Web
Analytics
Rasa News ::رسانيوز ايجنسي - امام سجاد اور دین اسلام کا تحفظ
Wednesday, December 12, 2018 -
سرویس : > ثقافتي
وقت : 10/6/2018-1:06 PM
شناسه خبریں: 437324
 
امام سجاد اور دین اسلام کا تحفظ
واقعہ کربلا کے بعد اسیران حرم کی قافلہ سالاری، دشمن کے دربار میں دندان شکن خطبہ سے یزیدیت کو باطل اور حسینیت کو حق ثابت کرنا اور اپنے کردار و کلام سے حقیقت ابدی کو محفوظ کرنا عین مقصد اسلام تھا۔ اگر آپ ببانگ دہل حق و حقانیت کی تبلیغ کرتے تو شاید اسلام کی حقیقی تصویر صحیفہ سجادیہ آج ہم تک نہ پہنچ پاتی۔ نامساعد حالات میں امام سجاد علیہ السلام نے انسانیت کے پیغام کی اشاعت میں کوئی وقفہ نہیں کیا بلکہ سیاست کے شکنجوں کے سخت ہونے کے باوجود آپ الٰہی مشن میں کوشاں رہے۔


تحریر: عظمت علی
 
رسا نیوز ایجنسی، تاریخ میں بہت سی ایسی شخصیات گزری ہیں جنہوں نے اپنی زندگی کا لمحہ لمحہ دوسروں کے لئے وقف کردیا تھا۔ دامن اسلام ایسی بےشمار ہستیوں سے پُر ہے جنہوں نے راہ خدا میں اپنا سب کچھ نچھاور کردیا ہے۔ چونکہ انہیں اپنی ذات سے بڑھ کر انسانیت کی فکر تھی۔ اگر وہ آستانہ فنا سے رحلت بھی کرگئے تو بھی لوگوں کے درمیان ایسے ہی زندہ رہے جیسے کہ وہ ابھی ہیں۔ ان مقدس ذوات کی فہرست میں امام زین العابدین علیہ السلام کا کردار آب حیات کی حیثیت رکھتا ہے۔ آپ کو اس کائنات فانی سے کوچ کئے ہزار برس سے بھی زیادہ ہوگئے ہیں لیکن انجیل اہل بیت، زبور آل محمد اور اخت القرآن یعنی صحیفہ سجادیہ کے مطالعہ سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ گویا آپ عصر حاضر میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ آپ حق و باطل کے مابین لڑی گئی جنگ کے عینی شاہد ہیں۔ آپ نے ان انسان نما حیوانوں کے بہیمانہ کرتوت اور ریگزار کربلا پر بہتر کے بے گور و کفن لاشے دیکھے۔ آپ نے جذبات کو ہمیشہ عقل کا تابع بنائے رکھا ورنہ اس بحرانی کیفیت میں  انسان جوش میں آکر ہوش کھو بیٹھتا ہے۔
 
کربلا سے کوفہ اور کوفہ سے شام تک کا ہر لمحہ امام کے دل پر نشتر تھا۔ ہر آن نت نئی جفا جوئی اور بیداد گری سے دل آزاری کی جاتی تھی لیکن آپ نے مشیت الٰہی کے مقابل میں اف تک نہ کی۔ کرب و بلا کی اس خوں آشامی کے بعد لوگوں کے ضمیر بیدار ہونے لگے اور رفتہ رفتہ ان کی چشم بصیرت کھلتی گئی۔ جس کے باعث کچھ مخلص افراد سچے جذبہ ایمانی کے ساتھ حکومت وقت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے اور بعض نے حصول اقتدار کی طلب میں ان کی ہمراہی اپنالی۔ اس وقت امام علیہ السلام کا کسی بھی گروہ سے منسلک نہ ہونا آپ کو عوام الناس کی صفوں سے ممتاز بنا گیا۔ عام خیال تو یہی کہتا ہے کہ چاہے وہ انتقام، حسینی جذبہ سے سرشار نہ ہو بلکہ صرف بنی امیہ کے عناد میں ہوتب بھی آپ کو ان کی حمایت کا اشارہ کردینا چاہیئے تھا لیکن چونکہ امام چہارم کی نگاہ حال سے بالاتر مستقبل پر تھی اور آپ کو اس بات کا کامل علم تھا کہ اس وقت قیام کرنا سعی بے سود ثابت ہوگا۔ اس لئے آپ نے کسی بھی گروہ کی حمایت نہ کرکے اپنی عاقبت اندیشی کا کامل ثبوت فراہم کیا اور ہمیں سکھا گئے کہ عقل کو جذبات پر فاتح ہونا چاہیئے۔
 
