلکہ ایک آزاد اور خود مختار ملک ہیں
نواز شریف اب مجرم ہے ملزم نہیں اور اسکی کرپشن اور ملک سے غداری بھی ثابت ہوچکی ہے۔
10/8/2018
امام سجاد کی علمی و ثقافتی سرگرمیوں کے اصول
امام چھارم حضرت علی‌ بن الحسین علیھما السلام اپنی ۳۴ سالہ حیات میں شیعت کو نئی حیات عطا دینے ، دشمن سے غیر مستقیم مقابلہ کرنے اور ثقافتی ، معنوی و الھی معارف کی تبیین میں مصروف رہے ۔
9/25/2018
ایران کے اہواز میں دہشت گردانہ حملہ کے پشت پردہ گروہ
دہشت گرد عناصر کا مقصد مسلح افواج کی پریڈ میں بدامنی پھیلا کر اس کی شان و شوکت گھٹانا تھا۔
9/18/2018
حسینی قیام ہر زمانہ کی یزیدیت سے مقابلہ کا درس دیتا ہے
خدا نے حسین علیہ السلام کا محرم اور اپنا رمضان درحقیقت قلوب کو پاکیزہ اور نورانی کرنے کیلئے پیدا کیا ہے۔
9/17/2018
حضرت امام حسینؑ کی الہٰی تحریک
۶۰ ہجری کا معاشرہ کتابِ خدا اور سنت رسولؐ سے دور اور زمانہ جاہلیت کی بدعتوں کا شکار ہوچکا تھا اور یہی باتیں امام حسین ؑ کے قتل اور واقعہ کربلا کا باعث بنیں۔
9/12/2018
قیادت ورہبری نہج البلاغہ کی روشنی میں
قیادت ورہبری کی ضرورت اتنی واضح اورآشکارہے کہ جس کا کوئی عقل مند انسان انکار نہیں کرسکتا ۔قرآن مجید میں ارشاد خداوندی ہے کہ انما انت منذر ولکلّ قوم ھاد۔ تم صرف ڈرانے والے ہو اورہرقوم کے لیے ایک ہادی...
9/9/2018
قیادت ورہبری نہج البلاغہ کی روشنی میں
قیادت ورہبری کی ضرورت اتنی واضح اورآشکارہے کہ جس کا کوئی عقل مند انسان انکار نہیں کرسکتا ۔قرآن مجید میں ارشاد خداوندی ہے کہ انما انت منذر ولکلّ قوم ھاد۔ تم صرف ڈرانے والے ہو اورہرقوم کے لیے ایک ہادی...
9/4/2018
قیادت ورہبری نہج البلاغہ کی روشنی میں
قیادت ورہبری کی ضرورت اتنی واضح اورآشکارہے کہ جس کا کوئی عقل مند انسان انکار نہیں کرسکتا ۔قرآن مجید میں ارشاد خداوندی ہے کہ انما انت منذر ولکلّ قوم ھاد۔ تم صرف ڈرانے والے ہو اورہرقوم کے لیے ایک ہادی...
8/31/2018
قیادت ورہبری نہج البلاغہ کی روشنی میں
قیادت ورہبری کی ضرورت اتنی واضح اورآشکارہے کہ جس کا کوئی عقل مند انسان انکار نہیں کرسکتا ۔قرآن مجید میں ارشاد خداوندی ہے کہ انما انت منذر ولکلّ قوم ھاد۔ تم صرف ڈرانے والے ہو اورہرقوم کے لیے ایک ہادی...
8/30/2018
عید سعید غدیر کی اہمیت و فضیلت، آداب و اعمال
عید غدیر، اللہ کی عظیم ترین عید ہے اسے عید اللہ الاکبر کہا گیا ہے
8/30/2018
عید غدیر میں کون سے اعمال انجام دیں؟
یوم غدیر اس دن کو کہتے ہیں جس دن رسول خدا (ص) نے علی کو ہادی و رہبر کی حیثیت سے لوگوں کے لئے بلند کیا ۔
8/29/2018
عید غدیر معصومین کی نگاہ میں
یوم غدیر خم میری امت کی با فضیلت ترین عیدوں میں سے ہے ۔
8/6/2018
پاکستان کو فرقہ واریت کی آگ میں جھونکنے والے تکفیری عناصر کا ٹارگٹ اب افغانستان کیوں ؟
ایک زمانہ تھا جب پاکستان سے روز ہی یہ خبر آتی تھی کہ فلاں شیعوں کی مسجد میں دہشت گردو ں نے گھس کر فائرنگ کر دی اور بے گناہ نمازیوں کے خون سے مسجد کو رنگین کر دیا ، کبھی سننے میں آتا کسی امام بارگاہ م...
8/5/2018
ناب محمدی اسلام و نظریہ ولایت فقیہ پر جان قربان کر دی
قائد ملیت اسلامیہ علامہ سید عارف حسین حسینی کی روز شہادت کی مناسبت سے ان کی مختصر زندگی نامہ قارئین کی خدمت میں پیش کی جا رہی ہے ۔
7/25/2018
" زوجین کی علمی کفویت " ہاں یا نہیں ؟
شادی میں "کفویت" کا مسئلہ بہت اہم مسئلہ ہے ، میاں بیوی کی علمی کفویت بھی اس قاعدے اور قانون سے الگ نہیں ہے ، لڑکا لڑکی ایک دوسرے کی ہمسری کے انتخاب میں عام شرائط کے بعد تخصصی معیاروں پر بھی توجہ کریں ...
7/25/2018
پاکستان؛ ۲۰۱۸ کا الیکشن ایک تاریخی تسلسل
گذشتہ تقریباً دس سال سے شہید قائد کے معنوی فرزند ملک بھر سے اور بیرون ملک بھی مجلس وحدت مسلمین کے پلیٹ فارم پر اکٹھے ہیں، شہید قائد کے یہ معنوی فرزند ملت کو ہر لحاظ سے طاقتور بنانے اور وطن عزیز کو درپ...
7/23/2018
تواضع امام رضا علیہ السلام کے کلام میں
جو چیز انسان کے اندر غرور اور تکبر پیدا کرتی ہے وہ انسان کا اپنی قدر و منزلت سے غافل ہونا ہے ، اگر انسان نسب ، خلقت ، ثروت ، علم ، قدرت اور مقام و منزلت جیسی چیزوں کی بنیاد کو نہ سجمھے اور اس بات پر ب...