Web
Analytics
Rasa News ::رسانيوز ايجنسي - قیادت ورہبری نہج البلاغہ کی روشنی میں
Monday, December 10, 2018 -
سرویس : > مقالات
وقت : 8/31/2018-8:28 AM
شناسه خبریں: 437025
 
قسط اول :
قیادت ورہبری نہج البلاغہ کی روشنی میں
قیادت ورہبری کی ضرورت اتنی واضح اورآشکارہے کہ جس کا کوئی عقل مند انسان انکار نہیں کرسکتا ۔قرآن مجید میں ارشاد خداوندی ہے کہ انما انت منذر ولکلّ قوم ھاد۔ تم صرف ڈرانے والے ہو اورہرقوم کے لیے ایک ہادی اوررہبرہے ۔

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق روایات میں حضرت علی علیہ السلام کو جنت میں جانے والوں کا قائد بیان کیا گیا ہے جیسے پیغمبر اکرم  (صلی الله علیه و آله وسلم) کا ارشاد گرامی ہے  قائد الامۃ الی الجنۃ ، یا دوسری تعبیر ہے کہ   معراج کے موقع پر پیغمبراکرم  (ص) کو ایک قصر دکھایا گیا اوروحی کی گئی کہ یہ قصر حضرت علی علیہ السلام کاہے کیونکہ ان میں یہ تین صفات پائی جاتی ہیں (انہ سید للمسلمین وامام المتقین و قائد الغرالمحجلین)

اور اس مختصر تحریر میں مراد قیادت  کا عمومی معنی حکمرانی  اوررہبری ہے اورحکمران بھی، یقینایہ حکمران اوررہبر ایک قسم کا قائد ہے جو پوری قوم کی کشتی کو سعادت اورخوشبختی کے ساحل پر بھی لاسکتا ہے اور قوم کی بدبختی کا سبب بھی بن سکتا ہے اس لیے ہم زیادہ تر رہبر اورحاکم جیسے الفاظ سے استفادہ کریں گے  ۔ یعنی  ایک کلی معنی کرتے ہوئے رہبر اورقائد وہی حاکم اورپیشوا ہیں اوریہ مترادف الفاظ ہیں ۔

اظہاریہ :

قرآن کے بعد اسلامی کتب میں سب سے زیادہ اہمیت کی حامل کتاب نہج البلاغہ ہے کہ جس کے مطالب زمانے میں رونما ہونے والے حالات کے ساتھ باہمی سازگاری کی وجہ سے آج بھی اتنی  تروتازگی اورجذابیت کے حامل ہیں کہ جوتقریبا چودہ سو سال پہلے تھے ۔ ان مطالب کی جاودانی اور جذابیت پرنہ ہی   تاریخ میں رونما ہونے والے حالات کے مدوجذر  اپنا اثرچھوڑسکے اورنہ ہی دشمنی اورعداوت کے شعلوں کی تمازت نے اثر ڈالا ۔بلکہ اس کے برعکس ان مطالب میں حقانیت پر مبنی اورموجود اخلاقی ،انسانی اورالہی اصولوں کی مہکتی خوشبو نے نہ تنھا اپنے گلستان میں بسنے والوں کو معطر کیا بلکہ کوسوں دوربسنے والوں نے بھی بنی آدم کے لیے بنائے جانے والے قانون کی بنیاد اوراساس  اسی کتاب کےایک خط کو قراردیا،کہ جو اس کی عظمت کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔

مختلف موضوعا ت پر موجود مطالب کے بحرعمیق میں ایک موضوع جس پر مولائے کائنات حضرت علی علیہ السلام نے مختلف زاویوں سے اس کے خدوخال کو واضح کرکے، انسان کو مطالب کے عظیم سمندر کے سامنے لاکھڑا کیا ہے ، وہ ہے معاشرے کی قیادت اوررہبری۔ امام علی علیہ السلام نے اس موضوع سے متعلق مختلف تعبیروں جیسے امامت ، امارت ، حکومت ، ولایت ، قیادت ، خلافت اوران جیسے دوسرے مشتقات کے ذریعے وسیع پیمانے پر بحث کی ہے اوراس موضوع کی اہمیت کو بیان کیا ہے اورایسے سنہری اصول بیان کیے ہیں کہ اگر کوئی معاشرہ ان پر عمل پیراہوجائے تویقینا وہ معاشرہ کسی جنت سے کم نہیں ہوگا ۔

