Web
Analytics
Rasa News ::رسانيوز ايجنسي - معتبر روایت کے مطابق حضرت امام محمد تقی علیہ السلام کو معتصم بن ھارون نے زہر دے کر ماہ ذی القعدہ کے آخری دن (۲۲۰هـ) شہید کیا ۔
Friday, December 14, 2018 -
سرویس : > مقالات
وقت : 8/12/2018-4:05 PM
شناسه خبریں: 436857
 
محمد تقی علیہ السلام کے فضائل و مناقب، علم و دانائی، تہذیب و ادب کم سنی میں ہی لوگوں پر روشن
معتبر روایت کے مطابق حضرت امام محمد تقی علیہ السلام کو معتصم بن ھارون نے زہر دے کر ماہ ذی القعدہ کے آخری دن (۲۲۰هـ) شہید کیا ۔

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق المناک یادوں سے وابستہ اس دن کی آمد پہ ایران و عراق و شیعی علاقہ میں ہر طرف حزن وملال اور سوگ کے آثار نمایاں ہیں ہر طرف سیاہ چادریں اور سیاہ علم آویزاں ہیں ہر چہرہ حضرت امام محمد تقی علیہ السلام کی المناک شہادت اور مصائب کی یاد میں غمگین ہے ۔

حضرت امام محمد تقی علیہ السلام کی مختصر زندگی نامہ :

نام، کنیت اور لقب: آئمہ اہل بیت میں سے نویں امام حضرت محمد بن علی علیہ السلام ہیں۔ آپ کا نام ’’محمد‘‘ ہے اور مشہور لقب ’’تقی‘‘ اور ’’جواد‘‘ ہے اسی وجہ سے آپ کو امام محمد تقی یا امام محمد جواد کہا جاتا ہے۔ آپ کی کنیت ابو جعفر ہے۔

تاریخ ومقام ولادت اور شہادت: آپ کی ولادت باسعادت سن195 ہجری میں ہوئی اور آپ نے سن220 ہجری میں 25سال کی عمر میں جام شہادت نوش کیا۔ آپ نے اپنے والد کے ساتھ 7سال زندگی گزاری اور اپنے والد کی شہادت کے بعد 18سال زندہ رہے۔

والدہ ماجدہ: آپ کی والدہ ام ولد ہیں کہ جن کا نام جناب سکن ہے۔

اولاد: شیخ مفید لکھتے ہیں کہ امام محمد تقی علیہ السلام کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں بیٹے امام علی نقی علیہ السلام اور موسی ہیں جبکہ بیٹیوں کے نام فاطمہ اور امامہ ہیں۔

شیخ مفید سے نقل کیا گیا ہے کہ جب مامون نے دیکھا کہ امام محمد تقی علیہ السلام کے کم سنی میں ہی ظاہر ہونے والے فضائل و مناقب، علم و دانائی، تہذیب و ادب اور عقل کے کمال میں اُس زمانے کا کوئی بھی شخص برابری نہیں کر سکتا تو اس کا دل امام محمد تقی علیہ السلام کے لیے ظاہری طور پر نرم ہو گیا اور اس نے اپنی بیٹی ام فضل کی شادی امام محمد تقی علیہ السلام سے کر دی اور اسے امام کے ساتھ ہی مدینہ بھیج دیا۔

مامون ہمیشہ امام محمد تقی علیہ السلام کی بہت زیادہ تعظیم کرتا۔ عباسیوں نے مامون کو اپنی بیٹی کی شادی امام محمد تقی علیہ السلام سے کرنے سے روکا اور کہا: ہم تمہیں اللہ کا واسطہ دیتے ہیں جس کام کا تم نے ارادہ کیا ہے اسے نہ کرو، ہمیں ڈر ہے کہ کہیں حکومت ہمارے ہاتھ سے نہ نکل جائے اور ہمارے اور ابو طالب کی اولاد کے درمیان جو کچھ ہے اسے تم باخوبی جانتے ہو۔

