Web
Analytics
Rasa News ::رسانيوز ايجنسي - مسئلہ رویت ہلال کا
Monday, October 22, 2018 -
سرویس : > مقالات
وقت : 6/17/2018-5:35 PM
شناسه خبریں: 436297
 
پہلی قسط اول:
مسئلہ رویت ہلال کا
نبی آخرالزمان حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے خداوند تبارک و تعالی کی جانب سے مبعوث ہونے کے بعد مسلمانوں کو اپنے اعمال انجام دینے کیلئے جس تقویم کا استعمال کیا گیا وہ قمری تقویم ہے۔

تحریر : سید میثم ہمدانی

ماہ مبارک رمضان اپنی تمام تر برکتوں کے ساتھ اختتام پذیر تھا۔ مومنین شب بیداریوں اور  لیالی قدر کے بابرکت لمحات میں خدا کے حضور رازونیاز کرنے کے بعد خداوند تبارک و تعالی کی اس عظیم نعمت پر شکر ادا کرنے کیلئے عید فطر کے موقع پر "اللھم اھل الکبریاء و العظمہ و اھل الجود و الجبروت ۔ ۔ ۔" کے حسین نغمے کے منتظر تھے لیکن انہیں کیا خبر تھی کہ چاند کا چکر ان کو اس ملکوتی فضا سے دور لے جا کر حیرت کی وادی میں متحیر و پریشان کر دے گا۔ ایسا کیوں ہے ؟ اس تحریر میں اسی بارے میں کچھ بات کریں گے انشاء اللہ کہ مفید  ہو۔
درحقیقت اسلام نام ہی ایسے دین کا ہے جو صرف کتابوں میں مضبوط ہونے کیلئے نہیں آیا بلکہ اس کا ہر ایک ایک حکم اور ہر ایک جزء زندگی ہے ، حرکت ہے اور نفاذ ہے۔ اگر اسلام کا بغور مطالعہ کیا جائے تو یہ ایک منظم حقیقت کا نام ہے کہ جس کے بارے میں عمومی طور پر ہم ایک دوسرے کو یہ کہتے ہوئے سنتے ہیں کہ اسلام نظام حیات ہے۔ نظام بغیر ناظم کے منظم نہیں رہتا۔ اسلام ایسا دین ہے اگر نافذ نہ ہو تو قابل عمل نہیں ہے، نافذ ہونے کیلئے نفاذ کرنے والے کی ضرورت ہے ۔ اسی وجہ سے اسلامی احکام بہت آسان بھی ہیں اور بہت سخت بھی ہیں۔ آسان اس اعتبار سے ہیں کہ اگر نافذ کرنے والا حاکم شرع موجود ہو تو اسلام کے مطابق بالفطرت احکام آسان ہیں لیکن جب کوشش یہ ہو کہ اسلام کا نفاذ تو ہو لیکن حاکم شرع قابل قبول نہ ہو تو بظاہر چھوٹے سے چھوٹا حکم بھی مشکل ہو جاتا ہے اور حتی ایک مہینہ کا شروع اور اس کا اختتام بھی اختلاف کا باعث بن کر مشکل امر بن جاتا ہے۔
 امام علی علیہ السلام خطبہ شقشقیہ میں فرماتے ہیں کہ " اَما وَاللہ لَقَدْ تَقَمَّصھا فُلان وَ اِنَّہ لَیَعْلَمُ اَنَّ مَحَلّی مِنْھا مَحَلُّ الْقُطْبِ مِنَ الرَّحا. یَنْحَدِرُ عَنِّی السَّیْلُ، وَلا یَرْقی اِلَی الطَّیْرُ فَسَدَلْتُ دُونَھا ثَوْباً، وَ طَوْیتُ عَنْھا کَشْحاً  " امام خلافت (حاکمیت شرع) کے مسئلہ میں چکی کی لاٹھ کی مانند ہے (کہ جس کے بغیر جس طرح چکی کا نظام فاسد ہے اسی طرح زمانے کی چکی بھی نہیں چل سکتی)۔ تو اصل ماجرا تو یہی ہے کہ جب تک اسلام کو اس کی لاٹھ سے دور رکھا جائے گا تو وہ گڑبڑاتا ہی رہے گا۔ خدا نے جس نظام کی طرف دعوت دی ہے اگر انسان اسکی حقیقت کو بھانپ لے اور اپنی فردی و معاشرتی زندگی میں اس کا نفاذ کر لے تو قدم قدم پر ایسے مسائل میں پھنسنے کے بجائے خلقت ہستی کے اصل ہدف کی طرف مائل ہو جائے گا اور یہی وہ راستہ ہے کہ جہاں شیطان اپنے اعوان و انصار کے ساتھ خیمہ زن ہے تاکہ اولاد آدم کو اپنے اصلی ہدف سے دور رکھے۔  بہر حال اب مسئلہ چاند کا؛
 
