21 February 2019 - 08:20
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 439811
فونت
ایران میں پاکستانی سفیر:
رفعت مسعود نے کہا :خارجی عناصر ہمارے تعلقات کو خراب کرنا چاہتے ہیں مگر ہمیں ان کے مکروہ عزائم کو روکنا ہوگا ۔

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ایران میں پاکستان کی سفیر رفعت مسعود نے زاہدان دہشتگرد حملے پر ایرانی قوم سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے ایران و پاکستان کے درمیان اچھے تعلقات کے خلاف بیرونی عوامل ہیں اور انھیں ٹھیس پہنچانا چاہتے ہیں کہا : خارجی عناصر ہمارے تعلقات کو خراب کرنا چاہتے ہیں مگر ہمیں ان کے مکروہ عزائم کو روکنا ہوگا۔

انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا : دونوں ممالک کے درمیان جتنا اقتصادی اور تجارتی تعاون کو مضبوط بنائیں اتنا ہی سرحدوں میں دہشتگردوں کے ارد گرد گھیرا تنگ ہوگا۔ پاکستان خطے میں دہشتگردی کا قلع قمع کرنے کے لئے اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ تعاون کرتا ہے اور اس کا سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔

ایران میں پاکستان کے سفیر نے بیان کیا : پاکستان مشترکہ سرحدوں کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لئے ایران کے ساتھ کسی بھی سطح پر تعاون کرنے پر آمادہ ہے تاہم کچھ خارجی عناصر بھی موجود ہیں جن کی یہی خواہش ہے کہ پاک ایران تعلقات اچھے نہ ہوں لیکن ہمیں ان دشمنوں کے عزائم کو کامیاب نہیں ہونے دینا ہے۔

انہوں نے وضاحت کی : اگر آپ یورپ چلے جائیں وہاں تو کوئی سرحد بندی نہیں اور لوگ نقل و حرکت کرتے ہیں مگر پھر بھی مشکلات ہوتی ہیں۔ ہمیں خطے میں دہشتگردوں کی موجودگی کا علم ہے اور ہماری حکومت اور فوج کو بھی یہ پتہ ہے کہ وہ کونسے گروہ ہیں اور انھیں کہاں سے پشت پناہی اور مالی سپورٹ مل رہی ہیں جبکہ ایرانی حکومت اور فوج کو بھی اس کا علم ہے۔

خانم رفعت مسعود نے بیان کیا : اس وقت فوج، قانون نافذ کرنے والے ادارے، وزارت داخلہ ، خارجہ اور دیگر سیاسی حکام کے درمیان اچھا تعاون موجود ہے اور یقینا یہ تعاون جتنا مضبوط ہوگا اتنا ہی سرحدوں کی سلامتی میں اضافہ ہوگا۔ اگر مشترکہ سرحدوں پر امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانا ہے اور دہشتگردوں کے ارد گرد گھیرا تنگ کرنا ہے تو ہمیں صوبہ بلوچستان اور ایران کو سیستان و بلوچستان صوبے کے درمیان معاشی سرگرمیوں کو مزید بڑھانا ہوگا۔

انہوں نے اس بیان کے ساتھ کہ سرحدی مارکیٹوں کے قیام کو یقینی بنانا ہوگا تا کہ وہاں کے عوام کو خوشحالی ملے اور یقینا اس سے دہشتگردوں کا حوصلہ پست ہوگا کہا : پاکستانی حکام تفتان میں مارکیٹ کو فروغ دینا چاہتے ہیں اور اس کے علاوہ دو سے تین سرحدی مارکیٹیں بھی تعمیر کرنا چاہتے ہیں۔ ایرانی حدود میں میرجاوہ کی صورتحال بہت اچھی ہے تاہم پاکستانی حدود میں ابھی بہت کام کرنا باقی ہے۔

ایران میں پاکستان کے سفیر نے بیان کیا : عمران خان نے اپنی انتخابی مہم کے دوران علاقائی ممالک کے ساتھ تعلقات بڑھانے پر زور دیا تھا، ہمارے یورپ اور امریکہ جیسے بڑے ممالک کے ساتھ بھی تعلقات ہیں لیکن یہ بھی بڑی اہم بات ہے کہ پاکستان کو علاقائی ممالک کے ساتھ بھی اچھے تعلقات رکھنا ہوں گے۔

انہوں نے کہا : عمران خان نے خارجہ تعلقات سے متعلق چار ممالک ایران، ہندوستان، افغانستان اور چین کے نام لئے تھے۔ پاکستان چین اقتصادی اور سیاسی تعلقات گزشتہ برسوں سے بہت اچھے ہیں لیکن ہندوستان کے ساتھ ہماری ٹسل ہے جبکہ وزیراعظم نے بارہا کہا ہے کہ ہمیں بیٹھ کر تمام مسائل پر گفتگو کرنی ہوگی۔

