01 March 2018 - 13:35
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 435207
فونت
دانشگاه تهران کے فیکلٹی نے بیان کیا:
سرزمین ایران کے عالم دین حجت الاسلام والمسلمین برنجکار نے کہا: کہتے ہیں کہ تمام مراجع کرام نے انقلاب امام خمینی رہ کی مخالفت کی ، تو پھر اس دور میں ایران و عراق کے آیات عظام گلپائگانی، مرعشی نجفی، اراکی، سیستانی اور بقیہ مراجع نے جو انقلاب کی حمایت کی کیا وہ مرجع تقلید وقت نہ تھے ؟
حجت الاسلام والمسلمین رضا برنجکار

اشاره: انقلاب اسلامی ایران سے پہلے شیرازی گروپ جو سید محمد شیرازی کی مرجعیت و رھبریت میں کربلا میں موجود تھا ، اس زمانے کے بزرگ علمائے کرام جیسے مرحوم آیت ‌الله سید ابوالقاسم خوئی و سید محمود هاشمی شاهرودی اور حتی ان کے استاد آيت الله شيخ يوسف حائری خراسانی نے ان کے اجتھاد کا انکار کیا ۔

نظام اسلامی اور مرحوم امام خمینی(ره) کی شیرازی گروپ کی طرف سے مخالفت اس حال میں ہوئی کہ انقلاب اسلامی کے آغاز سے قبل اور حضرت امام خمینی(ره) کے کربلا پہونچنے کے وقت سید محمد شیرازی نے آپ کا گرم استقبال کیا مگر آیت الله حکیم کی رحلت کے بعد شیعت کی زعامت کے عنوان سے سید محمد شیرازی کی مرجعیت کی امام خمینی(ره) کی جانب سے حمایت نہ کئے جانے پر امام خمینی(ره) سے ان کے تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوگئی ، یہ تعلقات اس قدر خراب ہوگئے کہ  سید محمد شیرازی نے ایران و عراق کی جنگ میں عوام کی شرکت کے حوالے سے حرمت کا فتوا دیا ، مگر حضرت امام خمینی رہ نے ھرگز ان کے خلاف کسی بھی قسم کا کھلم کھلا موقف نہیں اپنایا ۔

سید محمد شیرازی کے انتقال کے بعد رهبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی امام سید علی خامنہ ای نے بھی سید محمد شیرازی کی خدمات اور ان کی کوششوں کو سراہا نیز مسجد اعظم قم میں ان کے ایصال ثواب کی مجلس برپا کی ۔

سید صادق شیرازی کہ جنہوں نے اپنے بھائی کے انتقال کے بعد شیرازی خاندان کی مرجعیت و رھبری کو ہاتھوں میں لیا، نظام اسلامی اور انقلاب اسلامی کی کھلم کھلا مخالفت سے کبھی بھی ہاتھ نہیں کھینچا، ہمیشہ خود انہوں نے اور ان ارد گرد موجود افراد نے سیٹلائٹ چائنلز کے ذریعہ اور اپنی نشستوں میں نظام اسلامی اور رھبر معظم انقلاب پر انواع و اقسام کی تہمتیں لگائیں ۔

حال ہی میں بیت شیرازی کی ایک فرد نے اپنی تقریر میں ولایت فقیہ ، نظام اسلامی اور امام خمینی رہ کی توہین کی اور ان پر انواع و اقسام کی تہمتیں لگائیں ، اسی بنیاد پر رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر کے دل میں یہ بات آئی کہ حقیقت سے پردہ اٹھانے کے لئے دانشگاه تهران کے فیکلٹی اور قران و حدیث ریسرچ سنٹر کے نائب صدر حجت الاسلام والمسلمین رضا برنجکار سے گفتگو میں اس شبھہ کی تحقیق و تنقید کرے ۔

حجت الاسلام والمسلمین برنجکار معتقد ہیں کہ اس طرح کے افراد ہر بہانے سے خود کو معروف کرنے کے درپہ ہوتے ہیں ، جہالت اور تناقضات ان کی باتوں میں عیاں ہے ، یہ وہ باتیں ہیں جو لندن اور بیگانہ طاقتوں کو خوش کرنے کے لئے کی گئی ہیں ۔

