Web
Analytics
Rasa News ::رسانيوز ايجنسي - عید غدیر میں کون سے اعمال انجام دیں؟
Monday, December 10, 2018 -
سرویس : > مقالات
وقت : 8/30/2018-12:05 PM
شناسه خبریں: 437015
 
عید غدیر (قسط سوم)
عید غدیر میں کون سے اعمال انجام دیں؟
یوم غدیر اس دن کو کہتے ہیں جس دن رسول خدا (ص) نے علی کو ہادی و رہبر کی حیثیت سے لوگوں کے لئے بلند کیا ۔

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق جو شخص غدیر کے دن زوال شمس کے وقت اس سے پہلے کہ آدھا گھنٹہ زوال کا گذر جائے غسل کرے اور دو رکعت نماز پڑھے خدا کے نزدیک اس کا اجر ایک لاکھ حج و عمرہ مقبول کے برابر ہے ۔

1۔ بیغام ولایت عام کریں۔

قال رسول اللہ (ص): قَالَ يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ‏ لِيُبَلِّغِ‏ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ‏ أُوصِي مَنْ آمَنَ بِي وَ صَدَّقَنِي بِوَلَايَةِ عَلِيٍّ أَلَا أَنَّ وَلَايَةَ عَلِيٍّ وَلَايَتِي وَ وَلَايَتِي وَلَايَةُ رَبِّي عَهْداً عَهِدَهُ إِلَيَّ رَبِّي وَ أَمَرَنِي أَنْ أُبَلِّغَكُمُوه‏۔

اے لوگو! حاضر غائب کو با خبر کرے: جو مجھ پر ایمان لایا اور جس نے میری تصدیق کی اسے میں علی کی ولایت کی وصیت کرتا ہوں، جان لوکہ علی کی ولایت میری ولایت ہے اور میری ولایت میرے رب کی ولایت ہے۔ یہ ایسا عہد و پیمان جسے میرے پروردگار نے مجھ لیا ہے اور حکم دیا ہے کہ اس پیغام کو تم تک پہونچاؤں۔

تفسير العياشي، ج‏1، ص334، [سورة المائدة(5): آيت 67]؛ البرهان في تفسير القرآن،ج‏2، ص338، [سورة المائدة(5): آية 67]؛ بحار الأنوار (ط ۔ بيروت)، ج‏37،ص141۔

2۔ اطعام کریں

حضرت امام صادق(ع): ۔۔۔۔وَ إِنَّهُ‏ الْيَوْمُ‏ الَّذِي‏ أَقَامَ‏ رَسُولُ‏ اللَّهِ‏ ص عَلِيّاً لِلنَّاسِ عَلَماً وَ أَبَانَ فِيهِ فَضْلَهُ وَ وَصِيَّهُ فَصَامَ شُكْراً لِلَّهِ تَبَارَكَ وَ تَعَالَى ذَلِكَ الْيَوْمِ وَ إِنَّهُ لَيَوْمُ صِيَامٍ وَ قِيَامٍ وَ إِطْعَامٍ وَ صِلَةِ الْإِخْوَان‏۔

اور یوم غدیر اس دن کو کہتے ہیں جس دن رسول خدا (ص) نے علی کو ہادی و رہبر کی حیثیت سے لوگوں کے لئے بلند کیا اور اس دن ان کی عظمت کو واضح کیا اور وصی کے عنوان سے پہچنوایا اس کے بعد اس دن خدا کے شکر کے لئے روزہ رکھا اور یہ دن روزہ رکھنے، عبادت کرنے اور 👈کھانا کھلانے اور مومن بھائیوں کی زیارت کا دن ہے۔

إقبال الأعمال (ط ۔ القديمة)، ج‏1، ص466؛ وسائل الشيعة، ج‏10، ص446، باب استحباب صوم يوم الغدير و هو الثامن عشر ذي الحجة۔

