Web
Analytics
Rasa News ::رسانيوز ايجنسي - انتہا پسندی اور تکفیریت کیخلاف عالمی کانفرنس
Monday, December 10, 2018 -
سرویس : > ريورٹ
وقت : 11/22/2014-4:20 PM
شناسه خبریں: 7505
 
انتہا پسندی اور تکفیریت کیخلاف عالمی کانفرنس
رسا نیوز ایجنسی - اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ تکفیریت کا ہر وار مسلمانوں پر ہی پڑتا ہے، تکفیری عناصر مسلمانوں ہی کو بموں اور گولیوں کا نشانہ بنا رہے ہیں ، تمام تر دہشت گردی کا ہدف مسلمان بنے ہوئے ہیں، مسلمان علماء محفوظ ہیں نہ عوام، یہی نہیں بلکہ اسلامی شعائر اور اسلام کے نام پر قائم شدہ مراکز کو بھی تکفیری عناصر تباہ کر رہے ہیں، صحابہ کرام اور اہل بیت کے مزارات بھی ان سے محفوظ نہیں، دنیا بھر میں اولیاء، عرفاء اور صوفیاء کے مزارات پر بھی تکفیریوں کے حملوں کا سلسلہ جاری ہے،پاکستان کی سرزمین بھی انت


تحریر: ثاقب اکبر

 

قم المقدسہ (ایران) میں 23 اور 24 نومبر 2014ء کو انتہا پسندی اور تکفیریت کے خلاف «علماء اسلام کے نقطۂ نگاہ سے انتہا پسند اور تکفیری گروہوں» کے عنوان سے ہونے والی عالمی کانفرنس کے داعی اور میزبان آیات عظام ناصر مکارم شیرازی و جعفر سبحانی ہیں ، یہ ایک غیر سیاسی اور خالص علمی کانفرنس ہے، جس میں 83 ممالک سے ممتاز علمائے اسلام شرکت کر رہے ہیں۔

 

کانفرنس کے ترجمان حجت الاسلام ڈاکٹر علی زادہ موسوی نے اس کانفرنس میں پورے عالم اسلام سے 300 سے زیادہ علمائے اسلام اور مفتیان کرام کے شریک ہونے خبری دی ہے ۔


ان علمائے کرام کا تعلق مختلف اسلامی مکاتب فکر سے ہے۔ علاوہ ازیں ایران کے طول و عرض سے بھی سنی اور شیعہ علمائے کرام کانفرنس میں موجود ہوں گے۔ کانفرنس کے لئے 700 مقالات پوری دنیا سے موصول ہوچکے ہیں۔ ان کے علاوہ 1000 کے قریب مقالات کا خلاصہ بھی کانفرنس کے مرکز تک پہنچ چکا ہے۔ کانفرنس کے ذمے دار علمائے کرام نے موضوع کی مناسبت سے 35 کتب تیار کی ہیں جو شرکاء کو پیش کی جائیں گی۔ ان کتب میں عالم اسلام کے جید علماء کرام کے افکار و نظریات شامل کئے گئے ہیں۔ بعض اکابر علماء کی تصنیفات کو بھی نئے سرے سے شائع کیا گیا ہے۔
 
تقریب مذاہب اسلامی کے عالمی مرکز کے سیکرٹری جنرل آیت اللہ محسن اراکی کے مطابق یہ کانفرنس عالم اسلام کی پوری تاریخ میں اپنی نوعیت کا ممتاز علمائے کرام کا ایک منفرد علمی اجتماع ہوگا۔ اس کی مثال ماضی کی تاریخ میں نہیں ملتی کہ دنیا بھر کے مختلف مکاتب فکر کے اسلامی دانشور اور علماء کسی ایک موضوع پر غور و فکر اور لائحہ عمل طے کرنے کے لئے اکٹھے ہوئے ہوں۔ انھوں نے بتایا کہ کانفرنس میں تکفیری تنظیموں، اداروں اور تکفیریت کی کوششوں کی حقیقت و ماہیت کا جائزہ لیا جائے گا، تکفیریوں کے عقائد کا بھی تجزیہ کیا جائے گا، تکفیریوں کی روش اور طریق کار پر بھی غور کیا جائے گا، نیز اس امر کا جائزہ لیا جائے گا کہ تکفیریت اور تکفیریوں کا مقابلہ کس طرح سے کیا جائے۔
 
