10 March 2019 - 06:58
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 439952
فونت
امام علی نقی الھادی علیہ السلام فرماتے ہیں حسد انسان کی نیکیوں کو ختم کرے دیتا ہے اور بغض و دشمنی کا سبب بنتا ہے ۔

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق امام علی نقی الھادی علیہ السلام فرماتے ہیں حسد انسان کی نیکیوں کو ختم کرے دیتا ہے اور بغض و دشمنی کا سبب بنتا ہے ۔

سورہ بقرہ کی آیت ١٠٩ میں آیا ہے اہل کتاب  کے دل میں جو حسد ہے، وہ چاہتے ہیں کہ مومنین بھی انکے کفر کو اختیار کرلیں۔

وَدَّ كَثِيرٌ مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَوْ يَرُدُّونَكُم مِّن بَعْدِ إِيمَانِكُمْ كُفَّارًا حَسَدًا مِّنْ۔۔۔۔۔۔۔۔ سورہ بقرہ ۱۰۹

"بہت سے اہل کتاب اپنے دل کی جلن سے یہ چاہتے ہیں کہ ایمان لا چکنے کے بعد تم کو پھر کافر بنا دیں"۔

قرآن کریم میں متفقہ چار جگہوں پر حسد یا حسد سے نکلے ہوئے  الفاظ کا استعمال ہوا ہے۔

سورہ نساء کی آیت ٥٤ میں حسادت کے بارے میں بحث کی گئی ہے۔ آیات کی سیاق اور مفسرین کی تفسیر سےپتہ چلتا ہے کہ یہ آیت، رسول اکرم کے سلسلہ میں نازل ہوئی ہے کہ جب اکثر یہودی اسلام کے عروج کو دیکھ کر  حسد کیا کرتے تھے۔

"أَمْ يَحْسُدُونَ النَّاسَ عَلَىٰ مَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِن فَضْلِهِ فَقَدْ آتَيْنَا آلَ إِبْرَاهِيمَ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَآتَيْنَاهُم مُّلْكًا عَظِيمًا۔۶

"جو خدا نے لوگوں کو اپنے فضل سے دے رکھا ہے اس کا حسد کرتے ہیں تو ہم نے خاندان ابراہیم ؑ کو کتاب اور دانائی عطا فرمائی تھی اور سلطنت عظیم بھی بخشی تھی"۔

سورہ نساء کی آیت ٣٢ میں مومنوں کو حکم دیا گیا ہے کہ جو کچھ خدا نے انکو دیا ہے اس پر راضی رہیں اور جو دوسروں کو دیا ہے اس کی حسرت نہ کھائیں

وَلَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللَّهُ بِهِ بَعْضَكُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ لِّلرِّجَالِ نَصِيبٌ مِّمَّا اكْتَسَبُوا وَلِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ مِّمَّا اكْتَسَبْنَ وَاسْأَلُوا اللَّهَ مِن فَضْلِهِ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا۔ ۷

اور جس چیز میں خدا نے تم میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے اس کی ہوس مت کرو مردوں کو ان کاموں کا ثواب ہے جو انہوں نے کئے اور عورتوں کو ان کاموں کا ثواب ہے جو انہوں نے کئے اور خدا سے اس کا فضل (وکرم) مانگتے رہو کچھ شک نہیں کہ خدا ہر چیز سے واقف ہے۔

حدیث:

حسد سے متعلق بہت ساری حدیثیں موجود ہیں جنمیں ایک سب سے مشہور حدیث یہ ہے جس میں حسد کو آگ سے تشبیح دی گئی ہے۔ جس طرح آگ لکڑی کو کھا کر ختم کر دیتی اسی طرح حسد بھی انسان کی نیکیوں کو تباہ کر دیتا ہے۔۹

امام صادق(ع) فرماتے ہیں: "إنَّ الْحَسَدَ يَأْكُلُ الإْيمانَ كَما تَأْكُلُ النّارُ الْحَطَبَ"۔

حسد ایمان کوایسے کھاتا ہے، جیسے آگ لکڑی کو کھا جاتی ہے۔۹

غزالی کی نگاہ میں حسد ٧ چیزوں میں ہے: ۱: دشمنی ۲: کینہ رکھنا ۳:  اپنے اوپراترانا پنا تسلط بنائے رکھنا ۴:  غروراور تکبر: ۵: دوسروں کے مال پر تعجب کرنا ۶: اپنے مرتبہ کے ضائع ہونے کا ڈر ۷: حکومت  اور شہرت کا شوق نفس کی خباثت۔

 اسلام میں ایک نکتے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے: کہ حسد کا ریشہ در اصل دل کے اندر ہے اس لئے اسے قلب کی صفت کہا گیا ہے۔ یہ دلی صفت بعض اوقات جب انسان کی زبان یا رفتار میں ظاہر ہوتی ہے تب انسان ایک برے گناہ میں مرتکب ہوتا ہے اس وقت اسے چاہیے کہ اپنے گناہ کی معافی مانگے (یجب الاستحلال منھا) لیکن بعض اوقات حسد صرف دل کے اندر ہی رہتا ہے، اس صورت میں انسان فقط اپنے اور خدا کے درمیان گناہ کا مرتکب ہوتا ہے۔