3۔ ہدیہ دیں

حضرت امیرالمومنین (ع): ۔۔۔۔۔ إِذَا تَلَاقَيْتُمْ‏ فَتَصَافَحُوا بِالتَّسْلِيمِ‏ وَ تَهَانَوُا النِّعْمَةَ فِي هَذَا الْيَوْمِ وَ لْيُبَلِّغِ الْحَاضِرُ الْغَائِبَ وَ الشَّاهِدُ الْبَائِنَ وَ لْيَعُدِ الْغَنِيُّ عَلَى الْفَقِيرِ وَ الْقَوِيُّ عَلَى الضَّعِيفِ أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ ص بِذَلِك‏۔۔

اور جب ایک دوسرے سے ملاقات کرو! سلام کے ساتھ مصافحہ کرو اور 👈اس دن ایک دوسرے کو ہدیہ پیش کرو اور اس بات کو حاضر جس نے سنا ہے جو نہیں تھا اس تک پہونچائے اور امیر فقیر کی مدد کو جائے اور مضبوط کمزور کی نصرت کے لئے، رسول خدا(ص) نے مجھے اس کا حکم دیا ہے۔

مصباح المتهجد و سلاح المتعبد،ج‏2، ص758، خطبة أمير المؤمنين ع في يوم الغدير؛ وسائل الشيعة، ج‏10، ص445، باب استحباب صوم يوم الغدير و هو الثامن عشر ذي الحجة۔

4۔ خوشی منائیں

فُرَاتِ بْنِ أَحْنَفَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع فِي حَدِيثٍ‏ فِي فَضْلِ يَوْمِ الْغَدِيرِ قَالَ قُلْتُ:۔ فَمَا يَنْبَغِي لَنَا أَنْ نَعْمَلَ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ قَالَ هُوَ يَوْمُ عِبَادَةٍ وَ صَلَاةٍ وَ شُكْرٍ لِلَّهِ وَ حَمْدٍ لَهُ وَ سُرُورٍ لِمَا مَنَ‏ اللَّهُ‏ بِهِ‏ عَلَيْكُمْ‏ مِنْ‏ وَلَايَتِنَا وَ إِنِّي أُحِبُّ لَكُمْ أَنْ تَصُومُوه‏

عرض کیا پھر اس دن ہمیں کیا کرنا چاہئے؟ فرمایا: عید غدیر عبادت، نماز، شکر اور حمد خدا کادن ہے اور ہماری ولایت پر جس کے ذریعہ خدا نے تم پر احسان کیا ہے 👈خوشی منانے کا دن ہے اور میں چاہتا ہوں اس دن تم روزہ رکھو۔ وسائل الشيعة،ج‏10، ص446، باب استحباب صوم يوم الغدير۔۔؛ تفسير فرات الكوفي، ص118، [سورة المائدة(5): آية 3]۔

5۔  تبریک پیش کریں، مسکرائیں

عن الرضا (ع): وَ هُوَ يَوْمُ‏ التَّهْنِيَةِ يُهَنِّي‏ بَعْضُكُمْ‏ بَعْضاً فَإِذَا لَقِيَ الْمُؤْمِنُ أَخَاهُ يَقُولُ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَنَا مِنَ الْمُتَمَسِّكِينَ بِوَلَايَةِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ وَ الْأَئِمَّةِ ع وَ هُوَ يَوْمُ التَّبَسُّمِ فِي وُجُوهِ النَّاسِ مِنْ أَهْلِ الْإِيمَان‏۔۔۔

اور یوم غدیر یوم تبریک و تہنیت ہے،👈ایک دوسرے کو تبریک پیش کریں اور جب بھی کوئی مومن برادر ایمانی سے ملاقات کرے، کہے: الحمد۔۔۔ ساری تعریفیں اس اللہ کے لئے جس نے ہمیں ولایت امیر المومنین (ع) اور ائمہ سے تمسک اختیار کرنے والوں میں قرار دیا۔ اور وہ دن مومنین کے مسکرانے کا دن ہے۔

إقبال الأعمال (ط ۔ القديمة)،ج‏1،ص464؛ زاد المعاد ۔ مفتاح الجنان،ص204، الفصل الرابع في فضائل و أعمال ليلة و يوم عيد الغدير۔

