05 March 2019 - 15:35
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 439911
فونت
حجت‌الاسلام والمسلمین انصاریان :
حوزہ علمیہ کے استاد نے اس بیان کے ساتھ کہ غبن کرنے والے قرآنی آیات و روایت پر ذرا سا بھی یقین نہیں رکھتے ہیں کہا : یہ لوگ حرام کے کس مقام تک پہوچ گئے ہیں کہ غبن کرتے ہیں ۔

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق حوزہ علمیہ کے استاد حجت‌الاسلام والمسلمین حسین انصاریان نے ایران کی تاریخی مسجد گنج کرمان میں اپنی تقریر کے درمیان بیان کیا : خداوند کریم نے قرآن کریم میں دو قسم کے ترازو کو بیان کیا ہے کہ اس میں ایک ترازو مادی ہے اور اس کے وجود میں آنے کی تاریخ روشن نہیں ہے ۔

انہوں نے اس بیان کے ساتھ کہ ایک ترازو معنوی ترازو بھی ہے کہ قرآن کریم کے کئی سورہ میں اس معنوی ترازو کا نام لیا گیا ہے کہا : خداوند عالم نے سورہ مبارکہ انبیاء ، سورہ مبارکہ القارعہ میں اس معنوی ترازو کی طرف اشارہ کی ہے اور قرآن کریم فرماتا ہے : اپنے ایجادی ترازو سے خیانت نہ کرو اور لوگوں کے مال میں کمی نہ کرو اور لوگوں نے جس مقدار تم کو روپیہ دیا ہے ان کو صحیح و سالم سامان دو ۔

حجت‌الاسلام والمسلمین انصاریان نے اس اشارہ کے ساتھ کہ خداوند عالم نے قرآن کریم کے ایک سو چودہ ۱۱۴ سورہ میں سے ایک سورہ کو مادی ترازو اور ترازودار سے مخصوص کیا ہے وضاحت کی : اگر خداوند کریم کے منشا کے مطابق الہی واجبات میں سامان و ترازو کا لحاظ نہ کی جائے تو تمہارے حرام مال میں شامل ہو جائے گا ، یہ مال تم کو حرام امور کی طرف لے جائے گا اور قرآن کریم میں بیان ہوا ہے کہ خدا کے زیر سلطنت سے کوئی فرار نہیں ہو سکتا ہے ۔

انہوں نے اس بیان کے ساتھ کہ جب حرام انسان کی زندگی میں جگہ بنا لیتی ہے تو اس کے تمام عبادتوں کو نقصان پہوچاتی ہے بیان کیا : اگر کسی کے احرام کے لباس میں ایک دھاگہ حرام مال کا ہو اور وہ انجام حج کے لئے محرم ہوتا ہے تو اس کا حج باطل ہے اور احرام سے باہر آنے کے لئے دوبارہ مکہ جائے اور اعمال احرام کو حلال لباس سے انجام دے ۔

قرآن کریم کے مفسر نے اس اشارہ کے ساتھ کہ پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا : اگر ایک درہم حرام کا اپنے گھر لے جاتے ہو تو جب تک یہ درہم تمہارے گھر میں ہے خداوند کریم اپنی نظر رحمت اس گھر پر نہیں ڈالتے ہیں بیان کیا : وسائل الشیعہ کتاب میں کہ جو ۲۰ جلد کتاب کا مجموعہ ہے کہ آیت اللہ بروجردی نے اس کی اشاعت کی ہے اور کتاب شریف فروع محروم کافی اور مرحوم مجلسی کی کتاب شریف بھار میں بیان ہوا ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) نے امام علی علیہ السلام سے بیان فرمایا ہے کہ اگر ایک شخص نے کسی شخص سے ربا لی ہو تو اس ایک درہم کی سختی و گناہ ۲۰ بار نا محرم کے ساتھ خاںہ خدا میں زنا کرنے سے زیادہ ہے ۔

انہوں نے اس بیان کے ساتھ کہ یہ روایت ایک درہم کے لئے ہے ، لیکن کیسے بعض لوگ لاکھو وکڑوڑو مال غبن کرتے ہیں اور ان کو کسی چیز کی فکر نہیں ہے بیان کیا : یہ لوگ حرام کے کس مقام تک پہوچ گئے ہیں کہ غبن کرتے ہیں اگر قرآنی آیات و روایت پر ذرا سا بھی یقین رکھتے تو ایسا کام نہیں کرتے ۔

حجت‌الاسلام والمسلمین انصاریان نے اس اشارہ کے ساتھ کہ خداوند کریم قیامت کے روز اعمال کے حساب و کتاب میں ایک شخص پر بھی ظلم نہیں کرتا ہے وضاحت کی : قرآن کریم میں بیان ہوا ہے کہ اگر مرد و عورت کا عمل ایک جوار کے دانہ کے مانند بھی ہوگا تو اس جوار کے دانہ کو تمام آسمان و زمین کے تباہ ہونے کے با وجود محشر میں لایا جائے گا اور اس کا حساب ہوگا ۔

انہوں نے اس بیان کے ساتھ کہ قیامت کے روز ترازو قرآن کریم ، پیغمبر اکرم (ص) ، امام علی علیہ السلام اور اہل بیت اطہار علیہم السلام ہیں اور خداوند عالم ہمارے اعمال کو امام علی علیہ السلام سے پیمائش کرے گا بیان کیا : اپنی زندگی کی تحقیق کی جائے کہ علوی ہیں یا نہیں ۔/۹۸۹/ف۹۷۰/

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬
تازه ترین خبریں
مقبول خبریں