آپ کا کسی بھی مسلحانہ اقدام میں شامل نہ ہونا اسباب سے عاری نہ تھا۔ چونکہ حالیہ حکومت کی آپ پر کڑی نظر رہتی  کہ کہیں آپ حکومت کے خلاف کوئی اقدام نہ کر لیں۔ اگر آپ ان حکومت مخالف گروہ کے ساتھ شامل ہو جاتے تو حکومت کی پوری توجہات آپ کی جانب مرکوز ہو جاتی اور جیسے ہی موقع ہاتھ لگتا آپ کو قید کرلیتی یا پھر آپ کے چراغ زندگی کو خاموش کردیا جاتا۔ اگر ہم اس بات کے معترف ہو جائیں کہ حکومت آپ تک رسائی نہیں کرسکتی تھی، پھر بھی آپ کی زندگی کو ہر وقت دھڑکا لگا رہتا اور اس بات کا بھی امکان تھا کہ آپ پر بھی جناب مختار ثقفی کی مانند ہوس و اقتدار کا الزام تھوپ دیا جاتا۔ ان وقتی اور جذباتی تحریک میں عدم شمولیت کی ایک اہم وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ آپ کو پیغام انسانیت کی نشر و اشاعت کرنا تھی تاکہ معاشرہ میں بسنے والوں کو معلوم ہو کہ کربلا  اسلحوں کی جنگ کا نام نہیں بلکہ دائمی کردار کی کسوٹی کا نام ہے۔ کسی بھی جماعت کے ساتھ ملحق نہ ہونا اور بندگی معبود میں مصروف رہنا درحقیقت (خموشی سے) دین کی تبلیغ تھی۔ وگرنہ دین الٰہی کے دشمن آپ کے چراغ حیات کو مدہم کرنے میں کوئی لمحہ فروگذاشت نہ کرتے۔
 
واقعہ کربلا کے بعد اسیران حرم کی قافلہ سالاری، دشمن کے دربار میں دندان شکن خطبہ سے یزیدیت کو باطل اور حسینیت کو حق ثابت کرنا اور اپنے کردار و کلام سے حقیقت ابدی کو محفوظ کرنا عین مقصد اسلام تھا۔ اگر آپ ببانگ دہل حق و حقانیت کی تبلیغ کرتے تو شاید اسلام کی حقیقی تصویر صحیفہ سجادیہ آج ہم تک نہ پہنچ پاتی۔
نامساعد حالات میں امام سجاد علیہ السلام نے انسانیت کے پیغام کی اشاعت میں کوئی وقفہ نہیں کیا بلکہ سیاست کے شکنجوں کے سخت ہونے کے باوجود آپ الٰہی مشن میں کوشاں رہے۔ ہاں! تبلیغ کا انداز تبدیل ہو گیا تھا لیکن مقصد فقط انسانیت اور دین اسلام کی بقا رہا اور اپنی عبادتوں سے شریعت محمدی کے دم توڑتے چراغ حیات کو چمکتے سورج میں تبدیل کردیا۔ امام علیہ السلام نے رہتی کائنات کو یہ سبق دیا ہے کہ تاریخ کے سرد و گرم حالات میں بھی ہم اپنے دینی فرائض سے غافل نہیں ہوتے۔ اگر حالات و شرائط بے وفائی کر جائیں پھر بھی مصلی عبادت پر بیٹھ کر دعاوں کی صورت ترویج دین کرتے ہیں۔ لہٰذا، ہمیں کبھی بھی حالات کی ابتری اور شیرازہ میں برہمی سے مرعوب نہیں ہونا چاہیئے بلکہ امام زین العابدین علیہ السلام کی مانند بشریت کی فلاح و بہبود میں کوشاں رہنا چاہیئے۔ /۹۸۸/ ۹۴۰

