03 March 2018 - 14:17
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 435232
فونت
اشاره: انقلاب اسلامی ایران سے پہلے شیرازی گروپ جو سید محمد شیرازی کی مرجعیت و رھبریت میں کربلا میں موجود تھا ، اُس زمانے کے مرحوم آیت ‌الله سید ابوالقاسم خوئی و سید محمود هاشمی شاهرودی اور حتی ان کے استاد آيت الله شيخ يوسف حائری خراسانی جیسے بزرگ علمائے کرام بھی ان کے اجتھاد کے منکر تھے ۔
حجت الاسلام والمسلمین رضا برنجکار

حضرت امام خمینی(ره) کے کربلا پہونچنے کے وقت سید محمد شیرازی نے آپ کا پرجوش استقبال کیا مگر آیت الله حکیم کی رحلت کے بعد شیعت کی زعامت کے عنوان سے سید محمد شیرازی کی مرجعیت کی امام خمینی(ره) کی جانب سے حمایت نہ کئے جانے پر امام خمینی(ره) سے ان کے تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوگئی ، یہ تعلقات اس قدر خراب ہوگئے کہ سید محمد شیرازی نے ایران و عراق کی جنگ میں عوام کی شرکت کے حوالے سے حرمت کا فتوا دیا ، مگر حضرت امام خمینی رہ نے ھرگز ان کے خلاف کسی بھی قسم کا کھلم کھلا موقف نہیں اپنایا ۔

سید محمد شیرازی کے انتقال کے بعد رهبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی امام سید علی خامنہ ای نے بھی سید محمد شیرازی کی خدمات اور ان کی کوششوں کو سراہا نیز مسجد اعظم قم میں ان کے ایصال ثواب کی مجلس برپا کی ۔

سید صادق شیرازی کہ جنہوں نے اپنے بھائی کے انتقال کے بعد شیرازی خاندان کی مرجعیت و رھبری کو ہاتھوں میں لیا، نظام اسلامی اور انقلاب اسلامی کی کھلم کھلا مخالفت سے کبھی بھی ہاتھ نہیں کھینچا، ہمیشہ خود انہوں نے اور ان ارد گرد موجود افراد نے سیٹلائٹ چائنلز کے ذریعہ اور اپنی نشستوں میں نظام اسلامی اور رھبر معظم انقلاب پر انواع و اقسام کی تہمتیں لگائیں ۔

رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر نے حقیقت حال کا تجزیہ اور حقائق سے پردہ اٹھانے کے لئے دانشگاه تهران کے فیکلٹی اور قران و حدیث ریسرچ سنٹر کے نائب صدر حجت الاسلام والمسلمین رضا برنجکار سے گفتگو کی، ہم اس کا پہلا حصہ گذشتہ دونوں اپنے قارئین کے لئے نشر کرچکے اور اب دوسری قسط حاضر ہے ۔

رسا ـ اپ نے اپنی گفتگو کے آغاز میں سید محمد شیرازی کی گفتگو میں موجود تناقضات کی جانب اشارہ کیا ، کیا اس تشریح فرمائیں گے ۔

برنجکار: ایک طرف تو سید محمد شیرازی کا کہنا ہے کہ ولایت فقیہ علما کے مورد بحث ہے دوسری جانب یہ کہتے ہیں کہ ولایت فقیہ ، ولایت طاغوت ہے ۔ ولایت فقیہ، شیعہ فقہ کا بیان شدہ مسئلہ ہے البتہ اس کے اختیارات و حدود کے سلسلہ میں مختصر گفتگو رہی ہے مگر تمام علماء کرام اصل مسئلہ یعنی ولایت فقیہ کو قبول کرتے ہیں ۔

دوسری بات یہ ہے کہ ان کا کہنا ہے کہ تمام مراجع نے امام خمینی رہ کے انقلاب کی مخالفت کی تھی ، تو پھر اتنے زیادہ مراجع جیسے گلپائگانی، مرعشی نجفی، اراکی، سیستانی اور ایران و عراق کے باقی دیگر مراجع جنہوں نے انقلاب اسلامی کی حمایت کی، کیا وہ مرجع تقلید وقت نہ تھے ؟ کیا فقط اِن کے باپ اور چچا ہی مرجع تھے ، جیسے کہ مرجعت ان کے خاندان کی ورثہ رہی ہو ۔

