03 February 2019 - 18:18
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 439671
فونت
حجت  الاسلام سید جواد نقوی :
جامعہ عروۃ الوثقی کے سربراہ نے کہا کہ ہمارا مدرسہ جامعہ عروۃ الوثقیٰ پاکستان تاریخ کا منفرد مدرسہ ہے جہاں اہلسنت اساتذہ بھی تدریسی فرائض سرانجام دے رہے ہیں اور طلباء میں بھی اہلسنت شامل ہیں۔

رسا نیوز ایجنس کی رپورٹ کے مطابق تحریک بیداری امت مصطفیٰ اور جامعہ عروۃ الوثقی کے سربراہ حجت  الاسلام سید جواد نقوی نے لاہور میں سینیئر صحافی کے اعزاز میں دیئے گئے عشایئے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا مقصد اقتدار کا حصول نہیں بلکہ قوم کی شعوری تربیت ہے، ہم قوم کو علم کی دولت سے مالامال کریں گے اور وہ باشعور ہو کر خود اس قابل ہو جائیں گے کہ اپنے لئے صالح حکمرانوں کا انتخاب کر سکیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے پاکستان میں وحدت کے فروغ کیلئے قدم اٹھایا ہے جس کے انتہائی مثبت نتائج برآمد ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ تمام مسلمان مسالک کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کریں، اس کیلئے ہم نے تمام مکاتب فکر کے جید علمائے کرام سے رابطے کئے جن کی جانب سے مثبت جواب ملا۔

انہوں نے کہا کہ ربیع الاول میں ہم نے وحدت کے موضوع پر کانفرنس کا انعقاد کیا جس میں تمام مکاتب فکر کی مثالی شرکت تھی۔

انہوں نے کہا کہ جمہوریت ملک کیلئے مفید نظام نہیں بلکہ اس میں ایک خاص طبقہ ہی فائدہ اٹھاتا ہے اور جن ممالک میں جمہوری نظام ہے وہ بھی دوہرے معیار کا شکار ہیں، وہ اپنے ممالک میں تو جمہوری نظام چلا رہے ہیں مگر مشرق وسطیٰ میں ان ممالک کے حامی اور دوست ہیں جہاں بادشاہت ہے۔

علامہ سید جواد نقوی کا کہنا تھا کہ ہمارا مدرسہ جامعہ عروۃ الوثقیٰ پاکستان تاریخ کا منفرد مدرسہ ہے جہاں اہلسنت اساتذہ بھی تدریسی فرائض سرانجام دے رہے ہیں اور طلباء میں بھی اہلسنت شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے مدرسے میں اہلسنت کے عقائد اہلسنت اساتذہ ہی پڑھاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے مدرسے کے نصاب کو جدید ضرورتوں اور علوم سے ہم آہنگ کر رکھا ہے، جس میں سائنس اور ٹیکنالوجی سمیت طب کی تعلیم بھی شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ دہشتگردی اور تکفیریت نے قوم کو بہت نقصان کیا، اس سے ہمارے ملک میں بھی مسائل پیدا ہوئے جبکہ اگر پوری پاکستانی قوم متحد ہو جاتی ہے تو اس سے ملک کی ترقی کی رفتار مزید تیز ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ یہ موقع تھا جب ہم نے قدم اٹھا دیا اور اب ان شاء اللہ لوگ ملتے جائیں گے اور کاررواں بنتا جائے گا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اپنوں کی نسبت دوسروں کی جانب سے زیادہ مثبت ردعمل ملا، جبکہ اپنوں نے اس انداز میں تعاون نہیں کیا جس انداز میں کرنا چاہیئے تھا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو فکرِاقبالؒ پر عمل پیرا ہو کر بحرانوں سے نکلا جا سکتا ہے، اقبال نے اس نظام کے حوالے سے بھی واضح بیان کیا ہے اور انکی فکر کی روشنی میں ہم ترقی کے زینے طے کر سکتے ہیں۔ عشائیے میں تمام ٹی وی چینلز اور اخبارات کے بیٹ رپورٹرز نے شرکت کی۔/۹۸۹/ف۹۴۰/

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