06 March 2019 - 14:27
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 439915
فونت
صیہونی حکومت کے سرکاری ٹی وی پر حزب اللہ لبنان کے سیکریٹری جنرل سید حسن نصر اللہ کے بارے میں ایک دستاویزی فلم نشر کی جس میں سید حسن نصراللہ کے بارے میں دلچسپ اعترافات کئے گئے ہیں ۔

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی ٹیلویژن چینل "کان" نے پیر کو سید حسن نصر اللہ کے بارے میں ایک دستاویزی فلم نشر کی ۔

اس دستاویزی فلم میں اسرائیل کے سابق وزیر اعظم ایہود اولمرٹ نے کہا کہ ہم نصر اللہ کے میڈیا جال میں پھنس گئے، 2006 میں ان کی تقریر کو نشر کرنا بہت بڑی غلطی تھی، گویا وہ ہماری حکومت کے وزیر خارجہ یا سربراہ ہوں، اسی فیصلے کی وجہ سے سید حسن نصر اللہ کو ہمارے درمیان شکوک پیدا کرنے کا موقع مل گیا ۔

ایہود اولمرٹ کو اس دستاویزی فلم میں یہ کہتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے کہ 2006 میں لبنان سے بوکھلاہٹ کے ساتھ اور غیر ہدف مند طریقے سے ہماری واپسی، نصر اللہ کی جانب سے ہمیں مکڑی کے جالے جتنا کمزور بتانے والی تقریر کی بنیاد پر تھی ۔

واضح رہے کہ اسرائیل نے 2000 میں حزب اللہ کے سامنے ہتھیار ڈالتے ہوئے جنوبی لبنان سے انخلاء کا فیصلہ کیا جس پر اس نے 1982 سے ہی قبضہ کر رکھا تھا۔

سید حسن نصراللہ نے 2006 میں 33 روزہ جنگ کے آغاز سے کچھ دنوں پہلے اپنی تقریر میں کہا تھا کہ اسرائیل، مکڑی کے جالے سے بھی زیادہ کمزور ہے ۔

اسرائیل کے سرکاری ٹی وی پر سید حسن نصر اللہ کے بارے میں نشر ہونے والی دستاویزی فلم میں بیان کی گئی کچھ اہم باتیں :

حسن نصر اللہ کے پاس ہمارے بارے میں اچھی اطلاعات ہیں، انہوں نے اسرائیلی حکام اور تاریخ کا زبردست مطالعہ کیا ہے اور عرب دنیا میں کوئی بھی حسن نصراللہ کی طرح اسرائیل کی شناخت نہیں رکھتا ۔

حسن نصر اللہ وہ رہنما نہیں ہیں جو اپنے بچوں کو غیر ملکی یونیورسٹیوں میں بھیجے وہ اپنے بچوں کو جنگ کے محاذ پر بھیجتے ہیں ۔

سید حسن نصر اللہ 2000 میں ایک ایسے رہنما کے طور پر عرب دنیا میں سامنے آئے جس نے غاصبوں کو اپنی سرزمین سے نکال باہر کیا اور عظیم فتح حاصل کی ۔

نصر اللہ نے جنگ کے مناظر نشر کرنے کے نئے نئے طریقے ایجاد کئے اور پوری دنیا میں اس شعبے میں حزب اللہ کی طرح کوئی بھی تنظیم ماہر نہیں ہے۔ /۹۸۸/ ن

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬
تازه ترین خبریں
مقبول خبریں