Web
Analytics
Rasa News ::رسانيوز ايجنسي - امریکہ کا ایک ریاستی حل، فلسطین کا خاتمہ
Friday, May 25, 2018 -
سرویس : > مقالات
وقت : 5/16/2018-2:27 PM
شناسه خبریں: 435949
 
امریکہ کا ایک ریاستی حل، فلسطین کا خاتمہ
یہ امر واضح ہو جانا چاہیے کہ امریکہ فلسطین کی ریاست کا خاتمہ چاہتا ہے۔ وہ غرب اردن اور دیگر فلسطینی علاقوں کو مستقبل میں اسرائیل کا ناگزیر حصہ قرار دینے کیطرف بڑھ رہا ہے۔ زیادہ سے زیادہ غزہ کو مہاجروں کی ایک بستی کے طور پر اسطرح سے باقی رکھا جائیگا کہ جسکے چاروں طرف سنگینوں، توپوں اور ٹینکوں کیساتھ وحشی اسرائیلی کھڑے ہونگے، یہاں تک کہ غزہ کے لوگ بھی اسرائیل کے سامنے سر جھکا دیں۔

تحریر: ثاقب اکبر

گذشتہ برس مئی میں ریاض میں ”اسلامی کانفرنس“ کی صدارت اور دیگر تقریبات کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سیدھے اسرائیل جا پہنچے۔ ہم نے اسی زمانے میں لکھا تھا کہ یہ جدید تاریخ کا پہلا واقعہ ہے کہ امریکی راہنما سعودی عرب سے براہ راست اسرائیل گئے، جو اس امر کا اظہار ہے کہ اب سعودی عرب کو کھلے بندوں اس بات پر کوئی اعتراض نہیں کہ امریکہ اسرائیل کے ساتھ کیسے اور کس سطح کے تعلقات رکھتا ہے۔ امریکی صدر نے اسرائیل پہنچ کر ایک نئی بات کہی اور وہ یہ تھی کہ امریکہ اس علاقے کے لئے دو ریاستی کے علاوہ یک ریاستی حل پر بھی غور کرسکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ فلسطین کی ریاست کا نظریہ ختم ہو جائے گا اور یہاں صرف اسرائیل باقی رہے گا۔ ایسا ہونا اسی صورت میں ممکن ہوسکتا تھا کہ امریکہ صہیونیوں کی خواہش کے مطابق بیت المقدس کو ان کا دارالحکومت تسلیم کرلے۔ یہی وہ ایام تھے، جب صہیونی ریاست کے قیام کو 69 برس پورے ہوئے اور ان دنوں اسرائیل میں اس ریاست کی سالگرہ منائی جا رہی تھی اور دوسری طرف فلسطینی یوم نکبہ منا رہے تھے، یعنی تباہی و بربادی کا دن۔ فلسطینیوں کے لئے یہ ان کی تاریخ میں تباہی اور بربادی ہی کا دن ہے، جبکہ باہر سے لا کر آباد کئے گئے صہیونیوں کے لئے یہ خوشی اور مسرت کا دن ہے۔

1947ء اور 1948ء میں جب فلسطینیوں کو ان کی سرزمین سے نکالا گیا اور اسرائیل نام کی ایک نئی ریاست سرزمین فلسطین پر مسلط کی گئی تو اس وقت 24 لاکھ فلسطینی اس سرزمین پر بستے تھے اور ان کی چھوٹی بڑی بستیوں کی تعداد 1300 کے قریب تھی۔ اسرائیل کے قیام کے لئے انہیں بزور طاقت گھر بار چھوڑنے پر مجبور کیا گیا۔ 15 مئی 1948ء کو شمالی فلسطین کی 774 بستیوں اور دیہات پر غاصب صہیونیوں نے برطانیہ کی ایماء پر قبضہ کر لیا۔ 531 شہروں اور قصبوں کا نام و نشان مٹا دیا گیا۔ اس دوران میں 70 مرتبہ فلسطینیوں کا اجتماعی قتل کیا گیا اور اس زمانے میں تقریباً 15000 فلسطینی لقمہ اجل بن گئے۔ اس روز سے آج تک فلسطینی 14 مئی کو یوم نکبہ کے طور پر مناتے چلے آرہے ہیں، جبکہ غاصب صہیونی ریاست اسرائیل اس روز کو اپنے قیام کی سالگرہ کے طور پر مناتی ہے۔ بعدازاں گذشتہ دسمبر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیت المقدس میں امریکی سفارتخانہ منتقل کرنے کا فیصلہ کیا اور پھر 14 مئی 2018ء کو قدس شریف میں امریکی سفارتخانے کا افتتاح کر دیا گیا اور دوسری طرف فلسطینیوں کے خون سے ہولی کھیلی گئی، جو اپنے وطن کی پامالی اور اپنے مادر وطن کے دارالحکومت کو علامتی طور پر صہیونیوں کے ہاتھ دینے کے امریکی فیصلے کے خلاف خالی ہاتھ اور نہتے احتجاج کر رہے تھے۔

