14 September 2018 - 22:58
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 437152
فونت
حجت الاسلام سید شمسی رضا :
دین مبین اسلام کے مشہور مبلغ نے بیان کیا : ہر سچا مسلمان شہدائے کربلا سے محبت و عقیدت کو اپنا سرمایہ حیات سمجھتا ہے اور اپنے وجود کو ان کی طرف سے عطا کی گئی نعمت جانتا ہے ۔
سید شمسی رضا

ھندوستان میں دین مبین اسلام کے مشہور مبلغ حجت الاسلام سید شمسی رضا نے رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر سے گفتگو میں امام حسین علیہ السلام اور ان کے با وفا اصحاب کی قربانی کو اطاعت الہی کا واضح مظہر جانا ہے اور بیان کیا : امام حسین علیہ السلام نے کربلا کے میدان میں خدا کے راہ میں اپنی اور اپنے اصحاب کی قربانی پیش کر کے اطاعت الہی کا مظہر پیش کیا اور اطاعت کے مفہوم کا عملی معنی پیش کیا ۔

انہوں نے عزاداری و مجلس حسینی کو خود سازی کا ایک بہترین موقع جانا ہے اور کہا : انسان فطری طور پر پاک ہے اور پاکیزگی کو پسند کرتا ہے۔ خدا نے حسین علیہ السلام کا محرم اور اپنا رمضان درحقیقت قلوب کو پاکیزہ اور نورانی کرنے کیلئے پیدا کیا ہے۔ اگر خدا کی یہ دو عظیم نعمتیں نہ ہوتیں تو خدا ہی جانتا ہے شیطان اور نفس امارہ ہمارا کیا حشر کرتا اور اگر غم حسین علیہ السلام پر بہائے گئے آنسو جہنم کی آگ کو بجھا نہ دیتے تو خدا ہی جانتا ہے ہم پر کیا گزرتی۔

حجت الاسلام سید شمسی رضا نے اس دنیا کو ایک قید کی مانند جانا ہے اور بیان کیا : حسین علیہ السلام کے بغیر یہ دنیا بغیر دروازے کے زندان اور یاد حسین علیہ السلام کے بغیر انسان بغیر پروں کے پرندہ ہوتا۔

انہوں نے دنیا کو ایک کونیں کے مانند جانا ہے اور بیان کیا : اگر حسین علیہ السلام ان کا راستہ اور ان کا مشن نہ ہوتا تو ہم انسان دنیا کے اس کنویں میں کیا کرتے؟ اور صحیح راستے کو غلط راستے سے جدا کیسے کرتے؟ ۔

مبلغ دین مبین اسلام نے امام حسین علیہ السلام کو حق و باطل کی پہچان کا میزان قرار دیا ہے اور وضاحت کی : امام حسین علیہ السلام نے کربلا کے میدان میں اپنی قربانی پیش کر کے قیامت تک کے لوگوں کو حق و باطل میں فرق اور اس کی شناخت کا وہ راستہ پیش کر دیا جو کبھی بھی حق تلاش کرنے والوں کو تذبذب کے اندھیرے میں نہیں رہنے دے گا ۔

حجت الاسلام سید شمسی رضا نے امام حسین علیہ السلام کے قیام کا معنی بیان کرتے ہوئے کہا : امام عالی مقام حضرت امام حسین علیہ السلام کی جنگ صرف اسلام کے باغیو ں کے خلاف نہیں تھی بلکہ انسانیت دشمنوں کے خلاف تھی، حضرت امام حسین علیہ السلام کی جنگ اقتدار کی نہیں بلکہ اسلامی و انسانی اقدار کی جنگ تھی۔

انہوں نے حقیقی مسلمان کی علامت بیان کرتے ہوئے کہا : ہر سچا مسلمان شہدائے کربلا سے محبت و عقیدت کو اپنا سرمایہ حیات سمجھتا ہے اور اپنے وجود کو ان کی طرف سے عطا کی گئی نعمت جانتا ہے ۔/۹۸۹/ف۹۱۵/

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬
تازه ترین خبریں
مقبول خبریں