04 March 2019 - 16:50
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 439894
فونت
انجمن علمائے فلسطین نے آج «غاصب صھیونیت » سے تعلقات کے بارے فتوی جاری کردیا ہے ۔

رسا ںیوز ایجنسی کی صفا سے رپورٹ کے مطابق، انجمن علمائے فلسطین نے اسرائیل سے دوستانہ تعلقات کے حوالے سے فتوی جاری کردیا ہے جس میں واضح کیا گیا ہے کہغاصب صھیونیت سے دوستانہ تعلقات اور اس کے بارے میں وضاحتیں پیش کرنا امت اسلامی کے لیے بڑا خطرہ ہے۔

فتوی میں کہا گیا ہے: اسرائیل سے دوستانہ تعلقات کا مطلب اسلامی سرزمین پر یہودی بالادستی قبول کرنا اور مقدس سرزمین پر انکی موجودگی کو درست قرار دینا ہے۔

انجمن علمایے فلسطین نے مزید لکھا ہے: اسرائیل سے تعلقات کا مطلب انکی بالادستی قبول کرنا ہے حالانکہ تعلقات ہمیشہ امن کے بعد بنائے جاتے ہیں اور جنگ بندی کے صورت میں ایسے معاہدے ہوتے ہیں اور شرایط بدلنے پر تمام معاہدات ختم کیے جاتے ہیں ۔

انجمن علماء کا کہنا ہے: تمام ایسے معاہدے اور تعلقات خلاف احکام اور شریعت اسلامی ہے جنکی کوئی حیثیت نہیں اور بالاجماع ایسا معاہدہ باطل ہے۔

فتوی میں کہا گیا ہے: بلاشبہ اسرائیل سے معاہدہ اور دوستی کا سوائے ذلت و رسوائی کچھ نہیں اور پسپائی سے فلسطین حاصل نہیں ہوسکتا اور مقدس مقامات حاصل نہیں ہوسکتے ۔

علما کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں اسرائیل سے دوستی اور تعلقات مکمل حرام ہے جسکی کوئی وضاحت ممکن نہیں اور اس طرح کے تعلقات کا مطلب فلسطینی عوام اور سرزمین سے دشمنی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ اس سے پہلے بھی سال ۱۹۳۵ میں قدس اور الازھر کے علما نے اور پھر سال ۱۹۶۸ کو پاکستان میں منعقدہ ایک اہم کانفرنس میں فلسطین کے لیے اہم علما نے جہاد کو واجب قرار دیا تھا۔/۹۸۸/ ن

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