گذشتہ برس جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنا سفارت خانہ تل ابیب سے بیت المقدس میں منتقل کرنے کے فیصلے کا اعلان کیا تو بی بی سی نے ایک رپورٹ شائع کی، جس کے مطابق مبصرین امریکی صدر کے اس اعلان کو واشنگٹن کی عشروں پرانی پالیسی سے انحراف قرار دے رہے تھے۔ بی بی سی نے اپنی مذکورہ رپورٹ میں مزید لکھا تھا کہ دو ریاستی حل مشرق وسطیٰ میں امن کا وہ ممکنہ فریم ورک ہے، جس پر عرب لیگ، یورپی یونین، روس اور اوباما دور تک امریکہ سمیت دنیا بھر کے بیشتر رہنما اتفاق کرتے رہے ہیں۔ اس فریم ورک کے تحت 1967ء میں عرب اسرائیل جنگ سے قبل کی اسرائیلی حدود کے مطابق غرب اردن، غزہ پٹی اور مشرقی یروشلم میں ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام ہے۔ اقوام متحدہ کی مختلف قراردادوں میں اس فریم ورک کی تائید کی گئی ہے۔ بالآخر امریکہ نے دو ریاستی نظریئے کے خاتمے کا 14 مئی 2018 کو عملاً اعلان کر دیا ہے۔ یہی نہیں بلکہ اس موقع پر نہتے فلسطینیوں کے صہیونی فوجیوں کے ہاتھوں قتل عام کا ذمے دار امریکہ نے حماس کو قرار دے دیا ہے۔ امریکہ واحد حکومت ہے، جس نے 62 انسانوں کا جدید ترین اسلحے سے خون بہانے والوں کو بے گناہ اور جن کا خون بہا ہے، انہیں گناہ گار قرار دیا ہے۔ اس موقع پر 2700 سے زیادہ فلسطینی زخمی بھی ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ کے صدر کے علاوہ یورپی ممالک نے بھی اس ظلم و تشدد کی مذمت کی ہے۔ پاکستان، ایران اور ترکی سمیت دیگر اسلامی ممالک نے اس پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک نے اس وقت بھی امریکی فیصلے کی مذمت کی، جب امریکی صدر نے بیت المقدس میں اپنے سفارتخانے کو منتقل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے بھی بھاری اکثریت سے اس سلسلے میں ایک قرارداد منظور کی تھی، جس میں امریکی فیصلے کو مسترد کیا گیا تھا۔