 انسان اپنی زندگی گذارنے کیلئے ابتدائے خلقت سے شب و روز کے حساب وکتاب اور راستوں کی راہنمائی جیسے دوسرے امور کیلئے اس آسمان و زمین، چاند اور ستاروں سے مدد لیتا رہا ہے۔ نبی آخرالزمان حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے خداوند تبارک و تعالی کی جانب سے مبعوث ہونے کے بعد مسلمانوں کو اپنے اعمال انجام دینے کیلئے جس تقویم کا استعمال کیا گیا وہ قمری تقویم ہے۔گذشتہ ایام سے علم افلاک و نجوم کے ماہرین نے اس موضوع پر سیر حاصل مفید کتب تالیف کی ہیں اور اپنی ماہرانہ رائے بیان کی ہے۔ اگر یہ تقویمی مسائل روزمرہ کے عمومی کاموں کی حد تک محدود رہتے تو اتنی زیادہ دقت محسوس نہ ہوتی لیکن مسئلہ وہاں بنتا ہے جب تقویم ہمارے شرعی مسائل کے ساتھ رابطہ استوار کر لیتی ہے اور جس حد تک یہ رابطہ زیادہ ہوتا جاتا ہے اسی حد تقویمی مسائل کی اہمیت بھی بڑھتی چلی جاتی ہے۔
ہو سکتا ہے بعض لوگوں کے ذہن میں یہ سوال ہو کہ ہمیشہ عید الفطر کا مسئلہ ہی اتنی اہمیت اختیار کیوں کر جاتا ہے؟ قمری تاریخ تو باقی احکام سے بھی مرتبط ہے ؟ بطور مثال فروع دین میں سے حج بھی ایک رکن ہے جو اسلامی مہینہ ذی الحجہ میں ادا کیا جاتا ہے یا اسی طرح عید ضحی کے موقع پر بھی تاریخیں متفاوت ہوتی نظر آتی ہیں لیکن وہاں اتنی پریشانی نظر نہیں آتی۔ اس کی وجہ قمری نظام تقویم کی عیدالفطر کے موقع پر  اسلامی دو ضروری احکام میں تعارض کی شکل اختیار کرنا ہے۔ شریعت کے حکم کے مطابق رمضان المبارک کے ایام میں روزہ رکھنا واجب ہے جبکہ عید الفطر کے دن روز رکھنا حرام ہے، پس رمضان المبارک کا اختتام خصوصا جب تیس دن سے پہلے ہو رہا ہو تو اگر  رمضان المبارک کا ظاہرا یہ تیسواں دن عیدالفطر ہو یعنی شوال کا پہلا دن ہو تو اس دن روزہ رکھنا حرام ہے اور اگر ایسا نہ ہو تو اس دن روزہ رکھنا واجب ہے۔ لہذا ان دو احکام شرعی کا تعارض اس دن کے چاند کو چار چاند لگا دیتا ہے اور اس کی اہمیت اس حد تک زیادہ ہو جاتی ہے کہ ہر فرد جو حکم شرعی کے بارے میں ذمہ داری کا احساس کر رہا ہو وہ اس بات کو جاننے کے درپے ہوتا ہے کہ بالاخر چاند نظر آیا یا نہیں؟ اور اس بنا پر اسکی کیا ذمہ داری بنتی ہے؟ یہ پریشانی اس وقت بہت زیادہ ہو جاتی ہے جب بعض گواہیاں ایسی سامنے آجائیں کہ جن کے مطابق عیدالفطر ہو جبکہ دوسرا گروہ کہے کہ نہیں آج رمضان المبارک کا تیسواں روزہ ہے۔
اس اہمیت کی بنا پر کچھ احباب اور بزرگان کی فرمائش پر اس موضوع کو مفصل انداز میں بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔
 سب سے پہلے مسئلہ کی شرعی حیثیت کو ولی امر مسلمین کے فتاوی کی روشنی میں بیان کئے دیتے ہیں جبکہ مقالہ کے آخر میں بعض دیگر مجتہدین عظام کا نظریہ بھی بیان کیاجائے گا۔
رویت ہلال کے حوالے سے یہ بات کی جاتی ہے یا کی جا سکتی ہے کہ موجودہ زمانے میں سائنس اور فلکیات سے متعلق علوم اس حد تک ترقی کر چکے ہیں کہ وہ کئی عشروں پر مشتمل چاند کی حرکت اور اس کے نظر آنے یا نہ آنے اور کس دن بلکہ کس وقت اور کتنے منٹوں تک نظر آتے رہنے اور اس کے دیکھے جانے کے مقامات کے بارے میں بہت واضح انداز میں پیشگوئی کر سکتے ہیں  پھر شرعی مسائل میں چاند کو دیکھنے کے حوالے سے کیوں نہ اس کام کو سائنسدانوں کے حوالے کر دیا جائے؟  جس طرح باقی کلینڈر موجود ہیں اسی طرح قمری کلینڈر تشکیل دے کر ایک ہی مرتبہ پورے سال کے چاندکو تشخیص دے دیا جائے؟
چاند کے اثبات کیلئے اسلامی روایات (شیعہ سنی) اور فقہی احکام میں منجم کی رائے کو معتبر نہیں مانا گیا۔نجومی کی رائے یا کلینڈر اس مسئلہ میں ممد و معاون تو ہو سکتی ہے لیکن حجت شرعی نہیں ہے۔
امام صادق علیہ السلام سے مروی ہے :
صم للرؤیۃ و افطر للرؤیۃ (وسائل الشیعہ ج ۱۰ ص ۲۵۷ )
اسی طرح  اہلسنت منابع حدیثی میں ہے کہ :
لاَتَصُوْمُوْا حَتّٰی تَرَوْہُ وَلاَ تُفْطِرُوْا حتّٰی تَرَوْہُ فانْ غُمَّ عَلَیْکُمْ فَاقْدُرُوْا لَہ (بخاری: ۱/۲۵۶)
ایسی ادلہ کو مدنظر رکھتے ہوئے چاند کے اثبات کیلئے فقہائے شیعہ و سنی صرف علم نجوم و افلاک کو معتبر نہیں سمجھتے بلکہ چاند کے نظر آنے کو بنیادی شرط قرار دیتے ہیں۔
چشم مسلح:     آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای کی نگاہ میں رویت ہلال کیلئے چشم مسلح و غیر مسلح میں کوئی فرق نہیں ہے۔ چشم مسلح سے مراد آلات کی مدد سے چاند کو دیکھنا جبکہ غیر مسلح سے مراد صرف آنکھ سے چاند کو دیکھنا ہے۔ البتہ یہاں اس بات کی طرف توجہ کی ضرورت ہے کہ چشم مسلح سے مراد یہ نہیں ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے بطور اصطلاح آسمان کو اسکین کیا جائے اور کہا جائے کہ چاند موجود ہے! چونکہ قارئین جانتے ہیں کہ چاند تو ہمیشہ ہی موجود ہوتا ہے جس کی مفصل بحث ماہرین علم افلاک و نجوم نے مختلف مقامات پر پیش کی ہوئی ہے، سادہ الفاظ میں عوام الناس کی تقریب فکری کیلئے یوں کہا جائے گا کہ مہینے کے تقریبا نصف ایام گذرنے کے بعد چاند ختم ہو جاتا ہے اور جب نیا مہینہ شروع ہوتا ہے تو قمری اعتبار سے اس مہینے کے شروع ہونے سے چند دن قبل (دو یا تین دن) چاند پیدا ہو جاتا ہے لیکن وہ نظر آنے کے قابل نہیں ہوتا۔ چاند کو دیکھنے کیلئے ضروری ہے کہ سورج کی شعائیں چاند کے اس حصے پر جو ہماری آنکھ کے سامنے اور زمین کے افق سے مناسب بلندی پر واقع ہو  قرار پائیں۔ اس حالت میں آنکھ چاند کو دیکھ سکتی ہے جس کو رویت ہلال کہا جاتا ہے۔ رویت ہلال میں انسانی آنکھ کا مقولہ محکوم بہ تشکیک ہے۔ یعنی گذشتہ ایام ہی سے انسانوں کے استعداد میں تفاوت اور اختلاف رہا ہے ۔ بعض لوگوں کی نظریں تیز ہوتی ہیں جبکہ بعض ہو سکتا ہے اس حد تک باریک بینی سے نہ دیکھ پائیں۔ اول ماہ شوال کا چاند جو چند ایک گھنٹوں کا مہمان ہوتا اور اس حد تک واضح نہیں ہوتا کہ سب لوگ اس کو دیکھ پائیں۔ اس کی رصد کیلئے تجربہ بہت ضروری ہے کہ کس سمت میں کس وقت دیکھا جائے۔ گذشتہ ادوار میں جب جدید آلات موجود نہیں تھے تو فوجیں دشمن افواج کی رصد کیلئے ماہر تیز بین افراد سے مدد حاصل کرتی تھیں، ایسے افراد کسی بلند مقام پر یا مخصوص جگہ پر کھڑے ہو کر دشمن کی نقل و حرکت حتی ان کی فوجیوں کی تعداد کے بارے میں بھی خبر دے دیتے تھے جبکہ عام انسان کو اس افق پر کچھ نظر نہیں آرہا ہوتا تھا۔
جب چشم مسلح کی بات کی جاتی ہے تو اس سے مراد ایسے آلات ہوتے ہیں کہ جس کے ذریعے قدرتی آنکھ سے نظر آنے والی شے کو دیکھنے کیلئے سہولت فراہم کی جا سکے۔ اس بات کو سمجھنے کیلئے ہم عینک کی مثال دے سکتے ہیں۔ کتاب پرلکھے گئے حروف کو پڑھنے کیلئے ایسے افراد جن کی نگاہ کمزور ہوتی ہے عینک کا استعمال کرتے ہیں۔ عینک کا استعمال موجود حروف کو پڑھنے کیلئے کیا جاتا ہے لہذا یہ ممکن نہیں ہے کہ عینک کو استعمال کرتے ہوئے آپ لاموجود الفاظ کو پڑھ سکیں۔ اسی طرح جب رویت ہلال کو چشم مسلح کے ذریعے دیکھنے کی بات کی جاتی ہے تو اس سے مراد ٹیلیسکوپ یا دوربین جیسے ایسے آلات کا استعمال ہے کہ جو قدرتی آنکھ کے ذریعے دکھنے والی شےکو دیکھنے میں سہولت فراہم کریں۔ اسی وجہ سے بعض منجم حضرات یہ کہتے ہیں کہ چونکہ اول ماہ شوال کی اہمیت بہت زیادہ ہوتی ہے لہذا چشم مسلح کے ذریعے جب اس چاند کو مخصوص مقام پر اور مخصوص درجے پر دیکھ لیا جائے تو پھر کچھ دقت کرنے پر اسی مقام پر چاند کو عام آنکھ سے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ اسی وجہ سے اس رویت ہلال کو کیمرے کی آنکھ سے بھی ضبط کیا جا سکتا ہے۔ آیت اللہ خامنہ ای کے مطابق اس بنا پر اگر رویت کا عنوان باقی رہے یعنی یہ کہا جائے کہ چاند دیکھا گیا ہے تو اس میں آلات سے مدد لینا صحیح ہے۔

غروب:     آیت اللہ خامنہ ای کی نگاہ میں چاند کا مغرب سے پہلے نظر آنا اس شرط کے ساتھ کہ یہ چاند سورج کے غروب ہونے کے بعد غروب ہو  اور اپنے غروب سے پہلے قابل رویت ہو تو معتبر ہے، اگر ان مسائل میں سائنسی تجزیئے یقین کا سبب نہ ہوں تو معتبر نہیں ہیں۔
شرائط:     چاند کے شرعی اثبات کیلئے اکثر مجتہدین کے مطابق جو راستے بیان کئے گئے ہیں ان میں سے خود شخص مکلف کا چاند کو دیکھنا، دو عادل گواہوں کا چاند کے نظر آنے پر گواہی دینا، چاند کے نظر آنے کی ایسی شہرت جو اطمینان کا باعث ہو یا ماہ رمضان المبارک کے تیس دن مکمل ہو جانا ہے۔ آیت اللہ خامنہ ای کے مطابق ان راستوں کے علاوہ  ایک راستہ حکم حاکم ہے۔ یعنی اگر مختلف علاقوں میں چاند کے نظر آنے یا نہ آنے کے حوالے سے شک موجود ہو تو حاکم کا اول ماہ شوال کا حکم مکلف کیلئے کافی ہے اور اس بنا پر عیدالفطر کا اعلان کیا جا سکتا ہے۔

