29 December 2018 - 19:30
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 439003
فونت
نجف اشرف کے امام جمعہ:
نجف اشرف عراق کے امام جمعہ نے امریکی صدر جمھوریہ کے حالیہ سفر عراق کی جانب اشارہ کیا اور کہا: عراقی اپنی حفاظت خود کرسکتے ہیں لہذا انہیں امریکا کی ضرورت نہیں ہے ۔
حجت الاسلام سید صدر الدین قبانچی

رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر کی رپورٹ کے مطابق، نجف اشرف کے امام جمعہ حجت الاسلام سید صدرالدین قبانچی نے اس ھفتہ نماز جمعہ کے خطبے میں امریکی صدر جمھوریہ کے حالیہ سفر عراق کی جانب اشارہ کیا اور کہا: ٹرمپ ان حالات میں «عین الاسد» علاقہ میں پہونچے کے خوف سے لرز رہے تھے ۔

انہوں ںے ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دی جانے والی عراقی حکمراںوں سے ملاقات کی دعوت رد کئے جانے پر انہیں سراہا، ان کا شکریہ ادا کیا اور کہا: عراق کے پاس خود کی حفاظت کی توانائی و طاقت موجود ہے انہیں امریکی فوجیوں کی ضرورت نہیں ہے لہذا امریکی فوجی جلد از جلد خاک عراق سے نکل جائے ۔

نجف اشرف کے امام جمعہ نے مجمع تشخیص مصلحت نظام کے سربراہ آیت الله سید محمود هاشمی شاهرودی کے انتقال کے جانب اشارہ کیا اور کہا: شهید صدررہ کے اس شاگرد خاص کی اسلامی جمھوریہ ایران میں منزلت ہمارے لئے مایہ افتخار ہے ۔

انہوں نے بحرین کے شیعہ رھنما آیت الله شیخ عیسی قاسم کے سفر عراق پر انہیں خوش آمدید کہا اور تاکید کی: یہ شیخ مجاہد ، تقوائے الھی ، پرھیزگاری ، جھاد اور لوگوں کی حمایت میں معروف ہے ۔

حجت الاسلام قبانچی نے اپنے خطبہ کے دوسرے حصہ میں یوم ولادت حضرت مسیح حضرت عیسی (علیه السلام) کے موقع پر عراق اور دنیا کے عیسائیوں کو مبارکباد پیش کی اور کہا: داعش کے دوران حکومت میں عیسائیوں نے بہت سختیاں برداشت کی ، عراق کی سرزمین چھوڑے والے تمام عیسائیوں سے ہماری درخواست ہے کہ اپنی سرزمین پر لوٹ آئیں ۔

انہوں نے عیسائیوں کے سلسلہ میں حضرت آیت الله سیستانی کی فتوے کے جانب اشارہ کیا اور کہا: عظیم الشان مرجع تقلید نے عیسائیوں کی عید پر انہیں مبارکباد پیش کرنے اور ان کے فقیروں کو صدقہ دینا جائز قرار دیا ہے ۔

نجف اشرف کے امام جمعہ نے نجف اشرف میں بعض غیر شرعی اعمال انجام پانے کی جانب اشارہ کیا اور کہا: نجف اشرف کی حکومت ہر اس کام کے مقابل جو اس شھر کے تقدس کو پائمال کرنے کا باعث ہو، سخت عکس العمل پیش کرے کیوں کہ نجف اشرف ایک مذھبی شھر ہے لہذا اس شھر کے ہوٹلزاور دیگر مقامات پر ناچ گانا ھرگز نہ ہونے پائے ۔/۹۸۸/ ن ۹۷۵

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬
تازه ترین خبریں
مقبول خبریں