خانم رفعت مسعود نے اس بیان کے ساتھ کہ پاکستان کے ایران سے تعلقات تاریخی ہیں، اور وزیراعظم چاہتے ہیں کہ ہماری سرحد امن و سلامتی کی سرحد ہو بیان کیا : خطے میں ہماری توجہ ہمسایوں پر مرکوز ہے اور ہمسایوں سے مراد یہی پانچ ممالک ہیں۔ گذشتہ سات مہینوں کے دوران ایران اور پاکستان کے درمیان متعدد سیاسی اور اقتصادی وفود کا تبادلہ ہوا، ڈاکٹر ظریف صاحب نے دو مرتبہ پاکستان کا دورہ کیا جبکہ ہمارے وزیر خارجہ قریشی صاحب بھی ایک دفعہ ایران آئے جبکہ نائب ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے بھی اسلام آباد کا دورہ کیا اور وہاں اعلی سفارتی حکام سے ملے۔

انہوں نے پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے کو مکمل کرنے کے سلسلہ میں کہا : ہم اس منصوبے کی فنانسنگ کی فراہمی کے طریقہ کار پر کام کررہے ہیں مگر اس منصوبے سے متعلق پاکستان کے سیاسی عزم پر شک کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہئے، ہم چاہتے ہیں کہ ایران کے ذریعے گیس پاکستان لائی جائے کیونکہ ہمیں گیس کی ضرورت ہے اور ہمیں روزانہ کی بنیاد پر گیس کی مشکلات کا سامنا ہے ، ہم گیس فروخت سے متعلق پابندیوں کے اثرات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں، اس پورے عمل کے لئے سنجیدگی سے آگے بڑھنا ہوگا اسی لئے پائپ لائن بچھانے کے لئے سرمایہ کاری اور فنانسنگ کے طریقہ کار کو دیکھ رہے ہیں۔

رفعت مسعود نے وضاحت کرتے ہوئے کہا : ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ گیس پابندیوں میں شامل نہیں جبکہ گیس کی مد میں رقم کی ادائیگی پابندی میں آجاتی ہے اسی لئے ہم ایران کو رقم کی ادائیگی کے لئے ایک موثر میکنزم چاہتے ہیں یا بارٹر ٹریڈ کے ذریعے اسے یقینی بنائیں جس کے بعد آئی پی منصوبے کی تکمیل ممکن ہوگی۔ پاکستان تمام راستے بشمول ملکی اور غیرملکی سرمایہ کاری کا استعمال کرے گا لیکن اہم بات یہ ہے کہ پاکستان اپنے عہد پر قائم ہے اور منصوبے کی راہ میں لاجسٹک مسائل اصل رکاوٹ ہیں۔

انہوں نے ایران کے سرحدی اہلکاروں کو دہشت گردوں کے ذریعہ یرغمال کئے جانے کے سلسلہ میں بیان کرتے ہوئے کہا : وہ تین ہفتے پہلے پاکستان گئی تھیں جہاں انہوں نے وزارت داخلہ اور فوج سے اس حوالے سے پوچھا تھا تو انھیں بتایا گیا کہ یرغمال ایرانی اہلکاروں میں سے 5 رہا ہوئے ہیں اور باقی کے 7 اہلکاروں کی رہائی کے لئے بھی کوششیں جاری ہیں۔ اتنا ہمیں پتہ ہے کہ مغوی ایرانی اہلکار صحت مند ہیں اور یہ اچھی بات ہے مگر ان کی واپسی سے متعلق کوئی نئی خبر نہیں تاہم تمام متعلقہ اداروں کی کوشش جاری رہے اور ہماری دعا ہے کہ مغوی ایرانی اہلکار جلد رہا ہوں۔

ایران میں پاکستان کے سفیر نے بیان کیا : جب جوہری معاہدہ طے پایا پاکستان پہلا ملک تھا جس نے اس کا خیرمقدم کیا کیونکہ ہماری نظر میں مشکلات کا حل پُرامن مذاکرات سے ممکن ہے اور ہمیں یقین تھا کہ ایران جوہری معاہدہ عالمی برادری، یورپ اور امریکہ کی جانب سے ایک مثبت قدم ہے۔ اس سلسلہ میں امریکا کا موقف صحیح نہیں ہے ۔ہم ایران جوہری معاہدے کی حمایت کرتے ہیں، اور اس کے علاوہ تمام مسائل بشمول ایران پر عائد پابندیوں کے خاتمے سے متعلق امریکہ سمیت کسی بھی ملک کے اقدام کا بھی خیرمقدم کرتے ہیں۔

خانم رفعت مسعود نے بیان کیا : پاکستان خود بھی پابندیوں کا شکار رہا ہے لہذا ہمیں اچھی طرح پتہ ہے کہ پابندیوں سے عام عوام کو بڑی مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔/۹۸۹/ف

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