گذشتہ دسمبر میں پاکستان کی وزارت خارجہ نے اس موقع پر ایک پالیسی بیان جاری کیا تھا، جب امریکی صدر نے بیت المقدس میں امریکی سفارتخانہ منتقل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ بیان میں کہا گیا تھا کہ عوام اور حکومت پاکستان امریکی سفارت خانے کو مقبوضہ شہر بیت المقدس شریف منتقل کرنے کے اقدام پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہیں، یہ اس شہر کی قانونی اور تاریخی حیثیت کو بدلنے کی کوشش ہے۔ ایسا اقدام عالمی قوانین، سلامتی کونسل کی قراردادوں خصوصاً سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 478 جو 1980ء میں منظور کی گئی، کی خلاف ورزی ہے۔ اس اقدام نے دہائیوں سے قائم عالمی اتفاق رائے کو پس پشت ڈال کر خطے کے امن اور سلامتی کو خطرات لاحق کرنے کے ساتھ مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کی صورتوں کو نقصان پہنچایا ہے۔ پاکستان ایک مرتبہ پھر اپنے اس مطالبے کا اعادہ کرتا ہے کہ عالمی طور پر تسلیم شدہ معیارات منجملہ 1967ء سے پہلے کی سرحدوں اور القدس شریف کو دارالخلافہ بنانے کے ساتھ ساتھ خطے میں ایک آزاد، مستقل اور فعال فلسطینی ریاست کا قیام عمل میں لایا جائے۔ انتہائی افسوس سے کہا جاتا ہے کہ عالمی برادری کے مطالبات کو پس پشت ڈالتے ہوئے قدس شریف کی تاریخی اور قانونی حیثیت کو ضرورت کے بجائے اپنی مرضی کے مطابق بدلنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

گذشتہ روز بھی پاکستان کے وزیراعظم نے 18 مئی بروز جمعہ یوم یکجہتی فلسطین منانے کا اعلان کرکے پاکستان کے عوام کی ترجمانی کی ہے۔ ترکی نے اسی روز او آئی سی کا ایک ہنگامی اجلاس بھی طلب کیا ہے۔ اگرچہ اس اجلاس کی ایک علامتی حیثیت ہوگی، تاہم اسے ایک مثبت قدم قرار دینا چاہیے۔ ترکی نے اسرائیلی مظالم کے ردعمل کے طور پر تل ابیب اور واشنگٹن سے مشاورت کے لئے اپنے سفیروں کو واپس بلوا لیا ہے، جبکہ اسرائیلی سفیر کو ناپسندیدہ عنصر قرار دے کر ترکی سے نکل جانے کا حکم دیا گیا ہے۔ عالم اسلام اگر سنجیدگی سے اس موقع پر اپنے اتحاد کا فیصلہ کرے تو یقینی طور پر اس کے دوررس اثرات مرتب ہوں گے۔ اس موقع پر یہ امر واضح ہو جانا چاہیے کہ امریکہ فلسطین کی ریاست کا خاتمہ چاہتا ہے۔ وہ غرب اردن اور دیگر فلسطینی علاقوں کو مستقبل میں اسرائیل کا ناگزیر حصہ قرار دینے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ زیادہ سے زیادہ غزہ کو مہاجروں کی ایک بستی کے طور پر اس طرح سے باقی رکھا جائے گا کہ جس کے چاروں طرف سنگینوں، توپوں اور ٹینکوں کے ساتھ وحشی اسرائیلی کھڑے ہوں گے، یہاں تک کہ غزہ کے لوگ بھی اسرائیل کے سامنے سر جھکا دیں۔ البتہ اس مرحلے کے واضح اعلان سے پہلے امریکہ کی خواہش ہے کہ وہ اہم مسلمان ریاستوں خاص طور پر عربوں کو اس بات پر آمادہ کرے کہ وہ اس منصوبے میں امریکہ اور اسرائیل کا ساتھ دیں گے یا کم از کم مخالفت نہیں کریں گے۔

چند روز قبل سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا ایک بیان سامنے آیا تھا، جس میں انہوں نے فلسطینیوں کو مشورہ دیا تھا کہ وہ اسرائیل کے خلاف جدوجہد کو ترک کرکے ان کے ساتھ ہم آہنگی کا راستہ اختیار کریں۔ اسی نظریئے کو زیادہ واشگاف انداز سے اختیار کرنے پر امریکہ دیگر ریاستوں کو بھی آمادہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس سلسلہ میں امریکہ قدم بہ قدم آگے بڑھ رہا ہے اور بیت المقدس میں امریکی سفارتخانے کو منتقل کیا جانا اس منصوبے کا ایک سنگ میل ہے، جبکہ احتجاج کرنے والے فلسطینیوں کو جس بے دردی سے قتل کیا گیا ہے، یہ اس بات کا اعلان ہے کہ امریکی صہیونی منصوبے کو تسلیم نہ کرنے والوں کا یہ حشر کیا جائے گا۔ اس موقع پر یہ سوال نہایت اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ کیا امریکہ اور اسرائیل کی یہ خواہش پوری ہو جائے گی؟ ہم سمجھتے ہیں کہ ایسا نہیں ہوگا بلکہ یہ خواہش بہت بری طرح ناکام ہو جائے گی۔ اس کے لئے ہمارے پاس بہت سے دلائل و شواہد موجود ہیں۔ اسرائیل اور امریکہ کا وہ منصوبہ جو عراق کی تقسیم کے بارے میں تھا ناکام ہوچکا ہے۔

