20 February 2019 - 13:37
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 439807
فونت
سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر کا پاک سرزمین پر بیٹھ کر ایک برادر اسلامی ملک کے بارے میں اسرائیلی اور امریکی لہجہ میں گفتگو کرنا اور ہمارا خاموشی سے بیٹھ کر اس پر آئیں بائیں شائیں کرنا اس سوچے سمجھے منصوبے کا ایک ہلکا سا اظہار ہے۔

تحریر: سید اسد عباس

بین الاقوامی سفارتکاری میں جیسے کوئی ملک کسی کا دوست نہیں بلکہ مفادات ممالک میں تعلقات کی بنیاد ہیں، اسی طرح اس سفارت کاری میں کچھ بھی مفت نہیں ہوتا۔ ہر سکے کی کوئی قیمت ہے، جو لینے والے کو کسی نہ کسی شکل میں ادا کرنی ہوتی ہے۔ یہ جملے ان لوگوں کے لیے ہیں، جو اس بات پر بغلیں بجا رہے ہیں کہ ایک برادر اسلامی ملک نے ہم پر عنایات کی برکھا برسا دی ہے اور اب ہمارا معاشرہ اس برکھا سے نہال ہونے والا ہے۔ سعودیہ کا پاکستان کو مالی مشکلات کے کٹھن دور سے نکالنے کے لیے اس ملک میں سرمایہ کاری کا اعلان کرنا، ہمارے زرمبادلہ کو مستحکم کرنے کے لیے تین ارب ڈالر مہیا کرنا، عرب امارات کا سعودیہ کی پیروی کرتے ہوئے اتنی ہی رقم مہیا کرنا، تیل کی مد میں ہم کو ادھار تیل مہیا کرنا یقیناً اہم اقدامات ہیں، جو موجودہ کمزور پاکستانی معیشت کو سہارا دینے میں مددگار ہیں۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ سعودیہ کی جانب سے پاکستان پر یہ پہلی عنایت نہیں ہے بلکہ ان عنایات کا سلسلہ کافی طویل ہے اور یہ عنایات حکومتی اور نجی سطح پر یکساں جاری ہیں۔ اس مدد سے سعودیہ کو نہ تو عالمی پابندیاں روک سکتی ہیں اور نہ ہی امریکی غیض و غضب۔

1998ء میں ایٹمی دھماکے کرنے پر امریکہ نے پاکستان پر اقتصادی پابندیاں عائد کر دی تھیں، جس کے نتیجے میں پاکستان شدید مالی بحران کا شکار ہوگیا تھا۔ زرمبادلہ کے ذخائر پر اتنا شدید دباؤ تھا کہ حکومت نے نجی بنکوں سے ڈالر نکلوانے پر پابندی لگا دی تھی۔ اس صورتحال میں جب کوئی دوسرا ملک یا قرض دینے والا ادارہ امریکی پابندیوں کی وجہ سے پاکستان کی مالی مدد نہیں کرسکتا تھا، سعودی عرب پاکستان کی مدد کو آیا تھا۔ سعودی عرب نے اس وقت پاکستان کو تین ارب ڈالر سالانہ کا تیل ادھار دینا شروع کیا تھا۔ اسی طرح 2014ء میں پاکستان غیر ملکی ادائیگیوں کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے پاکستان کو زرمبادلہ کی ضرورت پڑی اس وقت بھی سعودی عرب نے ڈیڑھ ارب ڈالر کیش پاکستان کو دیئے تھے، جسے زرمبادلہ کے ذخائر بہتر بنانے کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔ 1998ء میں سعودی عرب کی جانب سے ادھار تیل کی فراہمی کا سلسلہ کئی برس جاری رہا۔ پابندیوں کی وجہ سے سعودی عرب نے اسے ادھار تیل کا معاہدہ قرار دیا تھا، لیکن دراصل یہ مفت تیل تھا، جس کے پیسے پاکستان نے کبھی واپس نہیں کیے۔ اسی طرح 2014ء میں سعودی عرب سے ملنے والے ڈیڑھ ارب ڈالر میں سے آدھی رقم کو گرانٹ قرار دے دیا گیا تھا، لیکن قرائن یہی بتاتے ہیں کہ پاکستان نے باقی کی رقم بھی ادا نہیں کی تھی۔ اس بار بھی یہی کچھ ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے حالیہ دورہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے تقریباً بیس ارب ڈالر کے معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔ پاکستانیوں کے لیے سعودیہ کی وزٹ ویزا فیس نوے ڈالر کر دی گئی ہے، اسی طرح اکیس سو کے قریب پاکستانیوں کو سعودی جیلوں سے رہا کرنے کا حکم جاری کیا گیا ہے۔ ایسے محسوس ہوتا ہے کہ جیسے پاکستانیوں کی ایک مرتبہ پھر پانچوں گھی میں ہیں، تاہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعی سعودیہ ہمیں مفت میں نوازتا ہے؟ کیا ہم نے ان نوازشات کی کوئی قیمت بھی ادا کی؟ نیز یہ کہ کیا ان نوازشات کا سلسلہ سبھی مسلمانوں کے لیے ایک جیسا ہے؟؟ ان سوالات کے جوابات غور طلب ہیں، پاکستان افغان جنگ کا حصہ کس کے کہنے پر بنا اور اس جنگ کے نتیجے میں ہمارے ملک پر کیا کیا مصیبتیں نازل ہوئیں، کلاشنکوف کلچر، دہشت گردی، فرقہ واریت کہاں سے آئے شاید سبھی سوالات کا ایک ہی جواب ہے، جو اس وقت ہم ایک مرتبہ پھر فراموش کرکے ریالوں کی گھن گرج میں مگن ہیں۔