6۔ روزہ رکھیں

ابْنِ رَاشِدٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ: قُلْتُ جُعِلْتُ‏ فِدَاكَ‏ لِلْمُسْلِمِينَ‏ عِيدٌ غَيْرَ الْعِيدَيْنِ‏ قَالَ نَعَمْ يَا حَسَنُ أَعْظَمُهُمَا وَ أَشْرَفُهُمَا قُلْتُ وَ أَيُّ يَوْمٍ هُوَ قَالَ هُوَ يَوْمٌ نُصِبَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ صَلَوَاتُ اللَّهِ وَ سَلَامُهُ عَلَيْهِ فِيهِ عَلَماً لِلنَّاسِ قُلْتُ جُعِلْتُ فِدَاكَ وَ مَا يَنْبَغِي لَنَا أَنْ نَصْنَع‏ فِيهِ قَالَ تَصُومُهُ يَا حَسَنُ۔

حسن بن راشد سے کہتے ہیں: میں نے حضرت امام صادق(ع) سے عرض کیا: کیا مسلمانوں کے لئے دو عیدوں کے علاوہ بھی کوئی عید ہے؟ فرمایا: ہاں اے حسن! ان دونوں سے بڑھ کر اور ان سے زیادہ منزلت والی، عرض کیا: وہ کون سا دن ہے؟ فرمایا: جس دن امیر المومنین(ع) کو ہادی کے عنوان سے منصوب کیا گیا۔ عرض کیا: آپ پر قربان جاؤں! ہمیں اس دن کیا انجام دینا چاہئے؟ فرمایا: اے حسن اس دن روزہ رکھو

7۔ کثرت سے صلوات پڑھیں وَ تُكْثِرُ الصَّلَاةَ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ  اور زیادہ سے زیادہ محمد و آل محمد(ص) پر صلوات بھیجو۔

8۔ اہل بیت پر ظلم کرنے والوں سے اظہار برأت کریں۔

وَ تَبَرَّأُ إِلَى اللَّهِ مِمَّنْ ظَلَمَهُم‏ فَإِنَّ الْأَنْبِيَاءَ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ كَانَتْ تَأْمُرُ الْأَوْصِيَاءَ بِالْيَوْمِ الَّذِي كَانَ يُقَامُ فِيهِ الْوَصِيُّ أَنْ يُتَّخَذَ عِيداً قَالَ قُلْتُ فَمَا لِمَنْ صَامَهُ قَالَ صِيَامُ سِتِّينَ شَهْراً۔۔۔۔۔۔۔

اور ان پر ظلم کرنے والوں سے اظہار برأت کرو ۔اس لئے کہ انبیاء علیہم السلام اپنے جانشینوں کو حکم دیتے تھے کہ جس دن وصی کا انتخاب ہو عید منائیں۔ عرض کیا: جو اس دن روزہ رکھے اس کا اجر کیا ہے؟ فرمایا:

ساٹھ مہینوں کے روزہ کا ثواب۔۔۔۔۔

الكافي (ط ۔ الإسلامية)،ج‏4، ص148؛ تهذيب الأحكام (تحقيق خرسان)،ج‏4، ص305؛ مصباح المتهجد و سلاح المتعبد،ج‏2، ص736۔

9۔ عقد اخوت و برادری:

  صیغۂ اخوت پڑھنے کا طریقہ یہ ہے :

اپنے داہنے ہاتھ کو اپنے مو من بھا ئی کے داہنے ہاتھ پر رکھ کر کہو :

وآخَیتُکَ فِی اللہِ وصَافَیتُکَ فِی اللہِ وصَافَحْتُکَ فِی اللہِ وعَاھَدْتُ االلہَ وملا ئِکتَہ و کُتُبَہٗ وَ رُسُلَہٗ وَ اَنْبِیَائَہٗ والا ئِمۃَ الْمَعصُومِینَ علیھِمُ السَّلامِ عَلٰی اَنِّی اِنْ کُنْتُ مِنْ اَھْلِ الجَنَّۃِ وَالشَّفَاعَۃِ وَاُذِنَ لِیْ بِاَنْ اَدخُلَ الْجَنَّۃَ لا اَدْخُلُھَا اِلّا وَاَنْتَ مَعِیْ۔