منبع: اسلام ٹائمز

/۹۸۹/ ن۹۴۰

ختم خبر

رسا نیوز ایجنسی

نظریہ
نام :
ایمیل:
پیغام :
مندرجہ ذیل حروف کو باکس میں تحریر کریں:
= ۱ + ۲
ارسال
تبصرہ
اشاعت: 0
زیر التوا کا جائزہ لینے کے: 0
غیر ریلیز: 0
10/18/2018
قرآن کریم آیات و روایات کے تناظر میں
وہ افراد جو انسانی رشدو ھدایت کے لئے وحیی الٰہی کو اپنا وسیلہ نہیں قرار دیتے ہیں اور اپنی عقل کو ہی اپنی ھدایت کے لئےکافی سمجھتے ہیں وہ کبھی ھدایت نہیں پا سکتے ہیں۔
10/14/2018
معاشرہ کی پیشرفت میں قرآن کریم کی ارزش و اہمیت
قرآن کریم، ہمارے نجات کا علمبردار، درس عبرت، اور ذکر خدا کی کتاب ہے ۔
10/14/2018
روز عاشورہ اور امام حسین علیہ السلام
امام سجادؑ سے یہ مضمون نقل کیا ہے ۔ جوں جوں جنگ کا وقت قریب آ رہا تھا حسین ابن علیؑ اور ان کے خاص اصحاب کی کیفیت یہ تھی کہ ان کے چہروں کے رنگ نکھرتے چلے جا رہے تھے ۔
10/12/2018
امام زین العابدینؑ سے منقول شب عاشور کے واقعات
شب عاشور میرے والد خیمے میں اپنے چند اصحاب کے ہمراہ تشریف فرما تھے اور ابوذر کے غلام جون آپؑ کی تلوار تیز کر رہے تھے۔
10/8/2018
اب پاکستانی قوم کو ثابت کرنا ہے کہ ہم غلام نہیں بلکہ ایک آزاد اور خود مختار ملک ہیں
نواز شریف اب مجرم ہے ملزم نہیں اور اسکی کرپشن اور ملک سے غداری بھی ثابت ہوچکی ہے۔
10/8/2018
امام سجاد کی علمی و ثقافتی سرگرمیوں کے اصول
امام چھارم حضرت علی‌ بن الحسین علیھما السلام اپنی ۳۴ سالہ حیات میں شیعت کو نئی حیات عطا دینے ، دشمن سے غیر مستقیم مقابلہ کرنے اور ثقافتی ، معنوی و الھی معارف کی تبیین میں مصروف رہے ۔
9/25/2018
ایران کے اہواز میں دہشت گردانہ حملہ کے پشت پردہ گروہ
دہشت گرد عناصر کا مقصد مسلح افواج کی پریڈ میں بدامنی پھیلا کر اس کی شان و شوکت گھٹانا تھا۔
9/18/2018
حسینی قیام ہر زمانہ کی یزیدیت سے مقابلہ کا درس دیتا ہے
خدا نے حسین علیہ السلام کا محرم اور اپنا رمضان درحقیقت قلوب کو پاکیزہ اور نورانی کرنے کیلئے پیدا کیا ہے۔
9/17/2018
حضرت امام حسینؑ کی الہٰی تحریک
۶۰ ہجری کا معاشرہ کتابِ خدا اور سنت رسولؐ سے دور اور زمانہ جاہلیت کی بدعتوں کا شکار ہوچکا تھا اور یہی باتیں امام حسین ؑ کے قتل اور واقعہ کربلا کا باعث بنیں۔
9/12/2018
قیادت ورہبری نہج البلاغہ کی روشنی میں
قیادت ورہبری کی ضرورت اتنی واضح اورآشکارہے کہ جس کا کوئی عقل مند انسان انکار نہیں کرسکتا ۔قرآن مجید میں ارشاد خداوندی ہے کہ انما انت منذر ولکلّ قوم ھاد۔ تم صرف ڈرانے والے ہو اورہرقوم کے لیے ایک ہادی...