اس مختصر تحریر میں اسی موضوع پر حضرت علی علیہ السلام کے کلام کی روشنی میں مختلف زاویوں سے بحث کی گئی ہے اور حضرت علی علیہ السلام کے کلام پر مشتمل جامع اورکامل کتاب یعنی نہج البلاغہ کو تحقیق کا مرکز دیتے ہوئے اوراس سے استفادہ کرتے ہوئے لکھا گیا ہے ۔

باب اول

(۱):قیادت ورہبری کا معنی

قیادت عربی زبان کا لفظ ہے جو قود  سے لیا گیا ہے یعنی کسی کے آگے چلنا ،رہبری  اور راہنمائی کرنا وغیرہ، جیسے کہا جاتاہے، قیادۃ الجیش یعنی لشکر کی کمانڈاوررہبری کرنا یا قائد الجیش یعنی آرمی کمانڈروغیرہ  جو ایک آرمی کا کمانڈر،راہنما اوررہبرہوتا ہے ۔

روایات میں حضرت علی علیہ السلام کو جنت میں جانے والوں کا قائد بیان کیا گیا ہے جیسے پیغمبر اکرم  (صلی الله علیه و آله وسلم) کا ارشاد گرامی ہے  قائد الامۃ الی الجنۃ ، یا دوسری تعبیر ہے کہ   معراج کے موقع پر پیغمبراکرم  (صلی الله علیه و آله وسلم) کو ایک قصر دکھایا گیا اوروحی کی گئی کہ یہ قصر حضرت علی علیہ السلام کاہے کیونکہ ان میں یہ تین صفات پائی جاتی ہیں (انہ سید للمسلمین وامام المتقین و قائد الغرالمحجلین )[1]

اوراس مختصر تحریر میں مراد قیادت  کا عمومی معنی حکمرانی  اوررہبری ہے اورحکمران بھی، یقینایہ حکمران اوررہبر ایک قسم کا قائد ہے جو پوری قوم کی کشتی کو سعادت اورخوشبختی کے ساحل پر بھی لاسکتا ہے اور قوم کی بدبختی کا سبب بھی بن سکتا ہے اس لیے ہم زیادہ تر رہبر اورحاکم جیسے الفاظ سے استفادہ کریں گے  ۔یعنی  ایک کلی معنی کرتے ہوئے رہبر اورقائد وہی حاکم اورپیشوا ہیں اوریہ مترادف الفاظ ہیں ۔

 (۲):قیادت ورہبری کی اہمیت امام علی علیہ السلام کی نگاہ میں

قیادت ورہبری کی ضرورت اتنی واضح اورآشکارہے کہ جس کا کوئی عقل مند انسان انکار نہیں کرسکتا ۔قرآن مجید میں ارشاد خداوندی ہے کہ انما انت منذر ولکلّ قوم ھاد۔[2]تم صرف ڈرانے والاہو اورہرقوم کے لیے ایک ہادی اوررہبرہے ۔

اسی طرح قرآن ناطق نے بھی نہج البلاغہ میں اس کی ضرورت اوراہمیت کو تقریبا ۶۹مقامات پر واشگاف الفاظ میں بیان کیا ہے ،حضرت علی علیہ السلام انسانی معاشرے میں صالح رہبر ی اورقیادت کی اہمیت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتےہیں: انہ لابدللناس من امیر بر  او  فاجر یعمل فی امرتہ المومن ویستمتع فیھا الکافر ویبلغ اللہ فیھا الاجل ویجمع بہ الفی ء ویقاتل بہ العدو وتامن بہ السبل ویؤخذبہ للضعیف من القوی حتی یستریح بر ویستراح من فاجر ۔[3]

حالانکہ کھلی ہوئی بات ہے کہ نظام انسانیت کے لیے ایک حاکم کا ہونا بہرحال ضروری ہے چاہے نیک کردارہویا فاسق کہ حکومت کے زیرسایہ ہی مومن کو کام کرنے کا موقع مل سکتا ہے اورکافر بھی مزے اڑا سکتا ہے اور اللہ ہر چیز کو اس کی آخری حد تک پہنچا دیتا ہے اورمال غنیمت وخراج وغیرہ جمع کیا جاتا ہے اوردشمنوں سے جنگ کی جاتی ہے اورراستوں کومحفوظ کیا جاتاہے ،طاقتور سے کمزور کا حق لیاجاتاہے تاکہ نیک کردار انسان کو راحت ملے اوربدکردار انسان سے آسایش میں ہوں ۔[4]