حضرت آیت ‌الله سیستانی ایران میں نہیں ہیں مگر جب بھی لوگ آپ کے دیدار کے لئے جاتے ہیں تو آپ انہیں انقلاب اور نظام اسلامی کی حمایت کی نصیحت فرماتے ہیں ، حتی آیت اللہ خوئی سے بھی اس سلسلے میں باتیں نقل کی گئی ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ اگر یہ انقلاب ختم ہوگیا تو شیعہ مذھب مٹ جائے گا ، آقائی خوئی اگر چہ ڈکٹیٹر صدام حسین کے زمانہ میں کھلم کھلا انقلاب و نظام اسلامی کی حمایت نہیں کر پائے مگر مخفی طور سے اور خصوصی ملاقاتوں میں آپ بھی حمایت کرتے تھے ، حتی صدام نےعراقیوں کو جنگ میں شرکت اور ایرانیوں کو جنگ سے روکنے کے لئے فتوا نہ دینے پر آپ کو متعدد بار قتل کی دھمکی بھی دی کہ جس کی ویڈیو موجود ہے ، مگر آیت اللہ خوئی نے صدام حسین کے قتل کی دھمکی کو نادیدہ قرار دیتے ہوئے ھرگز ایسا کوئی فتوا نہ دیا ۔

رسا ـ کیا ایران پر ہون والے حملے اور بیگانہ ممالک میں کوئی رابطہ موجود ہے ؟

برنجکار: انقلاب اسلامی ایران کی پیروزی کے بعد ایران پر حملہ سامراجی پیلٹ فارم نے کیا اور صدام حسین کو سامراجی نمائندہ ہونے کے ناطے اس بات پر مجبور کیا گیا کہ وہ ایران پر حملہ ور ہو ، تمام مغربی ممالک جیسے امریکا ، انگلینڈ ، جرمن اور دیگر نے صدام حسین کی حمایت کی تاکہ اس انقلاب کو مٹا دے مگر کامیاب نہ ہوسکے ۔

شیرازی گروپ عقلی بنیادوں اور انسانی شرافت کی ابتدائی باتوں کو بھی نادیدہ قرار دیا، ان کے دھن سے نکلنے والی باتیں مسلمات دین و اسلام کے خلاف ہے ، کیوں کہ ہر انسان کی عقل یہ کہتی ہے کہ جب اس کے ملک پر حملہ ہو تو وہ اپنے ملک کا دفاع کرے ، اسلام اور حکومت میں جدائی کی بحث سے درگزر ملک کا دفاع ضروری ہے ، اور معقول نہیں ہے کہ ایک مسلمان انسان اپنے ملک کے دفاع کو زیر سوال لے جائے نہ یہ ایک عمامہ بسر انسان اس پر انگلی اٹھائے ، ہاں اگر اسے عقل و خرد کی دنیا سے دیکھا جائے تو محسوس ہوگا کہ یہ باتیں انگلینڈ اور دیگر سامراجی ممالک کی نیابت میں بولی جارہی ہیں وگرنہ عاقل اور آزاد انسان کہ جس کے پاس شرافت اور انسانیت موجود ہو چاہے وہ مسلمان نہ ہو پھر بھی یہ باتیں نہیں کہہ سکتا ۔

دوران دفاع مقدس – اٹھ سالہ ایران و عراق جنگ – میں حتی ایران کے عیسائیوں نے بھی ملک کا دفاع کیا ، ان کے پاس اتنی عقل و خرد اور شرافت موجود تھی کہ وہ مورد حملہ اپنے ملک کا دفاع کریں اور اپنی جان کا نظرانہ پیش کریں ولو یہ کہ یہ حکومت اسلامی اور وہ عیسائی تھے ۔

مگر شیرازی گروپ کا کہنا ہے کہ یہ دفاع «مقدس» نہیں ہے یعنی ظالم صدام حسین کے مقابل تسلیم ہوجاتے؟ جیسا کہ یہ لندنی شیعہ سرتسلیم خم کئے ہوئے ہیں اور اس پلیٹ فارم پر برسرپیکار ہیں ۔

رسا ـ یہ لوگ کیوں دین و مذھب کی اہانت کے باوجود قمہ زنی اور خونی ماتم کی اتنا زیادہ ترویج کررہے ہیں ؟

برنجکار: قمہ زنی اور خونی ماتم کی حمایت کرتے ہیں اور اسے اسلام کی دھڑکن اور اقدس ‌المقدسات بتاتے ہیں ، گویا اسلام میں قمہ زنی اور خونی ماتم سے زیادہ اہم کوئی چیز ہے ہی نہیں ، سوال : کیا پیغمبر اکرم(ص) نے حکومت قائم نہیں کی تھی ، کیا اسلامی حکومت ، الھی احکام و حدود و تعزیرات الھی کے اجراء کے سوا کچھ اور ہے ، کیوں یہ لوگ الھی احکامات پر تاکید نہیں کرتے اور فقط و فقط قمہ زنی و خونی ماتم کی تاکید کرتے ہیں ۔