فلسطینیوں کو ڈرا دھمکا کر خاموش کرنے بلکہ ان کا قتل عام کرکے خاموش کرنے کا وحشیانہ حربہ بھی ناکام ہوچکا ہے۔ حزب اللہ کا خاتمہ اور لبنان میں اپنی من پسند حکومت کے قیام کا منصوبہ بھی رسوا ہوچکا ہے۔ شام میں اپنی مرضی کی فرمانبردار حکومت قائم کرنے کی آرزو بھی خاک میں مل چکی ہے۔ ایران پر پابندیاں عائد کرکے اسے فلسطینیوں کی حمایت سے باز رکھنے کے لئے تمام تر ہتھکنڈے نامرادی سے ہمکنار ہوچکے ہیں۔ عالم اسلام میں ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں امریکہ اور اسرائیل کے حالیہ اقدامات کی مخالفت کی جا رہی ہے۔ غیر مسلم جن میں یہودی اور مسیحی بھی قابل ذکر تعداد میں موجود ہیں، وہ بھی اسرائیلی مظالم پر احتجاج کناں ہیں۔ انسانیت کے ضمیر کو خاموش نہیں رکھا جاسکتا۔ داخلی طور پر اسرائیل آج جتنا خوفزدہ ہے، اتنا پہلے کبھی نہیں تھا۔ حال ہی میں جولان میں اسرائیلی تنصیبات اور فوجی اڈوں کو شام کے میزائلوں نے نشانہ بنا کر تباہ کر دیا ہے۔ اسرائیل کے ناقابل شکست ہونے کا غرور ٹوٹ چکا ہے، لہٰذا امریکہ اور اسرائیل شاید اپنی ناکام پالیسیوں کو کامیاب بنانے اور اپنے آپ کو طاقتور ظاہر کرنے کے لئے جو کچھ کر رہے ہیں، وقت جلد اس بات کو ثابت کرے گا کہ یہ ان کی ایسی آرزوئیں ہیں کہ جن کے پودے ریت پر اگے ہیں اور وقت کا ایک ریلہ انہیں بہت جلد بہا کر لے جائے گا۔ /۹۸۸/ ن۹۴۰

 