اگرچہ امیرالمومنین کا یہ بیان ظاہرا خوارج کے اس پوچ عقیدہ کی نفی کے لیے بیان کیا گیا جو ان کے ذہن میں تھا کہ لاحکم الا للہ ۔لیکن حقیت یہ ہے کہ علی علیہ السلام نے اس مختصر عبارت میں رہبری اورقیادت کی اہمیت کوواضح  کرنے کے لیے ایک سنہری اصول دیا ہے کہ انسان ایک معاشرتی اوراجتماعی موجود ہے جورہبری اورقیادت کے بغیر نہیں جی سکتا ہاں حکمرانوں اوررہبروں میں فرق ہے کبھی رہبر اورحاکم صالح افراد ہوتے ہیں اورکبھی فاسق اورفاجر ۔حضرت علی علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں :

اماالامرۃ البرۃ فیعمل فیھا التقی واماالامرۃ الفاجرۃ فیتمتع فیھا الشقی[5] صالح اورنیک قیادت کے سائے میں نیک لوگ اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے پوری کرتے ہیں اورفاجر اورفاسق قیادت میں شقی اوربدبخت لوگ استفادہ کرتےہیں ۔

مذکورہ بالامطالب کا مطلب یہ ہے کہ انسانی معاشرہ میں رہبری اورقیادت ایک ضروری  امر ہے اگر ایک صالح اورظلم وستم سے پاکیزہ قیادت میسر نہ ہوتو یقینا ایک فاسد حکومت قائم ہوجائے گی جس طرح کہ خود خوارج نے امام علی علیہ السلام کی قیادت اوررہبری کو ٹھکرایا اورذوالثدیہ کی حکمرانی کے چنگل میں پھنس کر برحق امام کے خلاف شورش کردی اوربعد میں بھی کسی رہبر اورحکمران کے بغیر نہ رہ سکے جو قیادت اوررہبری کی اہمیت کی روشن مثال ہے ۔

قیادت ورہبری کی اہمیت واضح کرنے کے لیے مولائے متقیان کے یہ بیانات کافی ہیں البتہ اس نکتہ کی طرف توجہ کرنا بھی فایدہ سے خالی نہیں ہے کہ عصرحاضر میں بعض مغربی مفکرین  جیسے مارکس وبر،نے حکومت اورسیاسی نظام کے ایک پہلو کی طرف توجہ کرنے کی وجہ سے  واضح  غلطی کا شکارہواہےاور حکومت اورسیاسی نظام کو سرمایہ داروں کا آلہ اورطبقاتی کشمکش کا سبب جانا ہے[6] درحالانکہ خود یہی لوگ صاحب قدرت اورحکومت رہے ہیں ۔اور دوسری بات یہ کہ اگر مارکس کی بات عمومی ہے تو ان کی حکومتیں بھی اس میں شامل ہیں اورتیسری بات یہ کہ خداپرست اورالہی لوگ جیسے حضرت علی علیہ السلام جنہوں نےواشگاف الفاظ میں تمام  مسائل کی طرف اشارہ  کیا ہے ،جہاں حکومت کی ضرورت اوراہمیت کو بیان کیا ہے وہاں اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا ہے کہ حکومت اورحکمرانی صالح اورظلم وستم سے پاک بھی ہوسکتی ہے اورفاسد بھی ،ایک صالح حکمران اوررہبر کی صفات کیاہے اوراس کے برعکس ایک فاسد اورفاجر حکمران کی خصوصیات کیا ہیں درحالانکہ دوسروں کی باتیں ان مطالب سے عار ی ہیں ۔

حواله جات:

1شیخ طوسی ،الامالی ،ج۱،ص۲۱۵،ح۳۲۸[1]

2سورہ رعد،آیت ۷[2]

3نھج البلاغہ ،خطبہ ۴۰[3]

4ترجمہ ،سید ذیشان حیدرجوادی ،ص ۹۳[4]

5نھج البلاغہ ،خطبہ ۴۰[5]

