07 March 2019 - 20:32
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 439939
فونت
آیت الله مکارم شیرازی:
حضرت آیت الله مکارم شیرازی نے ان خانوادہ کی حمایت کی اپیل کی ہے جو نسل کے افزائش میں توجہ رکھتے ہیں ، کم بچے اچھی زندگی نعرہ کو دینی اصول کے خلاف جانا ہے ۔

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق حوزہ علمیہ قم میں درس خارج کے مشہور و معروف استاد نے اپنے ہفتگی درس اخلاق میں رجب کے مبارک مہینہ کی آمد پر حاضرین کی خدمت میں مبارک باد پیش کی اور اس مہینہ کو بہت ہی اہم و با برکت و فضیلت مہینہ جانا ہے اور بیان کیا : رجب وہ مہینہ ہے کہ جس میں مشکلات و پریشانی رفع ہونے اور حاجات پورا ہونے کی زیادہ امید پائی جاتی ہے ۔

 مرجع تقلید نے اپنی گفتگو میں خانوادہ کے اخلاقی پہلو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تولید نسل میں افزائش کی تاکید کرتے ہوئے کہا : مسلمان خاص کر اہل بیت علیہم السلام کی پیروی کرنے والے نسل کی افزائش پر خاص توجہ دیں ، یہ مسئلہ قرآنی و روائی اصول کے مطابق ہے ۔

انہوں مسئلہ تسخیر سے متعلق آیات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یاد دہانی کی : قرآن کریم کی ۱۵ آیتیں ہیں کہ جو کہتی ہیں آسمان و زمین تمہارے اختیار میں ہیں ، قرآن کے نظر میں انسان کی اہمیت اس حد تک ہے کہ اس جہان کی تمام چیزوں کو اپنے اختیار میں کر لی ہے کہ اس سلسلہ میں قرآن کریم کی بعض آیات کی طرف اشارہ کرتا ہوں ۔

حوزہ علمیہ قم میں درس خارج کے مشہور و معروف استاد نے آیت شریفہ وَسَخَّرَ لَكُمُ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ دَائِبَيْنِ ۖ وَسَخَّرَ لَكُمُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ چاند و سورج جو منظم پروگرام کے تحت حرکت میں ہیں اس کو تمہارے لئے مسخر کر دیا ہے ، شب و روز کو بھی تمہارے مسخر میں بنایا ، اس آیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا : چاند و خورشید کو مسخر کرنے سے مراد انسان کے مصالح و مفاد کی خدمت میں قرار دینا ہے ۔

مرجع تقلید نے اپنی گفتگو کے سلسلہ کو جاری رکھتے ہوئے حضرت رسول خدا (ص) کی روایت کی طرف اشارہ کیا ہے جس میں نسل میں اضافہ کی تاکید ہوئی ہے وضاحت کی : حضرت اس حدیث میں فرماتے ہیں تناكحوا تناسلوا تكثروا، فإنی اباهی بكم الامم یوم القیامة و لو بالسقط ؛ مرد اور عورت ایک دوسرے سے شادی کریں اور نسل کے افزائش میں کوشاں ہوں ، یقینا قیامت کے روز دوسری امت کے مقابلہ میں ہم تمہارے لئے فخر و مباہات کرے نگے چاہے سقط شدہ بچے ہوں ۔

حوزہ علمیہ کے مشہور و معروف استاد نے وضاحت کی ؛ سید السجاد امام زین العابدین علیہ السلام ایک ورایت میں فرماتے ہیں : مِنْ سَعَادَةِ اَلرَّجُلِ أَنْ يَكُونَ لَهُ وُلْدٌ يَسْتَعِينُ بِهِمْ؛ وہ شخص نیک بخت و کامیاب ہے کہ جو صاحب اولاد ہے تا کہ وہ اس کی مدد کرے ، اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اولاد معاشرے میں اور خانوادہ میں بھی فراوان برکات کا حامل ہے ۔

انہوں نے وضاحت کی دوسری روایت میں بیان ہوا ہے : مَرَّ عيسى ابْنُ مَرْيَمَ بِقَبْرٍ يُعَذَّبُ صَاحِبُهُ ثُمَّ مَرَّ بِهِ مِنْ قَابِلٍ فَإِذَا هُوَ لَيْسَ يُعَذَّبُ فَقَالَ يَا رَبِّ مَرَرْتُ بِهَذَا الْقَبْرِ عَامَ أَوَّلَ وَ هُوَ يُعَذَّبُ وَ مَرَرْتُ بِهِ الْعَامَ وَ هُوَ لَيْسَ يُعَذَّبُ فَأَوْحَى اللَّهُ جَلَّ جَلَالُهُ إِلَيْهِ يَا رُوحَ اللَّهِ قَدْ أَدْرَكَ لَهُ وَلَدٌ صَالِحٌ فَأَصْلَحَ طَرِيقاً وَ آوَى يَتِيماً فَغَفَرْتُ لَهُ بِمَا عَمِلَ ابْنُه. ایک روز حضرت عیسی علیہ السلام ایک قبر پر پہوچے کہ صاحب قبر پر عذاب نازل ہو رہی تھی ۔ ایک سال بعد دوبارہ اس قبر پر پہوچا تو دیکھا کہ صاحب قبر پر عذاب نہیں ہے ۔ تو خداوند عالم کی خدمت میں عرض کی : اے پروردگار گذشتہ سال اس قبر پر پہوچا تو دیکھا صاحب قبر عذاب میں مبتلی ہے لیکن اس سال جب یہاں پہوچا تو صاب قبر کو عذاب سے راحت تھی اس کی کیا وجہ ہے ؟ تو خداوند عالم حضرت عیسی علیہ السلام پر وحی فرمائی : اے روح اللہ اس شخص کا بچہ بالغ ہوا ہے اور نیک و صالح راہ کو اختیار کی ہے اور ایک یتیم کو جگہ دی ہے ، یہ وجہ ہے کہ میں نے اس کے فرزند کے عمل کی بنا پر اس شخص کے گناہ کو نظر انداز کر دیا ہے ۔/۹۸۹/ف۹۷۰/

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬
تازه ترین خبریں
مقبول خبریں