مامون نے ان کے جواب میں کہا: جو اختلاف و دشمنی تمہارے اور ابوطالب کی اولاد میں ہے اس کا سبب تم خود ہو اگر تم انصاف سے کام لو تو وہ تم سے زیادہ افضل و اولی ہیں، میں نے محمد بن علی(ع) کو اختیار کر لیا ہے کیونکہ وہ اپنی کم سنی کے باوجود تمام اہلِ علم و فضل سے برتر اور افضل ہے عنقریب وہ تمہارے سامنے آئے گا اور پھر تمہیں بھی معلوم ہو جائے گا کہ صحیح فیصلہ وہی ہے جو میں نے کیا ہے۔

عباسیوں نے کہا: وہ تو ابھی کافی چھوٹا ہے اس کے پاس علمی معرفت، فقہ اور سمجھ بوجھ نہیں ہے۔

مامون نے کہا: تمہاری بربادی ہو میں اُسے تم سے زیادہ جانتا ہوں، وہ اہل بیت میں سے ہے اور اہل بیت کا علم اللہ کی طرف سے عطا کردہ ہوتا ہے، اب تک اس کے آباء و اجداد دینی و ادبی علوم میں لوگوں سے بے نیاز ہیں اگر تم چاہتے ہو تو اس کا امتحان لے لو تاکہ تم پر بھی یہ بات واضح ہو جائے۔

عباسیوں نے کہا: ٹھیک ہے ہم اس بات پہ راضی ہیں۔ پھر عباسیوں نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ قاضی القضاۃ یعنی چیف جسٹس یحیی بن اکثم کو امام محمد تقی(ع) کے مقابلے میں لایا جائے۔ مقررہ دن عباسی اپنے قاضي القضاة يحيى بن اكثم کو مامون کے دربار میں لے آئے، جبکہ مامون کے ساتھ امام محمد تقی(ع) تشریف لائے، اس علمی مقابلے کو دیکھنے کے لیے دونوں کے گرد لوگوں کی بہت بڑی تعداد جمع تھی۔

یحیی بن اکثم نے امام محمد تقی(ع) سے پوچھا: احرام کی حالت میں شکار کرنے والے کا کیا کفارہ ہے؟ تو امام محمد تقی(ع) نے اس سے کہا: کیا اس نے حرم کے علاقے میں شکار کو مارا ہے یا حرم کے علاقہ سے باہر ایسا کیا ہے؟ کیا وہ احرام میں شکار کرنے کے حرام ہونے کو جانتا تھا یا اسے اس کا علم نہیں تھا؟ کیا اس نے جان بوجھ کر ارادی طور پر شکار کیا یا اس سے یہ کام غلطی سے ہو گیا؟ احرام میں شکار کرنے والا آزاد تھا یا کسی کا غلام تھا؟ کیا وہ کم سن تھا یا بڑا تھا؟ اس نے پہلی مرتبہ شکار کیا تھا یا بار بار شکار کر چکا تھا؟ شکار پرندہ تھا یا کو ئی اور جانور تھا؟ شکار چھوٹے پرندوں میں سے تھا یا وہ بڑا پرندہ تھا؟ شکار ی شکار کرنے پر مُصِر تھا یا اسے ایسا کرنے پہ شرمندگی تھی؟ اس نے یہ شکار رات میں کیا تھا یا دن میں؟ اس نے حج کے لیے احرام باندھا تھا یا عمرہ کے لیے؟ امام کی گفتگو سننے کے بعد یحییٰ کے ہوش اڑ گئے اُس نے اپنے ذہن میں کبھی اتنی شقیں نہیں سو چی تھیں وہ عاجز اورخاموش ہو گیا۔