ختم خبر

رسا نیوز ایجنسی

نظریہ
نام :
ایمیل:
پیغام :
مندرجہ ذیل حروف کو باکس میں تحریر کریں:
= ۸ + ۳
ارسال
تبصرہ
اشاعت: 0
زیر التوا کا جائزہ لینے کے: 0
غیر ریلیز: 0
5/23/2018
اقوام عالم کے امریکہ سے ۱۲ مطالبات
ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے امریکی سیکرٹری آف سٹیٹ پومپے کے ان مطالبات کے جواب میں کہا ہے کہ آپ کون ہوتے ہیں کہ ایران اور دنیا پر اپنے فیصلے مسلط کریں۔
5/23/2018
http://urdu.sahartv.ir/news/world-i۳۲۶۱۱۲
ایران سے کینہ اور مخاصمت کے اسباب
ہر روز صبح، ہر کھانے کے بعد اور سونے سے پہلے ایران کی توہین اور بے احترامی کرتے ہیں اور اس کو شیطان قرار دیتے ہیں اور "تشیع" نامی ایک خیالی جن سے وحشت زدہ ہیں، جہالت میں مست آپ کو نہیں پتا کہ ایران می...
5/19/2018
کیوں "روزہ" رکھوں
کیا ہر روزہ دار متقی ، پرھیزگار اور اچھا انسان بن جاتا ہے ؟ ہم نے بہت سارے انسانوں کو دیکھا ہے کہ روزہ رکھتے ہیں؛ مگر انہیں بجز سختی ، مشقت ، بھوک و پیاس کے سوا کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا ۔
5/16/2018
رمضان کے مبارک مہینہ کے آغاز کی دعا
رمضان کے مبارک مہینہ کے آغاز پر امام سجاد ـ علیه السلام ـ سے منقول دعا جو صحیفہ سجادیہ میں موجود ہے ، یہ دعا روزہ دار کو رمضان کے مبارک مہینہ کی اچھی پہچان اور اس کی اہمیت کو درک کرنے میں مدد کرتی ہے ...
5/16/2018
امریکہ کا ایک ریاستی حل، فلسطین کا خاتمہ
یہ امر واضح ہو جانا چاہیے کہ امریکہ فلسطین کی ریاست کا خاتمہ چاہتا ہے۔ وہ غرب اردن اور دیگر فلسطینی علاقوں کو مستقبل میں اسرائیل کا ناگزیر حصہ قرار دینے کیطرف بڑھ رہا ہے۔ زیادہ سے زیادہ غزہ کو مہاجروں...
5/15/2018
ماہ رمضان میں داخل ہونے کے شرائط
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ماہ رمضان سے پہلے، ماہ شعبان کے آخری جمعے کو جو خطبہ دیا اسے خطبہ شعبانیہ کہا جاتا ہے ۔ رسول اللہ (صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم) فرماتے ہیں کہ "اَنفاسُکُم فیهِ تَس...
5/15/2018
آداب بندگی
انسان کی خلقت کا مقصد، انسانی وجود کے جوھر اور انسانیت کو منزل کمال عطا کرنا ہے جیسا کہ سورہ ذاریات ۵۶ ویں آیت «وَ ما خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْإِنْسَ إِلاَّ لِیَعْبُدُونِ» [۱] ھم نے جن و انس کی خلقت نہ...
5/15/2018
ماہ رمضان کے فضائل و برکات اہل سنت کی نگاہ میں
رمضان کی پہلی رات آتی ہے تو شیاطین اور سرکش جنات جکڑ دیے جاتے ہیں اور دوزخ کے سارے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں ، ان میں سے کوئی بھی دروازہ کھلا نہیں رہتا۔ جنت کے تمام دروازے کھول دیے جاتے ہیں، ان میں ...
5/11/2018
یہ جو دہشتگردی ہے اسکے پیچھے امریکہ گردی ہے
دنیا بھر میں اسوقت جہاں جہاں بھی دہشتگردی کا بازار گرم ہے، چاہے وہ افغانستان ہو یا پاکستان، عراق ہو یا شام، لبنان ہو یا یمن، حجاز ہو یا فلسطین، صومالیہ ہو یا لیبیا، ہر جگہ اسکے پس پردہ یا بہ ظاہر امری...
5/7/2018
ایٹمی معاہدہ اور مغرب کے سامنے عجیب و غریب صورتحال
جامع ایٹمی معاہدے میں باقی رہنے یا نہ رہنے کے بارے میں ٹرمپ کے فیصلے کے اعلان کو ایک ہفتے سے بھی کم وقت رہ گیا ہے اس دوران امریکا کو اس معاہدے میں باقی رہنے کے لئے راضی کرنے کی غرض سے مختلف بیانات کا ...