آیت اللہ اراکی کا کہنا تھا کہ عصر حاضر میں جس پیمانے پر تکفیریت پوری طاقت اور لاؤلشکر کے ساتھ سامنے آئی ہے اور جس طرح سے اسے بعض حکومتوں اور استعماری طاقتوں کی سرپرستی حاصل ہوچکی ہے، اس کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جانا بہت ضروری ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ اسلام پوری دنیا میں تیزی سے پھیلنے والا دین بن چکا ہے اور اسلام دشمنوں کے لئے یہ امر بہت تشویش کا باعث بن گیا ہے۔ خاص طور پر مغرب میں اسلام کی مقبولیت دیگر تمام ادیان کی نسبت زیادہ ہوتی جا رہی ہے۔ مغرب پر حاکم طاقتیں اسلام کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو اپنے لئے خطرہ تصور کرنے لگی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ مشرق وسطٰی میں خاص طور پر اسلام کی طرف مسلمانوں کی بازگشت اور بڑھتی ہوئی اسلامی بیداری نے صہیونی حکومت کو بھی خطرے سے دوچار کر دیا ہے۔ اس لئے وہ اسلامی بیداری کو اپنے اصل ہدف سے منحرف کرنے کے لئے طرح طرح کی سازشیں کر رہی ہے۔ اسلام دشمنوں کے لئے اسلام کی مقبولیت اور اسلام کے اثر و رسوخ کو روکنے کا سب سے آسان نسخہ مسلمانوں کو آپس میں لڑانا اور مختلف مسالک کی بنیاد پر انھیں ایک دوسرے کے سامنے صف آرا کرنا ہے۔ تکفیریت عصر حاضر میں اسلام دشمن عناصر کے ان مقاصد کو پورا کر رہی ہے۔
 
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ تکفیریت کا ہر وار مسلمانوں پر ہی پڑتا ہے۔ تکفیری عناصر مسلمانوں ہی کو بموں اور گولیوں کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ تمام تر دہشت گردی کا ہدف مسلمان بنے ہوئے ہیں۔ مسلمان علماء محفوظ ہیں نہ عوام۔ یہی نہیں بلکہ اسلامی شعائر اور اسلام کے نام پر قائم شدہ مراکز کو بھی تکفیری عناصر تباہ کر رہے ہیں۔ صحابہ کرامؓ اور اہل بیتؑ کے مزارات بھی ان سے محفوظ نہیں۔ دنیا بھر میں اولیاء، عرفاء اور صوفیاء کے مزارات پر بھی تکفیریوں کے حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔


پاکستان کی سرزمین بھی انتہا پسندوں، دہشت گردوں اور تکفیریوں کے ہاتھوں لہو لہان ہے۔ پاکستان کی معیشت ان عناصر سے گہرے زخم کھا چکی ہے۔ خوف اور وحشت کے سائے پورے پاکستان پر منڈلا رہے ہیں۔ اپنے ہی ملک میں لاکھوں عوام پناہ گزینوں کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ مذہبی اجتماعات محفوظ ہیں اور نہ مذہبی تقریبات۔

 

سوشل میڈیا کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھیں تو ان عناصر نے نفرتوں کی آگ بھڑکا رکھی ہے۔ ایک دوسرے کے مقدسات کی توہین کا سلسلہ جاری ہے۔ افسوس تو یہ ہے کہ انتہا پسند عناصر آج تقریباً تمام مسالک میں پائے جاتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ اسلحے کی قوت سب کے پاس موجود نہ ہو، لیکن اس میں شک نہیں کہ نفرتوں اور عداوتوں کی آگ بھڑکانے کا ہنر سب نے سیکھ رکھا ہے۔ کم و بیش یہی صورت حال دیگر کئی مسلمان ملکوں میں دکھائی دیتی ہے۔ ایسے میں درد مند اور امت کے لئے سوزدل رکھنے والے علمائے کرام اور دانشوروں کا کسی ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونا اور اس صورت حال پر غور و فکر کرکے اس کے ازالے کی تدبیر کرنا حوصلہ افزا پیغام کی حیثیت رکھتا ہے۔ کانفرنس کے داعی آیت اللہ العظمٰی مکارم شیرازی نے بجا طور پر کہا ہے کہ تمام اسلامی مکاتب فکر میں انتہاء پسندی کا خاتمہ ضروری ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس انتہا پسندی کی وجہ سے عالم اسلام داخلی اختلافات اور جنگوں میں مبتلا ہوچکا ہے۔ اس لئے تمام علمائے اسلام کے لئے ضروری ہے کہ وہ اس انتہا پسندی کو روکنے کی کوشش کریں۔
 