پھر برادر مومن کہے :قبِلتُ  اس کے بعد کہے : اَسْقَطْتُ عَنْکَ جَمِیْعَ حُقُوْقِ الْاُخُوَّۃِ مَاخَلا الشَّفَاعَۃَ وَالدُّعَاءَ وَالزِّیَارَۃَ ۔

یوم غدیر کے روزے کا ثواب

سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ الصَّادِقَ ع يَقُولُ‏ صِيَامُ‏ يَوْمِ‏ غَدِيرِ خُمٍ‏ يَعْدِلُ‏ صِيَامَ‏ عُمُرِ الدُّنْيَا لَوْ عَاشَ إِنْسَانٌ ثُمَّ صَامَ مَا عَمَرَتِ الدُّنْيَا لَكَانَ لَهُ ثَوَابُ ذَلِكَ وَ صِيَامُهُ يَعْدِلُ عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ فِي كُلِّ عَامٍ مِائَةَ حَجَّةٍ وَ مِائَةَ عُمْرَةٍ مَبْرُورَاتٍ مُتَقَبَّلَات‏۔۔۔۔

عبدی سے روایت ہے کہ: میں نے امام صادق علیہ السلام سے سنا کہ یوم غدیر کا روزہ تمام عمر کے روزہ کے برابر ہے یعنی ایک انسان ہمیشہ زندہ رہے ساری عمر روزہ رکھتا رہے اس کا ثواب ایک عید غدیر کے روزہ کے برابر ہے اور خدا کے نزدیک اس کا روزہ ہرسال سو حج و عمرہ مبرورہ و مقبولہ کے برابر ہے۔ تهذيب الأحكام (تحقيق خرسان)، ج‏3، ص143، 7 ۔ باب صلاة الغدير ۔

9۔ نماز عید غدیر پڑھیں

سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ الصَّادِقَ ع يَقُول‏۔۔۔۔۔۔۔۔ مَنْ صَلَّى فِيهِ رَكْعَتَيْنِ يَغْتَسِلُ عِنْدَ زَوَالِ الشَّمْسِ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَزُولَ مِقْدَارَ نِصْفِ سَاعَةٍ يَسْأَلُ اللَّهَ عَزَّ وَ جَلَّ يَقْرَأُ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ سُورَةَ الْحَمْدِ مَرَّةً وَ عَشْرَ مَرَّاتٍ‏ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ وَ عَشْرَ مَرَّاتٍ آيَةَ الْكُرْسِيِّ وَ عَشْرَ مَرَّاتٍ‏ إِنَّا أَنْزَلْناهُ‏ عَدَلَتْ عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ مِائَةَ أَلْفِ حَجَّةٍ وَ مِائَةَ أَلْفِ عُمْرَةٍ وَ مَا سَأَلَ اللَّهَ عَزَّ وَ جَلَّ حَاجَةً مِنْ حَوَائِجِ الدُّنْيَا وَ حَوَائِجِ الْآخِرَةِ إِلَّا قُضِيَت‏۔

جو شخص غدیر کے دن زوال شمس کے وقت اس سے پہلے کہ آدھا گھنٹہ زوال کا گذر جائے غسل کرے اور دو رکعت نماز پڑھے اس طرح کہ ہر رکعت میں ایک بار سورہ حمد اور دس مرتبہ سورہ توحید اور دس مرتبہ آیۃ الکرسی اور دس مرتبہ انا انزلناہ پڑھے خدا کے نزدیک اس کا اجر ایک لاکھ حج و عمرہ مقبول کے برابر ہے اور خدا سے کوئی بھی دنیاوی اور اخروی حاجت طلب نہیں کی جاتی سوائے یہ کہ بارگاہ الہی میں قبول ہوتی ہے۔

تهذيب الأحكام (تحقيق خرسان)، ج‏3، ص143؛ الوافي،ج‏9، ص1402؛ وسائل الشيعة،ج‏8، ص89، باب استحباب صلاة يوم الغدير۔۔

اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَّآلِ مُحَمَّدٍ وَّعَجِّلْ فَرَجَهُمْ۔/۹۸۹/ف۹۵۵/