مجمع میں اللہ اکبر اور لا الہ الا اللہ کی آوازیں بلند ہونے لگیں، سب پر یہ آشکار ہو گیا کہ اللہ نے اہل بیتbکو علم و حکمت اور دانائی اسی طرح عطا کی ہے جس طرح اُس نے انبیاء اور رسولوں کو عطا کی تھی۔

یہ سب دیکھ کر مامون نے کہا: اِس نعمت اور توفیق پر خدا کی حمد وثنا ہے۔ پھر مامون نے اپنے خاندان والوں کی طرف متوجہ ہو کر کہا: کیا تمہیں اب اُس کی معرفت ہو گئی جس کا تم انکار کر رہے تھے ؟

عباسیوں نے کہا: تم نے جو فیصلہ کیا ہے اس کے بارے میں تم ہم سے زیادہ جانتے ہو۔

مامون نے کہا: یہ جو فضل و کمال تم دیکھ رہے ہو پوری مخلوق میں صرف اس گھرانہ کے افراد کو عطا کیا گیا ہے، ان کی کم سنی ان کے کمالات میں حائل نہیں ہوتی، رسول خدا (ص) نے حضرت علی(ع) کو جب اسلام کی دعوت دی تو وہ دس سال کے تھے رسول خدا (ص) نے حضرت علی(ع) سے ان کے اسلام کو قبول کیا اور ان کے لیے اسلام کا حکم لگایا، جس طرح سے حضرت علی(ع) کو اس کم سنی میں اسلام کی دعوت دی گئی اس طرح سے کسی بھی دوسرے کم سن بچے کو اسلام کی دعوت نہیں دی گئی، امام حسن(ع)اور امام حسین(ع)نے جب بیعت کی تھی تو وہ چھ سال کے بھی نہیں تھے ان دونوں کے علاوہ کسی بچے نے بیعت نہیں کی، کیا تمہیں معلوم نہیں ہے کہ اللہ تعالی نے اس گھرانے کو خاص قرار دیا ہے، ان میں سے بعض ذریت ہیں بعض کی، اور ان کے آخری کے لیے بھی وہی حکم جاری ہوتا ہے جو پہلے کے لیے ہے۔

مامون کے خاندان والوں نے کہا: تم سچ کہتے ہو۔ اللہ تعالی کے اس فرمان: وَآتَيْنَاهُ الْحُكْمَ صَبِيًّا سورۃ مریم آیت12 یعنی: اور ہم نے انھیں (یحیی کو) بچپنے ہی میں نبوت عطا کردی۔ اور قرآن میں مذکور ہے: فَأَشَارَتْ إِلَيْهِ قَالُوا كَيْفَ نُكَلِّمُ مَن كَانَ فِي الْمَهْدِ صَبِيًّا قَالَ إِنِّي عَبْدُ اللَّهِ آتَانِيَ الْكِتَابَ وَجَعَلَنِي نَبِيًّا سورۃ مریم آیت29 یعنی: جناب مریم نے اس بچہ کی طرف اشارہ کردیا تو ان لوگوں نے کہا کہ ہم اس سے کیسے بات کریں جو گہوارے میں بچہ ہے، بچہ نے کہا: میں اللہ کا بندہ ہوں اس نے مجھے کتاب دی ہے اور مجھے نبی بنایا ہے۔ قرآن کی ان آیات کے مطابق کم سنی اور بچپنے میں ہی امامت کے منصب پہ فائز ہونا ممکن ہے کیونکہ اگر یہ محال ہوتا تو یہ انبیاء اور آئمہ دونوں میں ہی محال ہوتا۔

اہل بیت کا چاہنے والا حکمران: ایک دن امام محمد تقی علیہ السلام کے پاس ایک شخص آیا اس نے امام(ع) سے کہا: اے رسول خدا (ص) کے فرزند ہمارا حکمران آپ اہل بیت کا چاہنے والا ہے اور میرے ذمہ اس کے رجسٹر میں خراج وٹیکس دینا ہے اور میں اسے ادا کرنے کی قدرت نہیں رکھتا، اگر آپ مناسب سمجھیں تو اس کو ایک خط لکھ دیں کہ وہ مجھ سے احسان و نیکی سے پیش آئے۔۔۔۔۔ جیساکہ میں نے کہا ہے وہ آپ کے چاہنے والوں میں سے ہے اور اس کے پاس آپ کا خط میرے لیے فائدہ مند ہو گا۔

