نیوز کوڈ :437350
حکومت نے یمن کی مخالفت کرکے اپنی خارجہ پالیسی کی نفی کی ہے
وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے نائب صدر نے لاہور میں اجتماع سے خطاب میں تحریک انصاف کی حکومت اپنی پالیسی پر نظرثانی کرے اگر یمن کے مظلوموں کا ساتھ نہیں دے سکتی اور نہ ہی مصالحت میں کوئی کردار ادا کر سکتی ہے تو پڑوسی ممالک کی جارحیت کا شکار ہزاروں یمنی بچوں کی شہادت، بیماریوں، بھوک، قحط کے ذمہ داروں اور یمن کو تباہ کرنیوالوں کا ہرگز ساتھ نہ دے۔

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ، وفاق المدارس الشیعہ پاکستان اور ملی یکجہتی کونسل کے نائب صدر  حجت الاسلام سید نیاز حسین نقوی نے کہا ہے کہ یمن میں جنگی جرائم کی تحقیقات کیلئے پاکستان کے قرارداد کی مخالفت میں ووٹ دینے سے کشمیر پر ہمارا موقف بھی کمزور ہو گیا ہے۔

علی مسجد جامعہ المنتظر لاہور میں اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے نیاز نقوی نے کہا کہ قرارداد کے حق میں ووٹ دینے سے قوم میں تشویش پائی جاتی ہے کیونکہ یمن پر ڈھائے جانیوالے مظالم اور جارح کی حمایت خود پاکستان کی خارجہ پالیسی کی بھی خلاف ورزی اور وزیراعظم عمران خان کے اُس بیان کی بھی واضح نفی ہے، جس میں انہوں نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان کسی پراکسی وار کا حصہ نہیں بنے گا۔

 حجت الاسلام نقوی نے کہا کہ یمن پر ہونیوالے مظالم کی تحقیقات نہ کرنے کے حق میں ووٹ دے کر ہمارا کشمیر پر موقف بھی کمزور ہو گیا ہے، جس میں ہم مظلوم کشمیری عوام پر بھارتی مظالم کی تحقیقات کا مطالبہ کرتے رہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ امیر المومنین حضرت علی ؑ کا مشہور فرمان ہے کہ نظام کفر سے تو چل سکتا ہے مگر ظلم سے ہرگز نہیں۔ تحریک انصاف کی حکومت اپنی پالیسی پر نظرثانی کرے اگر یمن کے مظلوموں کا ساتھ نہیں دے سکتی اور نہ ہی مصالحت میں کوئی کردار ادا کر سکتی ہے تو پڑوسی ممالک کی جارحیت کا شکار ہزاروں یمنی بچوں کی شہادت، بیماریوں، بھوک، قحط کے ذمہ داروں اور یمن کو تباہ کرنیوالوں کا ہرگز ساتھ نہ دے۔ اجتماع میں یمن میں مسلمانوں پر ہونیوالے مظالم کی مذمت اور عالمی اداروں کو کردار ادا کرنے کیلئے قراردادیں بھی منظور کی گئیں۔ /۹۸۸/ ن۹۴۰