منبع: اسلام ٹائمز

ختم خبر

رسا نیوز ایجنسی

نظریہ
نام :
ایمیل:
پیغام :
مندرجہ ذیل حروف کو باکس میں تحریر کریں:
= ۹ + ۸
ارسال
تبصرہ
اشاعت: 0
زیر التوا کا جائزہ لینے کے: 0
غیر ریلیز: 0
12/11/2018
ذکر خدا، ایمان کا پھل ہے
ایران کے دارالحکومت تہران کے امام جمعہ نے کہا: اللہ کی رسّی انسان کو اسفل السافلین ، ظلمت کی گہرائیوں اور حیرانی و پریشانی سے نجات دیتی ہے نیز اسے عرش آعظم تک لے جاتی ہے ۔
12/11/2018
بیت المال کے ذمہ داران موت پر یقین رکھیں| اختلاف معاشرہ کی ویرانی اوردنیا و آخرت کی نابودی کا سبب ہے
مفسر عصر حضرت آ‌یت الله جوادی ‌آملی نے تاکید کی: سبھی اس بات پر یقین رکھیں کہ اختلاف بدترین بیماری ہے کہ جس کا نتیجہ ویرانی کے سوا کچھ بھی نہیں، اختلاف دنیا و آخرت دونوں ہی کی نابودی کا سبب ہے ۔
12/11/2018
اردن میں مساجد سے اذان نشر کرنے پر پابندی
وزیراعظم عمر الرزاز نے وزارت داخلہ کی جانب سے پابندی کی مخالفت کردی۔
12/10/2018
روضہ حضرت عباس علیہ السلام کے ہسپتال کی کارکردگی قابل تمجید ہے
محمد عزیز نے کہا : روضہ مبارک حضرت عباس علیہ السلام کے الکفیل ہسپتال اوپن ہارٹ سرجریز میں کامیابی کا تناسب نہایت شاندار رہا ۔
12/9/2018
امتحان الھی سے کوئی بھی معاف نہیں
جامعہ المصطفی العالمیہ کے استاد نے کہا: الھی امتحانات کی مختلف قسمیں ہیں اور کوئی بھی اس امتحان سے نہیں بچ سکتا ، جس قدر بھی انسان کی معنوی منزل بالاتر ہوگی امتحان بھی اسی قدر سخت ہوگا ۔
12/8/2018
تیونس میں سولہویں بین الاقوامی قرآنی مقابلوں کا آغاز
تیونس میں حفظ، تفسیر اور ترتیل کے سولہویں بین الاقوامی قرآنی مقابلوں کا آغاز ہوگیا ۔
12/6/2018
تاریخی بابری مسجد کی شہادت کی برسی پر یوم سیاہ
تاریخی بابری مسجد کی شہادت کی برسی کے مدنظر اترپردیش پولیس ہائی الرٹ پر ہے اور ہندوستان کے مسلمان اس دن کو یوم سیاہ کے طور پر منا رہے ہیں۔
12/5/2018
نماز شب، عارفوں کیلئے بالاترین لذت ہے| نماز سے روح پاک و طاھر ہوتی ہے
سرزمین ایران کے مشھور عالم دین نے اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ نماز شب اور اپنے معبود کے ساتھ خلوت عارفوں کیلئے بالاترین لذت شمار کی جاتی ہے تاکید کی کہ نماز روح انسان کو پاک و طاھر کردیتی ہے ۔
12/5/2018
خشوع سےنماز کی ادائیگی کا رفتار و گفتار ميں معاشرے کو برائیوں سےدور رکھنے میں اہم کردار
حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے نماز کے ۲۷ ویں اجلاس کے نام اپنے پیغام میں مختلف اور مؤثر طریقوں سے نماز کی ترویج پر تاکید کرتے ہوئے فرمایا: نماز کا معاشرے کی اصلاح اور معاشرے کو رفتار و گفتار میں بر...
12/4/2018