امام(ع) نے اس حکمران کے نام اپنے خط میں لکھا: بسم اللّه الرحمن الرحيم، ان موصل كتابي هذا اليك ذكر عنك مذهباً جميلاً، وانه ليس لك من عملك إلا ما احسنت، فاحسن إلى اخوانك، واعلم ان اللّه سائلك عن مثاقيل الذر والخردل۔  یعنی:شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا رحم کرنے والا اور بہت مہربان ہے، تمہارے پاس میرے اس خط کے پہنچانے والے نے تمہارے بارے میں اچھے مذہب کا ذکر کیا ہے، تمہاری کی ہوئی نیکی کے علاوہ تمہارا کوئی عمل تمہارے کام نہیں آئے گا، اس لیے اپنے بھائيوں کے ساتھ نیکی سے پیش آؤ اور یاد رکھو اللہ تعالی تم سے سرسوں کے دانے اور ذرے کے برابر چيز کے بارے میں بھی پوچھے گا۔

یہ خط لکھوانے والا شخص کہتا ہے کہ میں اس خط کو اپنے گورنر حسين بن عبد اللہ نيشاپوری کے پاس لے گیا اس نے خط کو چوما، اپنی آنکھوں سے لگایا اور مجھ سے کہا: تمہاری کیا حاجت ہے؟

میں نے کہا: تمہارے ریکارڈ میں میرے ذمہ خراج و ٹیکس ہے۔ یہ سن کر گورنر نے مجھ سے خراج نہ لینے کا حکم جاری کیا اور مجھ سے کہا: جب تک میرے پاس یہ منصب ہے تم خراج نہ دینا، پھر اس نے میرے لیے کچھ مال دینے کا بھی حکم دیا، اور وہ مرتے دم تک میرے ساتھ احسان و نیکی سے پیش آتا رہا۔

میں نے یہ واقعہ ان لوگوں کے لیے لکھا ہے جو اپنے آپ کو اہل بیت کا شیعہ سمجھتے ہیں اور جب انھیں کوئی منصب مل جاتا ہے تو وہ آل رسول (ص) کے ہر چاہنے والے سے ناآشنا بن جاتے ہیں اور یہ بھول جاتے ہیں کہ اہل بیت سے محبت اُن کے چاہنے والوں اور موالین کے لیے اخلاص کا بھی تقاضہ کرتی ہے۔

معتصم کا رویہ: مامون کے مرنے کے بعد جب معتصم خلیفہ بنا تو وہ امام محمد تقی علیہ السلام کو زبردستی بغداد لے آیا اور پھر اُنھیں قتل کرنے کے درپے ہو گیا اور بالآخر اس نے امام محمد تقی(ع) کو زہر سے شہید کروا دیا اور شہادت کے بعد امام محمد تقی(ع) کو اُن کے دادا امام موسی کاظم (ع) کے جوار میں دفنا دیا گیا۔/۹۸۹/ف۹۵۵/

