13 January 2019 - 00:34
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 439510
فونت
مجلس وحدت مسلمین پاکستان شعبہ قم المقدس کے زیر اھتمام؛
آج بروز ہفتہ 12 جنوری,5 جمادی الاول کو مجلس وحدت مسلمین پاکستان شعبہ قم المقدس کے دفتر میں جشن ولادت حضرت زینب کبری سلام اللہ علیہا کا انعقاد کیا گیا۔

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مجلس وحدت مسلمین پاکستان شعبہ قم المقدس نے اپنے دفتر میں محفل ولادت حضرت زینب سلام اللہ علیھا کا انعقاد کیا ، اس جشن میں مختلف شعراء حضرات نے بی بی کی مدحت میں مدح سرائی کی اور اپنے کلام سے سامعین کو محظوظ کیا۔نظامت کی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے  مولاناسید اقتدار نقوی نے بھی اپنے مخصوص انداز سے سامعین کو فارسی اور اردو اشعار سے مستفید کیا۔

پروگرام کے مقرر  حجۃالاسلام سید حسنین جعفر زیدی  صاحب نے شروع میں ایہ "ذَٰلِكَ وَمَن يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّهِ فَإِنَّهَا مِن تَقْوَى الْقُلُوبِ " کی تلاوت اور تشریح بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہ جو قرآن کریم میں " ان الصفا و المروہ من شعائر اللہ"ہے مراد صرف صفا اور مروہ شعائر اللہ نہیں یا قربانی یا مناسک حج بلکہ یہ ایام منانا بھی شعائر اللہ میں شمار ہوتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہاں یہ جو شعراء نے آکر اپنا کلام پیش کیا ہے حضرت کی فضیلت میں یہ دراصل تعظیم ہے شعائر اللہ کی۔حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی زندگی پر روشنی ڈالتے ہوئے  کہا کہ" حضرت کی زندگی نہ صرف ہماری خواتین بلکہ ہمارے لیئے بھی اسوہ ہیں۔"آقا سید کے مطابق" انسان کے تکامل کیلئے تین چیزیں یا عوامل بہت اساسی اور اہم ہیں،

1- اس کے ارد گرد کا ماحول۔

2- ورثہ۔

3- تھذیب۔

حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی زندگی کو ان تینوں عوامل میں پرکھیں تو ہم پر واضح ہو گا کہ آپ کتنی عظیم ہستی ہیں۔"

مقرر حجۃالاسلام سید حسنین جعفر زیدی نے مزید کہا کہ" درست ہے کہ بی بی ایک وحی کے گھرانے سے تعلق رکھتی تھیں مگر تھیں تو ایک عورت ہی۔مگر کربلا میں اور کربلا کے بعد جس صبر و استقامت کا آپ نے مظاھرہ کیا وہ کسی مرد سے بھی توقع نہیں رکھی جا سکتی تھی۔بلکہ کربلا کی طرف جانے سے پہلے جب بڑے بڑے بزرگ شش و پنج میں تھے اور امام علیہ الصلاۃ والسلام کے ہمراہ آنے میں سوچ بچار میں پڑ گئے تھے کہ جائیں یا نہ جائیں بی بی نے نہ صرف امام کو حوصلہ دیا بلکہ اپنوں لخت جگر عون و محمد کو بھی امام کی نصرت کیلئے تیار کیا اور خود بھی گھر بار حتی شوھر کو چھوڑ کر امام وقت کا ساتھ دیا۔"

حجۃالاسلام مولانا حسنین جعفر زیدی نے دربار ابن زیاد میں بی بی کے جملہِ " ما رائت الا جمیلہ" کے بارے میں احساسی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ"ان مصیبتوں اور بلاؤں کے باوجود یہ ان شیردل خاتون کا حوصلہ تھا جو سب اپنے عزیزوں کو خون میں غلطاں دیکھتی ہیں،اپنے دس اور آٹھ سال کے عون و محمد کو تڑپتا دیکھنے کے بعد بھی کہتی ہیں" سب کچھ خوبصورت تھا" یہ دراصل معنوی خوبصورتی تھی جس کو بی بی درک کر چکی تھیں۔۔"

آخر میں  آقا سید نے مدافعین حرم بی بی کے بارے میں ان کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ لوگ ہمیشہ کیلئے امر ہو گئے اس دنیا میں بھی کامران و سرفراز اور آخرت میں تو خود اہل بیت علیھم السلام اور خصوصاً خود بی بی ان کی شفاعت کریں گی۔ جو اسراء تھےآپ دیکھ لیں تاریخ اور وقت نے ثابت کیا ہے کہ وہ معزز و سرافراز ہیں اور ابن زیاد اور ابن سعد جیسوں کو رسوائی اور ذلت کے سوا کچھ نہیں ملا۔"

خطیب جشن کے مطابق ان شاءاللہ یہ وقت ثابت کرے گا کہ ہمارے بیگناہ اسراء جو کئی کئی سالوں سے ناکردہ گناہ اور بغیر کوئی جرم ثابت ہونے کے قید ہیں ،ایک دن عزت اور سرفرازی ان کو ملے گی اور ان وقت کے ابن زیادوں اور ابن سعدوں کے مقدر میں ذلت و رسوائی ہوگی۔"

یاد رہے اس جشن میں طلاب اور علماء کرام کی اچھی  خاصی تعداد موجود تھی۔ /۹۸۸/ ن۹۲۱

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