الھی قوانین کی مخالفت، انسان کی نابودی کا سبب ہے
شھر تہران کے عارضی امام جمعہ نے کہا: دنیا، الھی قوانین اور رسموں کی بنیاد پر ادارہ ہوتی ہے کہ ان رسومات و قوانین کی مخالف انسان کی نابودی اور بربادی کا سبب ہے ۔
12/4/2018
طلباء کیلئے خصوصی قرآنی کلاسز کا اہتمام
موسم سرما کی چھٹیوں میں قرآنی کلاسز کا اہتمام دارالقرآن حیدری کی جانب سے کیا گیا ہے ۔
12/3/2018
خرطوم بین الاقوامی قرآنی مقابلوں کا اعلان
دسواں خرطوم ایوارڈ مقابلہ ساٹھ ممالک کی شرکت کے ساتھ منعقد کیا جارہا ہے۔
12/2/2018
صادق اور امانت دار ہونا امتِ مسلمہ کے ہر شخص کا امتیاز ہونا چاہیے
مجلسِ وحدت مسلمین شعبہ خواتین پاکستان : اخلاق کی اعلیٰ ترین مثال اور کامل ترین شخصیت رسول ﷺ کی ذات ہے۔
12/2/2018
العباس عسکری اسکواڈ کے شہداء کی چوتھی برسی
روضہ مبارک حضرت عباس علیہ السلام کی دفاعی بخش کی جانب سے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے العباس عسکری اسکواڈ کے شہداء کی چوتھی برسی منعقد کی گئی۔
12/1/2018
قرآنی محققین کا آپس میں بین الاقوامی سطح پر رابطہ محققین کی علمی صلاحیتیں بڑھانے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔
قرآنی محقق خواتین نامی بین الاقوامی کانفرنس میں افغانستان سے منتخب ہونے والی خاتون کا کہنا تھا: بین الاقوامی سطح پر قرآنی محققین کا رابطہ نہ فقط علمی نتائج اور تحقیقات کی ترویج میں مؤثر ہے بلکہ خود...
11/29/2018
اسلامی معاشرے میں رضوی سیرت پر تاکید کرتے ہوئے اتحاد کی راہیں بیان کی گئیں
سفیران رضوی کانفرنس کے سلسلے میں آستان قدس رضوی کے ادارہ زائرین غیرایرانی کی کوششوں سے؛اسلامی معاشرے میں رضوی سیرت پر تاکید کرتے ہوئے اتحاد کی راہیں بیان اور تحقیق پیش کی گئی۔
11/28/2018
شکر اخلاقی کمالات کا حصہ ہے
حوزه علمیہ امام صادق(ع) کے متولی نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ خداوند متعال شکر گزار دل ، ذکر کرنے والی زبان اور صابر انسان کو دوست رکھتا ہے کہا کہ شکر اخلاقی کمالات کا حصہ ہے ۔
11/28/2018
زیارت قبور اهل بیت کے سلسلہ میں وھابیت کے نئے شبھہ کا جواب
آیات عظام تقلید قم میں سے حضرت ‌آیت الله سبحانی نے زیارت قبوراهل بیت علیھم السلام کے سلسلہ میں وھابیت کے نئے شبھہ کا جواب دیتے ہوئے کہا: وھابیوں میں حقائق سننے کی توانائی موجود نہیں ہے ۔
11/28/2018
عراق؛ مسلح افواج کا قرآنی مقابلہ
عراقی افواج کے درمیان قرآنی مقابلہ «رسول اعظم(ص)» کے عنوان سے منعقد کیا گیا۔
11/27/2018
مراجع اور علمائے کرام کے ھفتہ وار دروس اخلاق کے پروگرام
مراجع عظام اور علمائے کرام کے دروس اخلاق ہر ھفتہ، حوزات علمیہ قم کے طلاب کی شرکت میں منعقد ہوں گے ۔