ختم خبر

رسا نیوز ایجنسی

نظریہ
نام :
ایمیل:
پیغام :
مندرجہ ذیل حروف کو باکس میں تحریر کریں:
= ۱۲ + ۱۳
ارسال
تبصرہ
اشاعت: 0
زیر التوا کا جائزہ لینے کے: 0
غیر ریلیز: 0
12/13/2018
غیروں کے ساتھ امیرالمؤمنین علی بن ابی طالب علیہ السلام کا طرزِ معاشرت (قسط اول)
حضرت امیر المؤمنین ؑ کی مبارک زندگی ہر شعبے سے منسلک افراد کے لیے رول ماڈل اوراسوۂ کامل کی حیثیت رکھتی ہے ۔
12/2/2018
مذہب کی آڑ میں ملک کی تباہی کا منصوبہ
امام علی علیہ السلام کی محبت و معرفت کے بغیر کسی بھی مسلمان کا ایمان مکمل نہیں، بلکہ ان کی عنایات کے بغیر انسانیت کا وجود ناقص و بے معنی ہے جس کے بغیر سازِ حیات کے سارے تار بیکار ہیں! اس عظیم ہستی کی ...
11/19/2018
امت واحدہ اور ہفتہ وحدت
امام خمینیؒ چونکہ ایک عظیم روح کے حامل تھے، انہوں نے مسلمانوں کو بیدار کرنے اور پھر متحد کرنیکا بیڑا اٹھایا تھا، وہ استعماری طاقتوں اور سامراجی طاغوتوں کیخلاف سینہ سپر تھے، وہ مستضعفین کی حمایت کا عزم...
11/17/2018
امام حسن عسکری(ع) کی پرمشقت، مختصر زندگی اور شیعوں کی راہنمائی
ہم اگر امام حسن عسکری علیہ السلام کے دور امامت کو دیکھیں تو چھ سال کا مختصر عرصہ ہے اور آپکی پوری زندگی ۲۸ سال میں سمٹی نظر آتی ہے لیکن اس مختصر سی زندگی میں آپ نے اپنے بہت ہی مختصر دور امامت میں اس ط...
11/14/2018
اسرائیل کا وجود عالم اسلام کیلئے ایک سرطان ہے
صیہونیوں سے دوستانہ تعلقات تعلیمات قرآن کے منافی ہے، اگر حکومت نے اسرائیل کے حوالے سے پالیسی میں کسی تبدیلی کی کوشش کی تو ۲۲ کروڑ مسلمان سراپا احتجاج ہوں گے۔
11/14/2018
انسانیت کے تکامل کا انحصار نبی کریم (ص) کے سیرت پر عمل کرنے میں ہے
حضرت ابوذر غفاری فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے اصحاب کے درمیان ایسے تشریف فرما ہوتے تھے کہ اجنبی یہ نہیں پہچان سکتا تھا کہ ان میں رسول اللہ کون ہیں بلکہ اسے آپ کے بارے میں پوچھ...
11/11/2018
سیرت نبی کریم (ص) دنیا و آخرت میں نجات کا وسیلہ ہے
جس طرح رسول اکرم حضرت محمد (ص) کا لایا ہوا پیغام قرآن حکیم کی کتاب کی شکل میں حرف بہ حرف محفوظ ہے اور قیامت تک محفوظ رہے گا اسی طرح آپؐ کی حیات طیبہ بھی واضح و روشن ہے۔
10/22/2018
پاکستان میں ایک جدید خارجیت کا ظہور (۱)
گذشتہ تین دہائیوں میں عالم اسلام میں جو شدت پسند گروہ ظاہر ہوئے، ان میں سے بعض کے ناموں سے ہمارے عوام واقف ہیں، مثلاً القاعدہ، بوکو حرام، لشکر جھنگوی، ٹی ٹی پی اور داعش وغیرہ۔ یہ سب گروہ اپنے مخالفین ...
10/18/2018
قرآن کریم آیات و روایات کے تناظر میں
وہ افراد جو انسانی رشدو ھدایت کے لئے وحیی الٰہی کو اپنا وسیلہ نہیں قرار دیتے ہیں اور اپنی عقل کو ہی اپنی ھدایت کے لئےکافی سمجھتے ہیں وہ کبھی ھدایت نہیں پا سکتے ہیں۔