اس کی دلیل و بنیاد یہ ہے کہ قمہ زنی اور خونی ماتم انگلینڈ کے حق میں بہتر ہے ، کیوں کہ سامراجیت قمہ زنی اور خونی ماتم کی ویڈیو بنا کر اور اسے دنیا کے سامنے پیش کر کے اسلام کو شدت پسند دین بتا سکتے ہیں ، وہ اسلامی فوبیا کے درپہ ہیں ، داعش سے امریکا اور انگلینڈ کی حمایت کا مقصد بھی اسلام فوبیا کی توسیع اور مزاحمتی گروہوں کی شکست تھا ، کہ یہ لوگ کسی حد تک اسلام کو ایک شدت پسند دین کے طور پر پیش کرنے میں کامیاب بھی ہوگئے ۔

اس سے قطع نظر کہ قمہ زنی اور خونی ماتم حرام ، مکروہ یا مستحب عمل ہے کہ ہم اس کا حکم مراجع کے دوش پر ڈال دیتے ہیں ، مگر یہ بات قابل غور ہے کہ اتنے سارے الھی احکامات نماز ، روزہ ، حج، خمس ، زکات ، حدود، قصاص، دیات، جهاد، حج وغیرہ پر شیرازی گروپ کیوں تاکید نہیں کرتا ، وہ فقط و فقط قمہ زنی اور خونی ماتم ہی کو اسلام کی جان اور دھڑکن کے طور پر کیوں پیش کرتے ہیں ۔

لندنی تشیع سامراجیت کا گلا ہیں اور فقط و فقط امریکا و اسرائیل کے حق میں باتیں کرتے ہیں ، وہ انہیں بنیاد پر صدام حسین ، امریکا ، انگلینڈ وغیرہ کا دفاع کرتے ہیں اور اسلامی حکومت پر انگلیاں اٹھاتے ہیں ، آخر شیرازی گروپ کیوں اِنہیں غلط سمجھتے ہیں اور ان کے مقابل ہیں ، ان کی واحد مشکل نظام اسلامی اور ولایت فقیہ ہے کیوں کہ فقیہ اسلامی احکامات کو جامہ عمل پہنانا چاہتی ہے ۔

رسا ـ اپنی گفتگو کے خاتمہ کے طور پر سوال کررہا ہوں کہ ان باتوں کے پس پردہ موجود باتوں کا تجزیہ فرمائے ؟

برنجکار: یقینا ایران میں غلطیاں رونما ہوتی ہیں کہ جس پر تنبیہ کی جاتی ہے کیوں کہ کوئی بھی اس بات کا قائل نہیں ہے کہ ملک میں جو کچھ بھی انجام پارہا ہے سب کا سب اسلامی اور بے عیب ہے ، کیوں کہ معصوم کی حکومت نہیں ہے ، مگر یہ نظام دنیا کا تنہا وہ نظام ہے جہاں اسلامی احکامات کو جامہ عمل پہنایا جارہا ہے اور عالمی سامراجیت امریکا اور غاصب اسرائیل کی مخالفت کی جارہی ہے ۔

لوگ ان باتوں کو یقینا بہتر طریقے سے سمجھتے ہیں مگر انہیں اپنے آقاوں کی جانب سے اس بات کا حکم ہے وہ ان باتوں کو بولیں ، وگرنہ ان کے پاس ان غلط باتوں کی کوئی توجیہ موجود نہیں ہے ، یا یوں کہوں کہ اس تحریک کے پاس عقل ، شرافت اور انسانیت نام کی کوئی چیز نہیں ہے ، یا یوں کہا جائے کہ یہ لوگ ان باتوں کے کہنے کے پر مامور اور مجبور ہیں ۔

ایران کا حالیہ بلوا کہ جس کی پروگرامینگ امریکا ، انگلینڈ ، غاصب صھیونیت اور سعودیہ کی ذریعہ بنائی گئی تھی اس کا مقصد حکومت اسلامی کو گرانا اس کا مقصد تھا ، شیرازی گروپ بھی اس کا حصہ بن کر سامراجیت کی خدمت میں مصروف رہا ۔

رسا ـ اس حوالے سے کہ آپ نے اپنا قیمتی وقت ہمیں دیا ہم آپ کے شکر گزار ہیں ۔/۹۸۸/ ن۹۱۲

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬
تازه ترین خبریں
مقبول خبریں