یہ امر قابل ذکر ہے کہ پاکستان میں پہلے ہی ذمہ دار علمائے کرام اس صورت حال کی طرف متوجہ ہیں اور وہ انتہا پسندی اور تکفیریت کی روک تھام کے لئے ملی یکجہتی کونسل کے زیراہتمام اپنا کردار ایک تسلسل کے ساتھ ادا کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں قومی اور مقامی سطح پر اتحاد امت کے حوالے سے کئی ایک کانفرنسیں اور سیمینار منعقد کئے جاچکے ہیں۔ ایک عالمی اتحاد امت سیمینار اپریل 2014ء میں بھی منعقد کیا گیا تھا، جس کی سرپرستی آیت اللہ العظمٰی شیخ ناصر مکارم شیرازی نے کی تھی اور کانفرنس میں خاص طور اپنا ایک وفد بھی بھیجا تھا، جس کے سربراہ حجۃ الاسلام ڈاکٹر علی زادہ موسوی تھے۔
 
اس کانفرنس کے اعلامیہ میں کہا گیا تھا کہ اگر ہم قرآن اور محسن انسانیت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی راہ پر چلیں تو پوری امت متحد ہوجائے گی، امت کے اتحاد سے ہی ہر سازش ناکام ہوگی، اعلامیہ میں کہا گیا تھا کہ ضروری ہے کہ اغیار کو باور کرایا جائے کہ اسلام کا پیغام رحمت ہے اور یہ دین پوری انسانیت کی فلاح کے لئے آیا ہے۔ عالم اسلام میں عموماً اور پاکستان میں خصوصاً فرقہ واریت دہشت گردی کے روپ میں نت نئے مسائل پیدا کر رہی ہے ۔ایک دوسرے کو کافر قرار دینے کا رجحان انتہا پسندی کا ذریعہ بن رہا ہے، اس لئے عالم اسلام کی معتبر دینی شخصیات، دینی جماعتیں، اسلامی تحریکیں اس فتنہ کے تدارک کے لئے اور امت کے انتشار کے خاتمے کے لئے متحد ہوجائیں۔ دل آزار، نفرت آمیز، اشتعال انگیز نعروں اور جذبات سے مکمل احتراز کیا جائے، تمام مسالک کے اکابرین کا احترام کیا جائے اور ایسی ہر تقریر و تحریر سے گریز کیا جائے جو کسی بھی مکتب فکر کی دل آزاری اور اشتعال کا باعث بن سکتی ہے۔
 
ملی یکجہتی کونسل جس میں پاکستان کے تمام مسالک کے نمائندگان شریک ہیں، کی طرف سے نیز مذکورہ سیمینار کے تمام شرکاء کی تائید کے ساتھ منظور کئے جانے والے درج بالا اعلامیہ میں جس موقف کا اظہار کیا گیا ہے وہ 23 اور 24 نومبر کو قم المقدسہ میں منعقد ہونے والی عالمی کانفرنس کے مقاصد سے پوری طرح سے ہم آہنگ ہے۔ نیز جو وفد پاکستان سے اس کانفرنس میں شریک ہو رہا ہے اس میں شامل بیشتر علمائے کرام مذکورہ سیمینار میں بھی موجود تھے۔ اس پس منظر میں ہم توقع کرتے ہیں کہ پاکستان سے شریک ہونے والے علمائے کرام عالمی سطح پر ایک اسلامی موقف تک پہنچنے میں اپنے تجربات کی روشنی میں بہت اہم کردار ادا کریں گے اور ان کی کوششوں کا پاکستان اور عالم اسلام پر بہتر اثر پڑے گا۔
 