یہ امر بھی ایک حقیقت ہے کہ سعودیہ کی نوازشات کا یہ سلسلہ سب مسلمانوں کے لیے یکساں نہیں ہے۔ یمنی عوام گذشتہ کئی برسوں سے سعودی غیض و غضب کا سامنا کر رہے ہیں۔ سفارتی سطح پر سعودیہ نے شام، عراق اور قطر کو عرب اور اسلامی دنیا سے الگ کر دیا ہے۔ سعودی حکومت اور ادارے کھل کر ایران کے خلاف بیانات داغ رہے ہیں۔ اسی طرح مسلم ممالک میں موجود مسلمان تنظیمیں سعودیہ کی جانب سے دہشت گرد کی سند اعزاز حاصل کرچکی ہیں، جن میں اخوان المسلمین، حماس اور حزب اللہ قابل ذکر ہیں۔ پس یہ بات تو واضح ہے کہ سعودیہ کی ہم پر نوازشات فقط مسلمان ہونے کے سبب نہیں ہیں، نہ ہی اس ہمدردی کے پیچھے انسانیت کارفرما ہے۔ پاکستانی بورڈ آف انویسٹمنٹ کے چیئرمین ہارون الرشید اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں اور انھوں نے اس کا کیا خوب تجزیہ کیا کہ تیل کی پیداوار کرنے والے ممالک میں خود مختار دولت کا فنڈ (سوورین ویلتھ فنڈ) موجود ہوتا ہے۔ ان کی حکمتِ عملی ہوتی ہے کہ ایک دو ترقی یافتہ ممالک میں سرمایہ لگانے کے بجائے اس کو دنیا کے مختلف حصوں میں پھیلا دیں۔

سعودی عرب کے پاس سرپلس پیسے ہیں، جو وہ خطے میں لگانا چاہتا۔ یہ ظاہری سی بات ہے کہ کوئی بھی ملک خطے میں اپنا اثر و رسوخ رکھنا چاہتا ہے اور معاشی سرمایہ کاری اس اثر و رسوخ کو برقرار رکھنے کا ایک بہترین طریقہ ہے۔ پس سعودی عرب ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت جنوبی ایشیا میں سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر کا پاک سرزمین پر بیٹھ کر ایک برادر اسلامی ملک کے بارے میں اسرائیلی اور امریکی لہجہ میں گفتگو کرنا اور ہمارا خاموشی سے بیٹھ کر اس پر آئیں بائیں شائیں کرنا اس سوچے سمجھے منصوبے کا ایک ہلکا سا اظہار ہے۔ اللہ کریم پاکستان اور اس کے باسیوں کے اذہان کو نور بصیرت سے منور فرمائے، تاکہ وہ اپنے بہتر مستقبل کے بارے میں درست راہ کا تعین کرسکیں۔ ہمسایوں اور بھائیوں کے مابین نفرتوں کے بیج بو کر ترقی و خوشحالی کے خواب دیکھنا بھلا کہاں کی دانشمندی ہے۔/ ۹۸۸/ ن

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬
تازه ترین خبریں
مقبول خبریں