9/9/2018
قیادت ورہبری نہج البلاغہ کی روشنی میں
قیادت ورہبری کی ضرورت اتنی واضح اورآشکارہے کہ جس کا کوئی عقل مند انسان انکار نہیں کرسکتا ۔قرآن مجید میں ارشاد خداوندی ہے کہ انما انت منذر ولکلّ قوم ھاد۔ تم صرف ڈرانے والے ہو اورہرقوم کے لیے ایک ہادی...
9/4/2018
قیادت ورہبری نہج البلاغہ کی روشنی میں
قیادت ورہبری کی ضرورت اتنی واضح اورآشکارہے کہ جس کا کوئی عقل مند انسان انکار نہیں کرسکتا ۔قرآن مجید میں ارشاد خداوندی ہے کہ انما انت منذر ولکلّ قوم ھاد۔ تم صرف ڈرانے والے ہو اورہرقوم کے لیے ایک ہادی...
8/31/2018
قیادت ورہبری نہج البلاغہ کی روشنی میں
قیادت ورہبری کی ضرورت اتنی واضح اورآشکارہے کہ جس کا کوئی عقل مند انسان انکار نہیں کرسکتا ۔قرآن مجید میں ارشاد خداوندی ہے کہ انما انت منذر ولکلّ قوم ھاد۔ تم صرف ڈرانے والے ہو اورہرقوم کے لیے ایک ہادی...
8/30/2018
عید سعید غدیر کی اہمیت و فضیلت، آداب و اعمال
عید غدیر، اللہ کی عظیم ترین عید ہے اسے عید اللہ الاکبر کہا گیا ہے
8/30/2018
عید غدیر میں کون سے اعمال انجام دیں؟
یوم غدیر اس دن کو کہتے ہیں جس دن رسول خدا (ص) نے علی کو ہادی و رہبر کی حیثیت سے لوگوں کے لئے بلند کیا ۔
8/29/2018
عید غدیر معصومین کی نگاہ میں
یوم غدیر خم میری امت کی با فضیلت ترین عیدوں میں سے ہے ۔
8/6/2018
پاکستان کو فرقہ واریت کی آگ میں جھونکنے والے تکفیری عناصر کا ٹارگٹ اب افغانستان کیوں ؟
ایک زمانہ تھا جب پاکستان سے روز ہی یہ خبر آتی تھی کہ فلاں شیعوں کی مسجد میں دہشت گردو ں نے گھس کر فائرنگ کر دی اور بے گناہ نمازیوں کے خون سے مسجد کو رنگین کر دیا ، کبھی سننے میں آتا کسی امام بارگاہ م...
8/5/2018
ناب محمدی اسلام و نظریہ ولایت فقیہ پر جان قربان کر دی
قائد ملیت اسلامیہ علامہ سید عارف حسین حسینی کی روز شہادت کی مناسبت سے ان کی مختصر زندگی نامہ قارئین کی خدمت میں پیش کی جا رہی ہے ۔
7/25/2018
" زوجین کی علمی کفویت " ہاں یا نہیں ؟
شادی میں "کفویت" کا مسئلہ بہت اہم مسئلہ ہے ، میاں بیوی کی علمی کفویت بھی اس قاعدے اور قانون سے الگ نہیں ہے ، لڑکا لڑکی ایک دوسرے کی ہمسری کے انتخاب میں عام شرائط کے بعد تخصصی معیاروں پر بھی توجہ کریں ...