5/2/2018
حضرت عیسی مقتدِی تو امام مہدی مقتدَیٰ ہوں گے
مسلمان مؤرخین کا اتفاق ہے کہ حضرت امام مہدی (عج) کی ولادت باسعادت ۱۵ شعبان ۲۵۵ ھجری یوم جمعہ بوقت طلوع فجرواقع ہوئی ہے۔ پیغمبر اسلام (ص) نے فرمایا: امام مہدی (عج) کا ظہورآخر زمانہ میں ہوگا اورحضرت عیس...
4/21/2018
حضرت ابو الفضل العباس اور ثبات قدم
دنیا میں کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جنکا ماضی بہت تابناک رہا لیکن وہ ماضی کی تابناکیوں کو حال تک قائم رکھنے میں ناکام رہے جسکی بنا پر حال بھی تاریک ہو گیا اور مستقبل بھی تاریکیوں میں گم ہو کر رہ گیا ۔
4/20/2018
امام حسین اور عزت و سربلندی
آج جب ہم ولادت امام حسین علیہ السلام کی خوشیاں منا رہے ہیں تو ہمیں اپنا ایک محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے کہ ہماری زندگی کونسی زندگی ہے کیا ہماری زندگی وہ ہے جسے حسینی کہا جا سکے ، یا پھر ہماری زندگی ان ذلت...
4/16/2018
داعش کا کوئٹہ میں مسیحیوں پر حملہ
امام علیؑ کے بارے میں ایک چشم کشا واقعہ تاریخ میں نقل ہوا ہے، جسکے مطابق جب آپ نے کوفہ میں ایک بوڑھے یہودی کو بھیک مانگتے ہوئے دیکھا تو آپ نے سوال کیا کہ یہ میری حکومت میں بھیک کیوں مانگ رہا ہے؟ اس ن...
4/14/2018
نقوش حیات پیغمبر اور ہم
ولقد کان لکم فی رسول اللہ اسوة حسنہ صرف ایک قرآن کا نعرہ نہیں بلکہ ایسی حقیقت ہے کہ جس پر ہم اگر غور کرنے کو تیار ہو جائیں تو زندگی کا رنگ ہی بدل جائے زندگی کے ہر گام پر ہمیں کمال ملے ہر موڑ پر ہمیں ...
4/11/2018
امام کاظم اور سخت ترین حالات میں غریبوں و ناداروں کی مسیحائی
امام کاظم علیہ السلام کی ولادت کی معروف تاریخ ۷ صفر المظفر ہے ،آپ نے ۱۲۸ ہجری ابواء کے مقام پر اس دنیا میں آنکھیں کھولیں آپ اپنے حلم کے سبب کاظم کے طور پر پہچانے گئے جبکہ آپکی کنیت ابو الحسن اور ابو ...
3/31/2018
جشن مولود کعبہ اور ہماری ذمہ داری
عنقریب ہم سب امیر المومنین امام علی علیہ السلام کی ولادت با سعادت منانے کے لئے آمادہ ہیں ،۱۳ رجب کی تاریخ ایک بڑی تاریخ ہے اس دن تاریخ کے اس عظیم المرتبت انسان کی ولادت ہوئی ہے جس کی تعلیمات سے آج بھ...
3/26/2018
بیرسٹر ظفر اللہ خان اور اسلام کی تعبیر نو
بیرسٹر ظفر اللہ کی رائے تھی کہ مسلمان ممالک مجموعی طور پر عہد حاضر کے چیلنجز کا صحیح طور پر سامنا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ لہٰذا انتہا پسندی فطری اظہار کے طور پر سامنے آئی ہے۔ گذشتہ چند صدیوں میں انسان...
3/12/2018
خواجہ آصف کی امریکہ اور مسلمان حکمرانوں پر لفظی گولہ باری
پاکستان کے مسلمان اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ آل سعود کے مغربی استعمار سے کس قدر قریبی روابط ہیں۔ گذشتہ برس امریکہ جسے خواجہ آصف نے دشمن قرار دیا ہے، اسی کے صدر کے دورے کے موقع پر آل سعود نے مسلمانوں کی ...
3/3/2018
عام انتخابات، علاقائی اور فرقہ وارانہ جماعتیں
جمعیت علمائے اسلام کے تمام دھڑے سنی حنفی دیوبندی مکتب فکر سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان سے وابستہ مذہبی مدارس بھی اسی مکتب فکر سے متعلق ہیں۔ جبکہ جمعیت علمائے اسلام کے نام میں اس امر کیطرف کوئی اشارہ نہیں پای...