ہم یہاں پر اس گفتگو کا پہلا حصہ اپنے قارئین کے لئے پیش کر رہے ہیں ۔

رسا ـ آپ کی نگاہ میں کیا اسباب ہیں کہ جس کی وجہ سے کچھ لوگ ہمیشہ ولایت فقیہ کی دشمنی پہ تلے رہتے ہیں؟

برنجکار: تاریخ حیات بشر کی ابتداء سے ہابیل و قابیل کہ جو حضرت آدم علی نبینا و آلہ السلام کے فرزند تھے، آج تک حق و باطل ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہیں ، دور حاضر میں بھی ہم دو پلیٹ فارم حق اور عالمی سامراجیت کو ایک دوسرے کے آمنے سامنے دیکھ رہے ہیں ، امریکا اور انگلینڈ کی سرکردگی میں سامراجی پلیٹ فارم اور اسلامی ممالک میں موجود ان کے نمائندے جیسے سعودی اور دیگر کچھ ممالک کے بادشاہ ہیں ، ایران میں بھی محمد رضا پہلوی اسی پلیٹ فارم کا حصہ اور امریکا اور اسرائیل کا غلام تھا ۔

دنیا میں ہمیشہ مظلوم اقلیت میں رہے ، نہ ان کا کوئی حامی تھا اور نہ ان کی کوئی حکومت تھی ، حضرت امام خمینی رہ نے بھی انقلاب اسلامی کے ذریعہ حق اور حقیقی اسلام کی رھبری کہ جو تمام انبیاء الھی(ع) اور اہل بیت اطھار(ع) کا پلیٹ فارم ہے ، کی ذمہ داری سنبھالی نیز اسلامی تعلیمات و مفاھیم کی بنیاد پر اور عوام کی حمایت میں عالمی سامراجیت کے نمائندے اور ایران میں وقت کے طاغوت محمد رضا پهلوی کے خلاف انقلاب پرچم گاڑ دیا ۔

رسا ـ لندنی تشیع کی طرف سے ولایت فقیہ پر حالیہ حملے کی وجہ کیا ہے ؟

برنجکار: ان میں سے بعض کے لئے لندنی شیعہ کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے اور میں معتقد ہوں کہ یہ لوگ شیعہ ثقافت و کلچر سے دور اور سامراجی پیلٹ فارم کے شیعہ نما افراد ہیں ، یہ کہتے ہیں کہ ملک کے حالات اور رضا شاہ پہلوی بہت اچھے تھے ، امام خمینی رہ نے انقلاب کیوں کیا اور صدام کے مقابل استقامت کیوں کی ، اس بات کا مقصد یہ ہے کہ ایرانی عوام کو صبر سے کام لینا چاہئے تھا یہاں تک دشمن شیعہ ناموس کے ساتھ بدسلوکی کرتا ، اسلامی حکومت کو نابود کرتا اور آخر میں ملک کے حالات رضا شاہ پہلوی کے دور حکومت کی جانب پلٹ جاتے ۔

آج انہیں امریکا اور انگریزوں کے حالات کا خوب علم ہے مگر یہ ولایت فقیہ کے دشمن ہیں ، تو سوال یہ کہ ولایت فقیہ میں دشواری کیا ہے ، کیا غیر فقیہ کی ولایت یعنی انگلینڈ جیسے ممالک کی ولایت کہ جو اس گروہ کا حامی اور ان کا مالی امدادگر ، بہتر ہے ؟

کہتے ہیں کہ ولایت فقیہ ولایت فرعون ہے ، ان افراد کے لحاظ سے غیر فقیہ کی حکومت جیسے انگلینڈ ، امریکا اور محمد رضا شاه کی حکومت ، حضرت موسی اور رسولوں کی حکومت ہے ، یہ سامراجیت اور استکبار کا گَلا ہے کہ جو یہ باتیں اُگل رہا ہے اور امریکا و انگلینڈ جیسی بیگانہ طاقتوں کا دفاع کررہا ہے ۔

حقیقت حال یہ ہے کہ ولایت فقیہ کا مطلب ، اسلام کی ولایت ہے اور چوں کہ اسلامی حکومت ہے لہذا وہ فقیہ جو اسلام سے آگاہ ہے اسے حاکم ہونا چاہئے مگر شیرازی گروپ ، نظام اسلامی کو بُرا جانتے ہیں مگر صدام حسین و رضا شاہ پہلوی جیسوں کی حکومت کو پسند کرتے ہیں ۔/۹۸۹/ ف ۹۱۳

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬
تازه ترین خبریں
مقبول خبریں