6ارسنجانی ،حسن۔حاکمیت دولتھا، ص۶۳[6]

/۹۸۹/ف۹۵۵/

ختم خبر

رسا نیوز ایجنسی

نظریہ
نام :
ایمیل:
پیغام :
مندرجہ ذیل حروف کو باکس میں تحریر کریں:
= ۱۱ + ۹
ارسال
تبصرہ
اشاعت: 0
زیر التوا کا جائزہ لینے کے: 0
غیر ریلیز: 0
12/2/2018
مذہب کی آڑ میں ملک کی تباہی کا منصوبہ
امام علی علیہ السلام کی محبت و معرفت کے بغیر کسی بھی مسلمان کا ایمان مکمل نہیں، بلکہ ان کی عنایات کے بغیر انسانیت کا وجود ناقص و بے معنی ہے جس کے بغیر سازِ حیات کے سارے تار بیکار ہیں! اس عظیم ہستی کی ...
11/19/2018
امت واحدہ اور ہفتہ وحدت
امام خمینیؒ چونکہ ایک عظیم روح کے حامل تھے، انہوں نے مسلمانوں کو بیدار کرنے اور پھر متحد کرنیکا بیڑا اٹھایا تھا، وہ استعماری طاقتوں اور سامراجی طاغوتوں کیخلاف سینہ سپر تھے، وہ مستضعفین کی حمایت کا عزم...
11/17/2018
امام حسن عسکری(ع) کی پرمشقت، مختصر زندگی اور شیعوں کی راہنمائی
ہم اگر امام حسن عسکری علیہ السلام کے دور امامت کو دیکھیں تو چھ سال کا مختصر عرصہ ہے اور آپکی پوری زندگی ۲۸ سال میں سمٹی نظر آتی ہے لیکن اس مختصر سی زندگی میں آپ نے اپنے بہت ہی مختصر دور امامت میں اس ط...
11/14/2018
اسرائیل کا وجود عالم اسلام کیلئے ایک سرطان ہے
صیہونیوں سے دوستانہ تعلقات تعلیمات قرآن کے منافی ہے، اگر حکومت نے اسرائیل کے حوالے سے پالیسی میں کسی تبدیلی کی کوشش کی تو ۲۲ کروڑ مسلمان سراپا احتجاج ہوں گے۔
11/14/2018
انسانیت کے تکامل کا انحصار نبی کریم (ص) کے سیرت پر عمل کرنے میں ہے
حضرت ابوذر غفاری فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے اصحاب کے درمیان ایسے تشریف فرما ہوتے تھے کہ اجنبی یہ نہیں پہچان سکتا تھا کہ ان میں رسول اللہ کون ہیں بلکہ اسے آپ کے بارے میں پوچھ...
11/11/2018
سیرت نبی کریم (ص) دنیا و آخرت میں نجات کا وسیلہ ہے
جس طرح رسول اکرم حضرت محمد (ص) کا لایا ہوا پیغام قرآن حکیم کی کتاب کی شکل میں حرف بہ حرف محفوظ ہے اور قیامت تک محفوظ رہے گا اسی طرح آپؐ کی حیات طیبہ بھی واضح و روشن ہے۔
10/22/2018
پاکستان میں ایک جدید خارجیت کا ظہور (۱)
گذشتہ تین دہائیوں میں عالم اسلام میں جو شدت پسند گروہ ظاہر ہوئے، ان میں سے بعض کے ناموں سے ہمارے عوام واقف ہیں، مثلاً القاعدہ، بوکو حرام، لشکر جھنگوی، ٹی ٹی پی اور داعش وغیرہ۔ یہ سب گروہ اپنے مخالفین ...
10/18/2018
قرآن کریم آیات و روایات کے تناظر میں
وہ افراد جو انسانی رشدو ھدایت کے لئے وحیی الٰہی کو اپنا وسیلہ نہیں قرار دیتے ہیں اور اپنی عقل کو ہی اپنی ھدایت کے لئےکافی سمجھتے ہیں وہ کبھی ھدایت نہیں پا سکتے ہیں۔
10/14/2018
معاشرہ کی پیشرفت میں قرآن کریم کی ارزش و اہمیت
قرآن کریم، ہمارے نجات کا علمبردار، درس عبرت، اور ذکر خدا کی کتاب ہے ۔
