26 October 2018 - 11:31
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 437506
فونت
جو چیز سب سے زیادہ افسوسناک ہے وہ اسلامی دنیا کے بعض ذرائع ابلاغ کی جانب سے استعماری میڈیا مافیا کی پیروی کرتے ہوئے اس عظیم اسلامی ایونٹ سے آنکھیں موند لینا ہے۔
اربعین میں کربلا کی جانب پیاده روی

تحریر: رسول سنائی راد

ان دنوں چہلم امام حسین علیہ السلام کی مناسبت سے عظیم مارچ اور اس دوران مختلف طبقوں سے وابستہ افراد کی جانب سے ایمانی جذبے کا اظہار سب کی زبان پر جاری ہے۔ اس موقع پر انجام پانے والے اقدامات کی بنیاد امام حسین علیہ السلام کی محبت اور ان سے عقیدت پر استوار ہے۔ ان اقدامات کی تیاریاں بہت عرصہ پہلے ہی شروع ہو جاتی ہیں۔ کچھ افراد زائرین امام حسین علیہ السلام کی خدمت کیلئے کیمپس (موکب) لگاتے ہیں جبکہ دیگر افراد کربلا میں واقع حرم امام حسین علیہ السلام کی جانب پیدل سفر طے کر کے عزت، استقامت، ایثار اور ظلم کی نفی پر مبنی مناظر پیش کرتے ہیں اور مکتب کربلا کی خدمت کرنے میں کسی کوشش سے دریغ نہیں کرتے۔ چہلم کی مناسبت سے پیدل مارچ (مشی) چند دنوں میں انجام پاتا ہے اور اس میں کروڑوں عقیدت مند شرکت کرتے ہیں۔ یہ افراد سینکڑوں کلومیٹر پیدل سفر طے کرتے ہیں اور اس دوران انہیں بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جبکہ بعض اوقات انہیں سکیورٹی خطرات بھی لاحق ہوتے ہیں۔ چہلم مارچ عظمت، ایثار اور عشق کا عظیم مظاہرہ ہے اور یہ ایسی اقدار ہیں جو آج کے زمانے میں گم ہو چکی ہیں۔
 
چہلم امام حسین علیہ السلام کی مناسبت سے انجام پانے والا یہ پیدل مارچ بین الاقوامی سطح کا ہوتا ہے جس میں دنیا بھر سے عاشقان سید الشہداء علیہ السلام شرکت کرتے ہیں۔ لہذا توقع کی جاتی ہے کہ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ اس عظیم واقعے کو اچھی طرح کوریج فراہم کریں۔ کروڑوں افراد پر مشتمل یہ مارچ ایک طرف حسینی مشن کے پیروکاروں کی طاقت کا عظیم مظاہرہ ہے تو دوسری طرف اس میں اعلی انسانی اقدار کے بہترین مناظر دکھائی دیتے ہیں۔ زائرین کی خدمت کرنے والے افراد کا عمل دیکھنے کے قابل ہوتا ہے۔ ہر شخص اپنی توانائی اور صلاحیتوں کے مطابق زائرین کی خدمت میں مصروف ہوتا ہے۔ یہ محبت آمیز مناظر مکتب حسینی کی خوبصورتی اور کمال کی عکاسی کرتے ہیں۔ یہ مناظر اس جعلی اسلام کے پیروکاروں کی جانب سے انجام پانے والے وحشیانہ اور غیر انسانی اقدامات سے مکمل تضاد رکھتے ہیں جنہیں عالمی استعماری طاقتوں نے اسلام کا چہرہ بدنام کرنے کیلئے تشکیل دے رکھا ہے۔
 
سلفی تکفیری گروہ اسلام کے نام پر دشمنی، نفرت اور وحشیانہ پن کا مظاہرہ کرنے میں مصروف ہیں اور گذشتہ کئی سالوں سے اسلامی دنیا اور دنیا کے دیگر ممالک میں خوف و ہراس پھیلا رہے ہیں۔ لیکن دلچسپ امر یہ ہے کہ عالمی استعماری میڈیا ذرائع تکفیری دہشت گرد عناصر کی سرگرمیوں کو تو بھرپور انداز میں کوریج دیتے ہیں لیکن چہلم امام حسین علیہ السلام پر ظاہر ہونے والے ان خوبصورت اور انسانی مناظر کو یکسر طور پر نظرانداز کر دیتے ہیں۔ ایسے مناظر جن سے مکتب حسینی کا عزت، آزادی، ایثار اور مظلوم کے دفاع کی جھلک نظر آتی ہے۔ عالمی استعماری ذرائع ابلاغ کی جانب سے چہلم امام حسین علیہ السلام جیسے عظیم ایونٹ کا بائیکاٹ کرنے کی چند اہم وجوہات درج ذیل ہیں:
 
1)۔ عالمی استکبار سے وابستہ میڈیا مافیا جان بوجھ کر چہلم امام حسین علیہ السلام کے عظیم ایونٹ کو نظرانداز کرتا چلا آیا ہے۔ یہ میڈیا اسلام فوبیا کی خاطر تکفیری دہشت گرد عناصر کے اقدامات کو بھرپور کوریج دیتا آیا ہے جبکہ چہلم امام حسین علیہ السلام جیسے عظیم سیاسی اور روحانی ایونٹ کو اپنے منحوس اہداف کے خلاف تصور کرتا ہے لہذا اس کا بائیکاٹ کرتا ہے۔
 
2)۔ اسلامی دنیا کے بعض ذرائع ابلاغ بھی اس بارے میں عالمی استکباری میڈیا مافیا کی پیروی کرتے نظر آتے ہیں۔ یہ ایسے ذرائع ابلاغ ہیں جنہوں نے اپنی سرگرمیوں کا مرکز اور محور مغربی ذرائع ابلاغ کو بنا رکھا ہے اور اپنے اسلامی تشخص سے بالکل بے بہرہ ہیں۔
 
3)۔ بعض نادان افراد چہلم امام حسین علیہ السلام کے اس عظیم ایونٹ کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ ملین مارچ ظلم اور آمریت کے خلاف ایک عظیم آواز ہے جو ظالم قوتوں کے خلاف اٹھائی جاتی ہے۔ حسینی ملین مارچ استعماری اہداف کے خلاف ایک عظیم اقدام ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اس میں ایسے روحانی مناظر بھی دیکھنے کو ملتے ہیں جسے دیکھ کر ہر آزاد منش انسان کا دل انسانی جذبات سے بھر جاتا ہے۔ لہذا استعماری میڈیا کی جانب سے اس عظیم ایونٹ کا بائیکاٹ طے شدہ پالیسی کے تحت انجام پاتا ہے۔ چونکہ یہ ذرائع ابلاغ اس عظیم مارچ کے حقیقی محرکات کو سمجھنے سے قاصر ہیں اور اس کی کوریج کو اسے فروغ دینے میں اہم تصور کرتے ہیں لہذا اس سے چشم پوشی کو ہی بہتر گردانتے ہیں۔ لیکن جو چیز زیادہ افسوسناک ہے وہ اسلامی دنیا کے بعض ذرائع ابلاغ کی جانب سے استعماری میڈیا مافیا کی پیروی کرتے ہوئے اس عظیم اسلامی ایونٹ سے آنکھیں موند لینا ہے۔ /۹۸۸/ ن۹۴۰

منبع: اسلام ٹائمز

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬
تازه ترین خبریں
مقبول خبریں