23 December 2018 - 18:42
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 439436
فونت
صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں گورنر ہاؤس کے قریب واقع فیاض سنبل چوک پر لاپتہ افراد کی خواتین رشتہ داروں اور بچوں کے دھرنے کی وجہ سے بنا۔

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں گورنر ہاؤس کے قریب واقع فیاض سنبل چوک پر لوگوں نے ایسا منظر پہلے کبھی نہیں دیکھا، جو وہاں لاپتہ افراد کی خواتین رشتہ داروں اور بچوں کے دھرنے کی وجہ سے بنا۔
ہفتے کو رات گئے تک خواتین اور بچے شدید سردی میں اس چوک کے ساتھ نہ صرف رضائیوں اور کمبلوں میں لپٹے بیٹھے رہے بلکہ اپنے آپ کو سردی سے بچانے کے لئے آگ بھی جلائی۔
ذرائع کے مطابق ان میں سے بعض خواتین اور بچوں کا تعلق بلوچستان کے دور دراز علاقوں سے بھی تھا جو اپنے پیاروں کی بازیابی کے لئے علامتی بھوک ہڑتال میں شرکت کے لیے کوئٹہ آئے ہیں۔ اگرچہ بلوچستان سے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے کوئٹہ میں پریس کلب کے قریب ایک احتجاجی کیمپ سنہ 2009 سے قائم ہے لیکن اس سال یکم نومبر سے اس کیمپ میں خواتین اور بچوں نے بھی علامتی بھوک ہڑتال پر بیٹھنا شروع کیا۔
ہفتے کی سہ پہر کو علامتی بھوک ہڑتال پر بیٹھی خواتین اور بچوں نے ایک ریلی نکالی۔ وہ وزیراعلٰی سیکریٹریٹ تک جانا چاہتے تھے، لیکن جب ان کی ریلی گورنر ہاؤس کے ساتھ فیاض سنبل چوک پہنچی تو پولیس اہلکاروں نے انہیں آگے نہیں جانے دیا۔ پولیس کی جانب سے روکے جانے پر وہ واپس بھوک ہڑتالی کیمپ نہیں گئے بلکہ شدید سردی کے باوجود انہوں نے اسی چوک کے ساتھ تھڑے پر پرامن طور پر دھرنا دیا۔
ان کا یہ مطالبہ تھا کہ وزیراعلٰی سے ان کی ملاقات کرائی جائے تو وہ دھرنے کو ختم کر کے واپس کیمپ جائیں گے، لیکن ایسا نہیں ہو سکا جس کے باعث ان کا دھرنا وہاں رات ایک بجے تک جاری رہا۔ اس دھرنے میں بعض خواتین ایسی بھی تھیں جن کے پاس دودھ پیتے بچے اور بچیاں بھی تھیں۔
رات کو ساڑھے دس بجے کے قریب ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کیپٹن ریٹائرڈ طاہر نے دھرنے کے شرکاء سے ملاقات کر کے ان کو یقین دہانی کرائی کہ اتوار کو ان کی وزیراعلٰی سے ملاقات کرائی جائے گی لیکن دھرنے کے شرکاء نہیں اٹھے۔ اس موقع پر پولیس کی نہ صرف بھاری نفری پہنچ گئی تھی بلکہ جیل کی دو گاڑیاں بھی لائی گئی تھیں۔ تاہم رات ایک بجے دھرنے کے شرکاء سے ایک مرتبہ پھر ضلعی حکام نے ملاقات کی، جس کے بعد کئی گھنٹوں سے جاری دھرنے کو ختم کیا گیا۔
بلوچستان سے لاپتہ افراد کے رشتہ داروں کی تنظیم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین نصراللہ بلوچ نے بی بی سی کو بتایا کہ ضلعی انتظامیہ کے شرکا نے دھرنے کے شرکاء کو یہ یقین دہانی کرائی کہ اتوار کو پہلے ان کی ملاقات صوبائی وزراء سے اور بعد میں وزیراعلٰی سے کرائی جائے گی۔
انکا کہنا تھا کہ اس سے قبل بھی خواتین اور بچوں کو وزیراعلٰی سے ملاقات کی یقین دہانی کرائی گئی تھی لیکن 20 روز گزرنے کے باوجود یہ ملاقات ممکن نہیں ہو سکی، جس کے باعث مجبوراً شدید سردی میں لاپتہ افراد کے لواحقین کو رات دیر تک دھرنا دینا پڑا۔/۹۸۹/ف۹۴۰/

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬
تازه ترین خبریں
مقبول خبریں