ختم خبر

رسا نیوز ایجنسی

نظریہ
نام :
ایمیل:
پیغام :
مندرجہ ذیل حروف کو باکس میں تحریر کریں:
= ۱۴ + ۱
ارسال
تبصرہ
اشاعت: 0
زیر التوا کا جائزہ لینے کے: 0
غیر ریلیز: 0
12/2/2018
مذہب کی آڑ میں ملک کی تباہی کا منصوبہ
امام علی علیہ السلام کی محبت و معرفت کے بغیر کسی بھی مسلمان کا ایمان مکمل نہیں، بلکہ ان کی عنایات کے بغیر انسانیت کا وجود ناقص و بے معنی ہے جس کے بغیر سازِ حیات کے سارے تار بیکار ہیں! اس عظیم ہستی کی ...
11/19/2018
امت واحدہ اور ہفتہ وحدت
امام خمینیؒ چونکہ ایک عظیم روح کے حامل تھے، انہوں نے مسلمانوں کو بیدار کرنے اور پھر متحد کرنیکا بیڑا اٹھایا تھا، وہ استعماری طاقتوں اور سامراجی طاغوتوں کیخلاف سینہ سپر تھے، وہ مستضعفین کی حمایت کا عزم...
11/17/2018
امام حسن عسکری(ع) کی پرمشقت، مختصر زندگی اور شیعوں کی راہنمائی
ہم اگر امام حسن عسکری علیہ السلام کے دور امامت کو دیکھیں تو چھ سال کا مختصر عرصہ ہے اور آپکی پوری زندگی ۲۸ سال میں سمٹی نظر آتی ہے لیکن اس مختصر سی زندگی میں آپ نے اپنے بہت ہی مختصر دور امامت میں اس ط...
11/14/2018
اسرائیل کا وجود عالم اسلام کیلئے ایک سرطان ہے
صیہونیوں سے دوستانہ تعلقات تعلیمات قرآن کے منافی ہے، اگر حکومت نے اسرائیل کے حوالے سے پالیسی میں کسی تبدیلی کی کوشش کی تو ۲۲ کروڑ مسلمان سراپا احتجاج ہوں گے۔
11/14/2018
انسانیت کے تکامل کا انحصار نبی کریم (ص) کے سیرت پر عمل کرنے میں ہے
حضرت ابوذر غفاری فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے اصحاب کے درمیان ایسے تشریف فرما ہوتے تھے کہ اجنبی یہ نہیں پہچان سکتا تھا کہ ان میں رسول اللہ کون ہیں بلکہ اسے آپ کے بارے میں پوچھ...
11/11/2018
سیرت نبی کریم (ص) دنیا و آخرت میں نجات کا وسیلہ ہے
جس طرح رسول اکرم حضرت محمد (ص) کا لایا ہوا پیغام قرآن حکیم کی کتاب کی شکل میں حرف بہ حرف محفوظ ہے اور قیامت تک محفوظ رہے گا اسی طرح آپؐ کی حیات طیبہ بھی واضح و روشن ہے۔
10/22/2018
پاکستان میں ایک جدید خارجیت کا ظہور (۱)
گذشتہ تین دہائیوں میں عالم اسلام میں جو شدت پسند گروہ ظاہر ہوئے، ان میں سے بعض کے ناموں سے ہمارے عوام واقف ہیں، مثلاً القاعدہ، بوکو حرام، لشکر جھنگوی، ٹی ٹی پی اور داعش وغیرہ۔ یہ سب گروہ اپنے مخالفین ...
10/18/2018
قرآن کریم آیات و روایات کے تناظر میں
وہ افراد جو انسانی رشدو ھدایت کے لئے وحیی الٰہی کو اپنا وسیلہ نہیں قرار دیتے ہیں اور اپنی عقل کو ہی اپنی ھدایت کے لئےکافی سمجھتے ہیں وہ کبھی ھدایت نہیں پا سکتے ہیں۔
10/14/2018
معاشرہ کی پیشرفت میں قرآن کریم کی ارزش و اہمیت
قرآن کریم، ہمارے نجات کا علمبردار، درس عبرت، اور ذکر خدا کی کتاب ہے ۔
10/14/2018
روز عاشورہ اور امام حسین علیہ السلام
