21 July 2009 - 16:19
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 31
فونت
ریڈیو معارف کے ڈائریکٹرکا انٹرویو
رسا نیوز ایجنسی : ریڈیو معارف کے ڈائریکٹر نے کہا : بغیر موسیقی کے پروگرام کی ریلیز موسیقی کے حرام ہونے کی بناء پہ نہیں ہے ۔
ریڈیو معارف کی کارکردگی کی تفصیلی رپورٹ اسکے ڈائرکٹر کی زبانی

ریڈیو معارف ایک ایسا میڈیا ہے جو ابتداء تأسیس سے دینی اور مذہبی پروگرام کو بغیر میوزیک اور موسیقی کے ریلیز کرتا رہاہے اس ابتدائی ایام ہے سے  اس کے موافقین کے ساتھ مخالفین بھی رہے جو کچھ آپ کے سامنے ہے وہ رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر کا حجت الاسلام والمسلمین جناب عاطفی نیاسر ریڈیو معارف کے ڈائریکٹر سے اس کے پروگرام اور اس کی کار کردگی اور اس میڈیا سے سامعین کی رضایت کے سلسلے میں لیا ہوا  انٹرویو ہے :

رسا : ریڈیو معارف کب اور کس طرح تأسیس ہوا ؟

سن 1997 مختلف موضوعات پر ریڈیو کے کھلنے کا زمانہ تھا اسی  سال رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت ایتھ اللہ  سید علی خامنہ ای دام ظلہ کی فرمائش اور جناب لاریجانی ریڈیو اور ٹی وی کے ڈائریکٹر کی ہدایات کے مطابق معارف اسلامی کے موضوع اور عنوان پر ایک ریڈیو چینل مخصوص کیا جانا طے پایا ۔

اسی سال کے نیمہ دوم سے اس کی پروگرامینگ اور تحقیقات شروع ہوئی اور پھر افراد کا انتخاب کیا گیا اور اس کے بعد ان لوگوں کو مزید تربیت دینے کے لئے تہران بھیجا گیا اور اس سلسلے میں جو کار کردگی انجام پائی اس کے تحت ریڈیو معارف اسلامی 22 بہمن انقلاب اسلامی کی سالگردکے دن ازمایش کے طور پہ شروع کیا گیا اور 28بہمن ( فروری 1998 ) کواس چینل نے رسمی طور پر اپنی سرگرمی شروع کردی  ۔

رسا : منتخب افراد کو کس طرح کی تعلیم دی گئی ؟

ریڈیو معارف کی خاصی سیاست کے مطابق بناء اس بات پر رکھی گئی کہ ان افراد کو پروگرام ا?مادہ کرنے کی اساسی اور بنائی تعلیم دی جائے اور اسی طرح پروڈیوسر اور سخنوری اور آوازریکارڈنگ اور رپورٹنگ کی تعلیم دی جائے اس سلسلے میں پہلا گروہ تیرہ ماہ 1377 (شمسی) میں بھیجا گیا ۔
 
 رسا : منتخب افراد کی تعلیمی سطح کیا تھی ؟

پروڈیوسر کے شعبہ میں سارے افراد طلاب علوم دینی میں سے تھے البتہ ان لوگوں نے یونیورسٹی سے بھی تعلیم حاصل کی تھی اور سخنوری کے شعبہ میں کچھ طلاب علوم دینی اور کچھ یونیورسٹی کے فارغ التحصیل تھے ۔ اور آواز ریکار?ڈنگ کے شعبہ میں چونکہ خاص مہارت کا ہونا ضروری تھا اس لئے اسی میں ان افراد کا انتخاب کیا گیا جو ٹیکنیکل کورس کر چکے تھے ۔

نواوری کے لحاظ سےگزشتہ سال کی کارکردگی کیسی رہی ؟

ھم نے ابتداء سال سے اس شعبہ کی ذمہ داری سنبھالی اورابتداءہی میں تین اہم پروگرام کی طراحی کی تاکہ نواوری کے سال میں نئے پروگرام بننے کے ساتھ ساتھ خود ریڈیومیں بھی نیا پن ہونا چاہئے۔
  