ختم خبر

رسا نیوز ایجنسی

نظریہ
نام :
ایمیل:
پیغام :
مندرجہ ذیل حروف کو باکس میں تحریر کریں:
= ۱۱ + ۴
ارسال
تبصرہ
اشاعت: 0
زیر التوا کا جائزہ لینے کے: 0
غیر ریلیز: 0
11/24/2018
کلایہ دھماکہ، پس پردہ حقائق
اورکزئی اور اطراف میں خودکش حملوں کے اکا دکا واقعات اس سے پہلے بھی دیکھنے میں آئے ہیں۔ جن میں سے کئی ایک کو ناکام بنایا جاچکا ہے۔ چند سال قبل اس علاقے کی سکیورٹی کی ذمہ داری مقامی تنظیموں اور رضاکارو...
11/20/2018
پاکستان کے شیعوں نے اپنی مظلومت کو قدرت میں بدل دیا| شیعہ پارٹیوں نے پاکستان میں سعودیہ کے سیاسی اور دینی بازو توڑ دئے
مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے جنرل سکریٹری نے یہ کہتے ہوئے کہ پاکستان میں شیعوں کو امام خمینی رہ اور ایران کی محبت میں تہ تیغ کیا گیا کہا: عمران خان، یمن میں جنگ کے مخالف اور سیاسی مذاکرات کے حامی ہیں ۔
3/28/2018
امریکی اور اسرائیلی پالیسیاں خطے کیلئے خطرناک ہیں
سیمینار سے خطاب میں سابق ایرانی وزیر خارجہ کمال خرازی کا کہنا تھا کہ پاکستان کے ایران بھارت تعلقات پر خدشات سے بخوبی آگاہ ہیں، ہم سمجھتے ہیں کہ ان خدشات کا سدبات ہونا چاہیئے، ایران پاکستان کو دعوت دیت...
10/5/2015
آل سعود نے ایرانی حجاج کی فہرست صھیونیوں کو ارسال کی / «امریکا مردہ باد» کے نارہ کے بعد یمن کیخلاف جنگ کا آغاز ہوا
رسا نیوز ایجنسی - تیونس کے دانشمند نے سانحہ مِنٰی کو اسلامی جمھوریہ ایران کے خلاف سازش جانا اور کہا: ہماری سماعتوں کے بناء پر ایرانی حجاج کی فہرست اعمال حج کی انجام دہی کے لئے سعودیہ پہونچنے سے پہلے ہ...
8/3/2015
اسکردو کے عشرہ اسد کے عاشوراء میں ہزاروں عزاداروں کی شرکت
رسا نیوز ایجنسی - اسکردو پاکستان کے عشرہ اسد کے عاشورا کے جلوس عزاء میں ہزاروں عزاداران نے شرکت کر کے نواسہ رسول اور قافلہ حریت کے سید و سالار حضرت امام حسین اور آپ کے اصحاب باوفا کو خراج عقیدت پیش کی...
4/8/2015
سعودی یمن تنازع کا حل جنگ نہیں مذاکرات و مصالحت ہے
رسا نیوز ایجنسی - ملی یکجہتی کونسل پاکستان کے اراکین نے اپنی پریس کانفرس میں جو ملی یکجہتی کونسل کے ڈپٹی جنرل سکریٹری ثاقب اکبر، جمعیت علماء اسلام (ف) رہنما کے ڈاکٹر عابد روف اورکزئی، شیعہ علماء کونسل...
11/22/2014
انتہا پسندی اور تکفیریت کیخلاف عالمی کانفرنس
رسا نیوز ایجنسی - اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ تکفیریت کا ہر وار مسلمانوں پر ہی پڑتا ہے، تکفیری عناصر مسلمانوں ہی کو بموں اور گولیوں کا نشانہ بنا رہے ہیں ، تمام تر دہشت گردی کا ہدف مسلمان بنے ہوئے ہیں، م...
10/6/2014
اتحاد اسلامی دنیا کی اہم ضرورت / عید الاضحی ہوا نفس کی قربانی کا دن ہے
رسا نیوز ایجنسی – شھر تبریز کے امام جمعہ نے اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ عید الاضحی مسلمانوں کا نقطہ مشترک ہے کہا: دھشت گرد اور شدت پسند گروہوں سے مقابلہ کے لئے اسلامی اتحاد ضروری ہے ۔
1/15/2014
شیعوں نے جلوسوں محمدی کا شاندار استقبال کیا
رسا نیوز ایجنسی - پاکستان کے مختلف شھروں کے شیعوں نےعید میلاد النبی(ص) کے جلوسوں کا شاندار استقبال اور شرکت کر کے شیعہ و سنی اتحاد کی بے مثال رسم قائم کردی ۔
8/6/2013
عالم اسلام ایک خاندان کی مانند ہے اختلافی باتوں سے گریز کریں
رسا نیوز ایجنسی - نظریہ پاکستان ٹرسٹ کونسل کے چیئرمین نے عید الفطر کے قریب ہونے کے تئیں دھشت گرادنہ کاراوئیوں سے پرھیز کی تاکید کرتے ہوئے کہا: طالبان عید کی خوشیوں کو ماتم کدہ بنانے سے گریز کریں ۔
...