10/14/2018
روز عاشورہ اور امام حسین علیہ السلام
امام سجادؑ سے یہ مضمون نقل کیا ہے ۔ جوں جوں جنگ کا وقت قریب آ رہا تھا حسین ابن علیؑ اور ان کے خاص اصحاب کی کیفیت یہ تھی کہ ان کے چہروں کے رنگ نکھرتے چلے جا رہے تھے ۔
10/12/2018
امام زین العابدینؑ سے منقول شب عاشور کے واقعات
شب عاشور میرے والد خیمے میں اپنے چند اصحاب کے ہمراہ تشریف فرما تھے اور ابوذر کے غلام جون آپؑ کی تلوار تیز کر رہے تھے۔
10/8/2018
اب پاکستانی قوم کو ثابت کرنا ہے کہ ہم غلام نہیں بلکہ ایک آزاد اور خود مختار ملک ہیں
نواز شریف اب مجرم ہے ملزم نہیں اور اسکی کرپشن اور ملک سے غداری بھی ثابت ہوچکی ہے۔
10/8/2018
امام سجاد کی علمی و ثقافتی سرگرمیوں کے اصول
امام چھارم حضرت علی‌ بن الحسین علیھما السلام اپنی ۳۴ سالہ حیات میں شیعت کو نئی حیات عطا دینے ، دشمن سے غیر مستقیم مقابلہ کرنے اور ثقافتی ، معنوی و الھی معارف کی تبیین میں مصروف رہے ۔
9/25/2018
ایران کے اہواز میں دہشت گردانہ حملہ کے پشت پردہ گروہ
دہشت گرد عناصر کا مقصد مسلح افواج کی پریڈ میں بدامنی پھیلا کر اس کی شان و شوکت گھٹانا تھا۔
9/18/2018
حسینی قیام ہر زمانہ کی یزیدیت سے مقابلہ کا درس دیتا ہے
خدا نے حسین علیہ السلام کا محرم اور اپنا رمضان درحقیقت قلوب کو پاکیزہ اور نورانی کرنے کیلئے پیدا کیا ہے۔
9/17/2018
حضرت امام حسینؑ کی الہٰی تحریک
۶۰ ہجری کا معاشرہ کتابِ خدا اور سنت رسولؐ سے دور اور زمانہ جاہلیت کی بدعتوں کا شکار ہوچکا تھا اور یہی باتیں امام حسین ؑ کے قتل اور واقعہ کربلا کا باعث بنیں۔
9/12/2018
قیادت ورہبری نہج البلاغہ کی روشنی میں
قیادت ورہبری کی ضرورت اتنی واضح اورآشکارہے کہ جس کا کوئی عقل مند انسان انکار نہیں کرسکتا ۔قرآن مجید میں ارشاد خداوندی ہے کہ انما انت منذر ولکلّ قوم ھاد۔ تم صرف ڈرانے والے ہو اورہرقوم کے لیے ایک ہادی...
9/9/2018
قیادت ورہبری نہج البلاغہ کی روشنی میں
قیادت ورہبری کی ضرورت اتنی واضح اورآشکارہے کہ جس کا کوئی عقل مند انسان انکار نہیں کرسکتا ۔قرآن مجید میں ارشاد خداوندی ہے کہ انما انت منذر ولکلّ قوم ھاد۔ تم صرف ڈرانے والے ہو اورہرقوم کے لیے ایک ہادی...
9/4/2018
قیادت ورہبری نہج البلاغہ کی روشنی میں
قیادت ورہبری کی ضرورت اتنی واضح اورآشکارہے کہ جس کا کوئی عقل مند انسان انکار نہیں کرسکتا ۔قرآن مجید میں ارشاد خداوندی ہے کہ انما انت منذر ولکلّ قوم ھاد۔ تم صرف ڈرانے والے ہو اورہرقوم کے لیے ایک ہادی...
8/31/2018
قیادت ورہبری نہج البلاغہ کی روشنی میں
قیادت ورہبری کی ضرورت اتنی واضح اورآشکارہے کہ جس کا کوئی عقل مند انسان انکار نہیں کرسکتا ۔قرآن مجید میں ارشاد خداوندی ہے کہ انما انت منذر ولکلّ قوم ھاد۔ تم صرف ڈرانے والے ہو اورہرقوم کے لیے ایک ہادی...