 رسا : کس قسم کی نو آوری تھی ۔

ہمارا پہلا اہم پروگرام پروانہ تھا کہ ہم اپنے فنی اور ٹیکنیکل پروگرام میں فقط اپنی انتظامیہ سے استفادہ نہ کریں بلکہ دیگر ادارے جو ٹیکنیکل امور میں مہارت رکھتے ہیں انہیں بھی بروئےکارلائیں۔

 اسی بناء پرہم نے پروگرام کے ٹیکنیکل مسائل کو ان اداروں کے حوالے کیا اور اصل پروگرام کو آمادہ کرنے کی ذمہ داری ہم نے خود اپنے ذمہ رکھی اوراس طرح ہم نے ایک ریڈیو پروگرام آمادہ کیا۔

 ہم نے اس سلسلے میں علوم حدیث یونیورسٹی اور موسسہ تخصصی مہدویت اور نور مبین اور نشر آثار امام خمینی  کے ساتھ اپنا کام شروع کیا ۔

اوردوسرا پروگرام جس کی ہم نے طراحی کی وہ ریڈیو کے مخاطبین کی سماعتوں کے ساتھ ساتھ ان کی بصارت کو بھی مشغول رکھنے کا پروگرام تھا اور وہ اس طرح کہ ہم نے بعض مناسبتوں اور مواقع پر اپنے اسٹوڈیو کو ریڈیو اسٹیشن کے احاطہ سے باہر  بھیجا اور پرواگرام اجراء کرنے والوں نے لوگوں کے درمیان اپنا پروگرام اجراء کیا۔

تہران کی نمایشگاہ قرآن کریم اورقم کی نمایشگاہ کریمہ اہلبیت حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہما میں اور اسی طرح نیمہ شعبان میں نمایشگاہ حضرت حجت عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف میں اس طرح کی کار کردگی انجام پائی ۔

اور تیسرا پروگرام ریڈیو کی خاص سیاست میں تبدیلی تھی کہ اس سال سے ہم نے مصمم ارادہ کیا ہے کہ ماہرین کی جدیت کے ساتھ راہنمائی کی جائے تاکہ ان کے سخن اور بیان میں بطور واضح تبدیلی واقع ہو اور ان کی زبان تأثیر گزار رہے۔

 کیونکہ ہمارے ماہرین معمولاً حوزہ علمیہ اور یونیورسٹی کے تعلیم یافتہ ہیں اور ایک خاصی حیثیت کے حامل ہیں قطعاً اپنے مخاطبین سے مکمل طور پر رابطہ برقرار کر سکتے ہیں۔
۔
 اوراسی طرح ہم کوشش کر رہے ہیں کہ مزید جوان ماہرین کو جذب کر کے انہیں جوانوں کا مخاطب قرار دیں تاکہ ہر صنف سے خود اس کے لہجے میں سخن سرائی ہو سکے ۔

رسا : کیا خاص نوعیت کی نو آوری بھی تھی ؟

اس سال ہم نے ارادہ کیا ہے کہ ریڈیو معارف کے برابر سننے والوں کے علاوہ دیگر سامعین کو بھی مخاطب بنا سکیں اور ان کی شناسائی کر سکیں اس بنا پر ہم نے اپنی کلاسیں ، انسان کی زندگی میں احادیث نبوی کی کار آئی ، قرآن کریم کے ترجمہ کرنے کا طریقہ ، خلقت کا نگینہ ( امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف سے مربوط ) کے معلومات پر رکھیں اور اسی طرح صحیفہ امام خمینی اور ان کے وصیت نامہ کو پڑھا گیا

ابتداء میں ان کلاسوں میں شرکت کرنے والے افراد کا نام لکھوایا گیا اور پھر ان ک امختصرامتحان لیا گیا اور کلاسوں کے ختم ہونے پر ان کو گواہی نامہ و تصدیق نامہ بھی دیا گیا 