امام سجادؑ سے یہ مضمون نقل کیا ہے ۔ جوں جوں جنگ کا وقت قریب آ رہا تھا حسین ابن علیؑ اور ان کے خاص اصحاب کی کیفیت یہ تھی کہ ان کے چہروں کے رنگ نکھرتے چلے جا رہے تھے ۔
10/12/2018
امام زین العابدینؑ سے منقول شب عاشور کے واقعات
شب عاشور میرے والد خیمے میں اپنے چند اصحاب کے ہمراہ تشریف فرما تھے اور ابوذر کے غلام جون آپؑ کی تلوار تیز کر رہے تھے۔
10/8/2018
اب پاکستانی قوم کو ثابت کرنا ہے کہ ہم غلام نہیں بلکہ ایک آزاد اور خود مختار ملک ہیں
نواز شریف اب مجرم ہے ملزم نہیں اور اسکی کرپشن اور ملک سے غداری بھی ثابت ہوچکی ہے۔
10/8/2018
امام سجاد کی علمی و ثقافتی سرگرمیوں کے اصول
امام چھارم حضرت علی‌ بن الحسین علیھما السلام اپنی ۳۴ سالہ حیات میں شیعت کو نئی حیات عطا دینے ، دشمن سے غیر مستقیم مقابلہ کرنے اور ثقافتی ، معنوی و الھی معارف کی تبیین میں مصروف رہے ۔
9/25/2018
ایران کے اہواز میں دہشت گردانہ حملہ کے پشت پردہ گروہ
دہشت گرد عناصر کا مقصد مسلح افواج کی پریڈ میں بدامنی پھیلا کر اس کی شان و شوکت گھٹانا تھا۔
9/18/2018
حسینی قیام ہر زمانہ کی یزیدیت سے مقابلہ کا درس دیتا ہے
خدا نے حسین علیہ السلام کا محرم اور اپنا رمضان درحقیقت قلوب کو پاکیزہ اور نورانی کرنے کیلئے پیدا کیا ہے۔
9/17/2018
حضرت امام حسینؑ کی الہٰی تحریک
۶۰ ہجری کا معاشرہ کتابِ خدا اور سنت رسولؐ سے دور اور زمانہ جاہلیت کی بدعتوں کا شکار ہوچکا تھا اور یہی باتیں امام حسین ؑ کے قتل اور واقعہ کربلا کا باعث بنیں۔
9/12/2018
قیادت ورہبری نہج البلاغہ کی روشنی میں
قیادت ورہبری کی ضرورت اتنی واضح اورآشکارہے کہ جس کا کوئی عقل مند انسان انکار نہیں کرسکتا ۔قرآن مجید میں ارشاد خداوندی ہے کہ انما انت منذر ولکلّ قوم ھاد۔ تم صرف ڈرانے والے ہو اورہرقوم کے لیے ایک ہادی...
9/9/2018
قیادت ورہبری نہج البلاغہ کی روشنی میں
قیادت ورہبری کی ضرورت اتنی واضح اورآشکارہے کہ جس کا کوئی عقل مند انسان انکار نہیں کرسکتا ۔قرآن مجید میں ارشاد خداوندی ہے کہ انما انت منذر ولکلّ قوم ھاد۔ تم صرف ڈرانے والے ہو اورہرقوم کے لیے ایک ہادی...
9/4/2018
قیادت ورہبری نہج البلاغہ کی روشنی میں
قیادت ورہبری کی ضرورت اتنی واضح اورآشکارہے کہ جس کا کوئی عقل مند انسان انکار نہیں کرسکتا ۔قرآن مجید میں ارشاد خداوندی ہے کہ انما انت منذر ولکلّ قوم ھاد۔ تم صرف ڈرانے والے ہو اورہرقوم کے لیے ایک ہادی...
8/31/2018
قیادت ورہبری نہج البلاغہ کی روشنی میں
قیادت ورہبری کی ضرورت اتنی واضح اورآشکارہے کہ جس کا کوئی عقل مند انسان انکار نہیں کرسکتا ۔قرآن مجید میں ارشاد خداوندی ہے کہ انما انت منذر ولکلّ قوم ھاد۔ تم صرف ڈرانے والے ہو اورہرقوم کے لیے ایک ہادی...