10/14/2018
معاشرہ کی پیشرفت میں قرآن کریم کی ارزش و اہمیت
قرآن کریم، ہمارے نجات کا علمبردار، درس عبرت، اور ذکر خدا کی کتاب ہے ۔
10/14/2018
روز عاشورہ اور امام حسین علیہ السلام
امام سجادؑ سے یہ مضمون نقل کیا ہے ۔ جوں جوں جنگ کا وقت قریب آ رہا تھا حسین ابن علیؑ اور ان کے خاص اصحاب کی کیفیت یہ تھی کہ ان کے چہروں کے رنگ نکھرتے چلے جا رہے تھے ۔
10/12/2018
امام زین العابدینؑ سے منقول شب عاشور کے واقعات
شب عاشور میرے والد خیمے میں اپنے چند اصحاب کے ہمراہ تشریف فرما تھے اور ابوذر کے غلام جون آپؑ کی تلوار تیز کر رہے تھے۔
10/8/2018
اب پاکستانی قوم کو ثابت کرنا ہے کہ ہم غلام نہیں بلکہ ایک آزاد اور خود مختار ملک ہیں
نواز شریف اب مجرم ہے ملزم نہیں اور اسکی کرپشن اور ملک سے غداری بھی ثابت ہوچکی ہے۔
10/8/2018
امام سجاد کی علمی و ثقافتی سرگرمیوں کے اصول
امام چھارم حضرت علی‌ بن الحسین علیھما السلام اپنی ۳۴ سالہ حیات میں شیعت کو نئی حیات عطا دینے ، دشمن سے غیر مستقیم مقابلہ کرنے اور ثقافتی ، معنوی و الھی معارف کی تبیین میں مصروف رہے ۔
9/25/2018
ایران کے اہواز میں دہشت گردانہ حملہ کے پشت پردہ گروہ
دہشت گرد عناصر کا مقصد مسلح افواج کی پریڈ میں بدامنی پھیلا کر اس کی شان و شوکت گھٹانا تھا۔
9/18/2018
حسینی قیام ہر زمانہ کی یزیدیت سے مقابلہ کا درس دیتا ہے
خدا نے حسین علیہ السلام کا محرم اور اپنا رمضان درحقیقت قلوب کو پاکیزہ اور نورانی کرنے کیلئے پیدا کیا ہے۔
9/17/2018
حضرت امام حسینؑ کی الہٰی تحریک
۶۰ ہجری کا معاشرہ کتابِ خدا اور سنت رسولؐ سے دور اور زمانہ جاہلیت کی بدعتوں کا شکار ہوچکا تھا اور یہی باتیں امام حسین ؑ کے قتل اور واقعہ کربلا کا باعث بنیں۔
9/12/2018
قیادت ورہبری نہج البلاغہ کی روشنی میں
قیادت ورہبری کی ضرورت اتنی واضح اورآشکارہے کہ جس کا کوئی عقل مند انسان انکار نہیں کرسکتا ۔قرآن مجید میں ارشاد خداوندی ہے کہ انما انت منذر ولکلّ قوم ھاد۔ تم صرف ڈرانے والے ہو اورہرقوم کے لیے ایک ہادی...
9/9/2018
قیادت ورہبری نہج البلاغہ کی روشنی میں
قیادت ورہبری کی ضرورت اتنی واضح اورآشکارہے کہ جس کا کوئی عقل مند انسان انکار نہیں کرسکتا ۔قرآن مجید میں ارشاد خداوندی ہے کہ انما انت منذر ولکلّ قوم ھاد۔ تم صرف ڈرانے والے ہو اورہرقوم کے لیے ایک ہادی...
9/4/2018
قیادت ورہبری نہج البلاغہ کی روشنی میں
قیادت ورہبری کی ضرورت اتنی واضح اورآشکارہے کہ جس کا کوئی عقل مند انسان انکار نہیں کرسکتا ۔قرآن مجید میں ارشاد خداوندی ہے کہ انما انت منذر ولکلّ قوم ھاد۔ تم صرف ڈرانے والے ہو اورہرقوم کے لیے ایک ہادی...