ان کلاسوں کا اچھا استقبال ہوا ،خصوصا رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای دام ظلہ کی حضرت امام خمینی کے وصیت نامہ پر  خاص تاکید کی بناء پر احزاب اور ادارات سے ارتباط برقرار کیا گیا اور ان لوگوں کی جانب سے بہت استقبال ہوا اور ایجوکیشن منسٹری  نے بھی اس سلسلے میں کافی حد تک ہمارا ساتھ دیا کہ تہران اور اس کے اطراف کے شہروں میں 90 ہزار استاد کو اسی پروگرام کے اجراءکرنے میں ہمارے ساتھ رہنے پر مامور کیا۔

اور زندہ پروگرام میں فقط 90 منٹ کا صبح گاہی کا پروگرام تھا اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہم نے اسے 120 منٹ تک پہونچا دیا ۔

انگلیش چینل سے ابتداء میں 21 گھنٹہ کا پروگرام آمادہ کیا گیا اور رفتہ رفتہ اسے بھی 90 گھنٹہ تک پہونچا دیا پہلے اس چینل سے فقط تقریریں ہوا کرتی تھیں مگر اس وقت پروگرام وسعت پا کر مکس پروگرام نشر ہوتا ہے ۔

رسا : اس سال کے پروگرام کی تشریح کریں ؟

امسال بھی پچھلے سال ہی کی طرح بناء اس بات پر ہے کہ زیادہ سے زیادہ مخاطبین کو جذب کیا جا سکے مطالب عمیق اور مناسب اور اچھی کیفیت اور دینی قالب میں نشر کیا جائے ۔

 روز مرہ کے مسائل اور شبہات کی شناسائی ، جوانوں کی مشکلات سے آگاہی اور معاشرہ جن دینی مسائل سے روبرو ہے ان کے لئے خاص پروگرام آمادہ کرنا ریڈیو معارف کی اس سال کی دیگر فعالیتوں میں شامل ہے ۔

طے پایا تھا کہ اس سال ہمارا پہلا دورہ حکومت اسلامی کے موضوع پر ہو جسے مجلس خبرگان کے دفتر کی مدد سے مہیا ہونا تھا مگر ابھی تک وہاں سے جواب نہیں ملا ہے اور انشاء اللہ طول سال میں دیگر تعلیمی کلاسیں رکھی جائیں گی ۔ ہمیں امید ہے کہ سب سے پہلے مہدویت کے موضوع پر گذشتہ سال کی گفتگو کا سلسلہ پھر سے شروع کیا جائے اور دوسرا دورہ استاد فرزانہ علامہ آیۃ اللہ مرتضیٰ مطہری کی شہادت کی ۳۰ ویں برسی کی مناسبت سے ان کی افکار پر بحث و گفتگو رہے ۔

رسا : ویب لاگ بوی سیب کے سلسلے میں کچھ توضیح دیں گے ؟

ہم گذشتہ سال اس نتیجے پر پہنچے کہ میڈیا کی دنیا میں فقط ریڈیو کے ذریعہ حضور مناسب طریقہ نہیں ہے بلکہ ریڈیو کو مختلف قسم کے میڈیا کی صورت میں تبدیل ہونا چاہیے اسی بنا پر ہم نے بوی سیب کے عنوان سے ویب لاگ کا مسابقہ آمادہ کیا ۔

 ریڈیو معارف کی ویب سایٹ کا فعال ہونا اور مسابقوں کا منعقد ہونا جیسے " وہ ضرور آئیں گے " اور " بوی سیب " کے عنوان سے ویب لاگ کا مسابقہ اور دیگر پروگرام متنوع میڈیا کی جانب قدم بڑھانے کے مساوی ہے ۔

رسا : ویب لاگ ہی کیوں  ؟

ویب لاگ جوان نسل کیلے دلچسپ میڈیا ہے اور اسی سلسلے میں ان کے اندر زیادہ رجحانات پائے جاتے ہیں ۔ ویب لاگ کے سلسلے میں جو تحقیقات انجام پائی ہیں وہ مذہبی ویب لاگ کی بنیادوں کا ضعف اور سستی ہے۔

اسمیں نظم لانے جہت دینے کیلے " بوی سیب " کے عنوان سے ویب لاگ کا مسابقہ رکھا گیا تاکہ اسکی خاص راستہ کی جانب ہدایت کی جا سکے اور تأثیر گزار ہو سکے ۔

 مذہبی ویب لاگ میں جو موضوع کمتر مورد توجہ رہا وہ محرم الحرام اور امام حسین علیہ السلام کی شہادت کا مسئلہ ہے اسی بناء پر " بوی سیب " کے عنوان سے ویب لاگ کے مسابقہ کا اعلان کیا گیا ۔
 اسی کا پہلا مرحلہ گذشتہ سال منعقد ہوا تھا جس کا ویب لاگ لکھنے والوں نے کافی حد تک استقبال کیا اور نفیس آثار روانہ کئے تھے کہ جو اپنی نوعیت میں بے نظیر تھے ۔

امسال ہم نے اس مسابقہ کے اعلان کے ساتھ ساتھ منابع کی بھی معرفی کی اور جہان تک ممکن ہوسکا اسے شرکت کرنے والوں کے اختیار میں قرار دیا ۔ اس سلسلے میں ۱۷۰۰ اثر ہم تک پہنچ چکے ہیں جو گذشتہ سال کی بہ نسبت ۷۰ فیصد زیادہ ہیں ۔

رسا : سامعین کس حد تک ریڈیو معارف سے راضی ہیں ؟

ریڈیو معارف کا پروگرام عوام ، مراجع عظام ، اور بزرگان کی خاص عنایت اور توجہ کا حامل رہا ہے اور سبھی نے اس ادراہ کی کار کر دگی کے شکر گزار رہے ہیں گیارہ شہروں میں ہمارے 17 فیصد سننے والوں میں سے 87 فیصد راضی رہے ہیں 87 فیصد رضایت بغیر موسیقی کے پروگرام کے لئے قابل توجہ ہے ۔

رسا : ریڈیو کے ذمہ داروں کی نگاہ میں ریڈیو معارف کی کیا حیثیت ہے ؟

ریڈیو کے ذمہ داروں کی نگاہ اس میڈیا کے سلسلے میں مثبت ہے بہت اچھے امکانات فراہم کئے ہیں جسکی بناء پر ہم نے کسی حد تک اسے ڈیجیٹل کر دیا ہے ۔

رسا : سگنل غائب ہونے کے سلسلے سے آپ کے اقدامات کیا ہیں ؟

دو ٹیکنیکل ٹیم اسی مرکز کی جانب سے اسی مشکل کو رفع کرنے کے لئے آمادہ کی گئی ہے تاکہ اسی کی رسیدگی کریں البتہ قم اور تہران کے بیچ کا فاصلہ اور مالی مسائل اس مشکل کی اساس ہیں ۔
رسا : بغیر موسیقی کے پروگرام ہی کیوں ؟

بغیر موسیقی کے پروگرام نشر ہونا موسیقی کے حرام ہونے کی بنیادپر نہیں ہے بلکہ یہ خود ایک قسم کا پروگرام ہے اس طریقہ کا پروگرام اس سے پہلے بھی ریڈیو قرآن سے نشر ہو چکا ہے بیرونی ممالک حتی غیر اسلامی ممالک کے ریڈیو بھی اسی طرح کے پروگرام نشر کرتے رہے ہیں۔

 ابتدا میں بہت سارے ماہرین کو ایسے پروگرام میں کامیابی کا یقین نہیں تھا مگر ہم کامیاب رہے اور مختلف فیسٹیول میں ہم نے اچھا مقام حاصل کیا ہے ۔

رسا : ریڈیو معارف اور رسا نیوز ایجنسی کے روابط کیسے ہیں ؟

ہمارے اخبار کے شعبے میں رسا نیو زایجنسی سے استفادہ کیا جاتا ہے خصوصاً اس لحاظ سے کہ دونوں مذہبی مراکز ہیں آپسی تعامل کے بہتر امکانات موجود ہیں۔
 
رسا : رسا نیوز ایجنسی آپ کے اس قیمتی وقت کے لئے شکر گزار ہے ۔(ن)

ختم خبر رسانیوز ایجنسی

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬
تازه ترین خبریں
مقبول خبریں