جن کے دل ایمان الہی سے منور رہتے  ہیں وہ حسد نہیں کرتے۔ 

رسول اکرم کی صفات میں انفاق ایک خاص صفت تھی آپ کہا  کرتے تھے کہ اُحد کی پہاڑی کے برابر بھی ہمارے پاس سونا ہوتا  تو میں اسے تین دنوں سے زیادہ اپنے پاس نہیں رکھتا یعنی بانٹ دیتا۔ آخرت پر یقین انسان کی بہت ساری بیماریوں کا ازالہ کرتا ہے۔انسان کا ایمان جتنا کمزور ہوتا چلا جائیگا اسپر روحانی بیماریوں کا غلبہ ہوتا چلا جائیگا۔ 

حسد کے معاشرہ میں نقصانات۔

حسد سے معاشرے میں نقصانات ہونے کے امکانات زیادہ ہیں وہ معاشرہ جہاں لوگوں میں حسد زیادہ پایا جاتا ہے۔ معاشرہ ترقی فلاح اور پیشرفت نہیں حاصل کرسکتا اور سُکڑ کر رہ جاتا ہے اور رفتہ رفتہ اس معاشرہ کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ حسد ایک بیماری ہے جو اس معاشرہ کھا جا تی ہے۔

موجودہ دور میں حسد کا رول:

موجودہ دور میں اور قبل بھی حسد کے مسائل رہے ہیں۔ آج جب تمام اشیاء ضرورت  ہر فرد بشر کو دستیاب ہو رہی ہیں۔ حسد کے مسائل آہستہ آہستہ کم ہوتے چلے جا رہے ہیں۔

حسد عموما متوسط طبقہ یا دولتمند طبقہ میں ہی دیکھنے کو ملتی بہت غریب طبقہ وہ اپنی روٹی کمانے میں اتنا مشغول رہتا ہے کہ اسے دوسروں کے ثروت کے بارے میں سونچنے کا موقع ہی نہیں ہے۔

 حسد کو دوسروں پر غلبہ پانے کے لئے (Domination) ایک ٹول کی حیثیت سے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ جیسے جیسے معاشرہ میں علم، عقل اور روحانیت کا فروغ ہوتا جائیگا حسد  میں کمی آتی جائیگی۔  آج حسد حکومتی پیمانوں پر بھی  دیکھنے  کو ملتا ہے۔ دو ملکوں کے درمیان رقابت کی وجہ  حسد ہو سکتا  ہے۔ کوئی ملک ہمیشہ اقتدار میں رہنا چاھتا ہے وہ کسے دوسرے ملک کو ابھرتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا  ہے۔  حسد کی وجہ روحانیت میں کمی اور دینی جھالت بھی ہے۔ اسلام مساوات اور اخوت کا درس دیتا ہے۔ ہمیں برادرانہ سلوک کو بنائے رکھنا چاہئے اور انکساری اخلاق و اخوت کو فروغ دینا چاہئے۔ اور وہ افراد جو حسد کرتے ہیں ان سے دوری اختیار کرنا چاہئے۔

کیا کسی سے پیشرفت کی خواہش کو حسد کہ سکتے ہیں؟

کسے سے آگے بڑھنے کی خواہش کو حسد نہیں کہتے ییں۔ ایک فرد مومن اگر وہ واقعا مومن ہے تو وہ حسد نہیں  کرتا ہے بلکہ وہ رشک کرتا جو کوئی بری چیز نہیں ہے۔ یعنی اس بات کی خواہش کہ جو نعمت خدا وند نے دوسرے کو دی ہے وہ باقی رکھے اور خدا اسکو بھی اس نعمت سے نوازے۔

امام صادق(ع) فرماتے ہیں:

"إنَّ الْمُؤْمِنَ يَغْبِطُ وَ لا يَحْسُدُ، وَ الْمُنافِقُ يَحْسُدُ وَ لا يَغْبِطُ"

مومن رشک کھاتا ہے، حسد نہیں کرتا، لیکن منافق رشک نہیں کرتا بلکہ حسد کرتا ہے۔ ۱۰

"رشک" اور "حسد" میں یہ فرق ہے کہ۔ انسان رشک میں دوسروں کی نعمتوں کے زائل ہونے کی آرزو نہیں کرتا، بلکہ صرف یہ چاہتا ہے کہ کاش وہ بھی ان نعمات سے بہرہ مند ہوتا۔ رشک حسد کے مقابلے میں ایک اچھی صفت ہے، جیسے کہ روایت میں رشک کو صراحت کے ساتھ مومنین کی صفت کہا گیا ہے جب کہ حسد کو منافق کی خصلت کہا ہے۔ غزالی کہتے ہے کہ بعض جگہ پر یہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ استعمال ہوتے ہیں، اور نمونے کے طور پر اس نے ایک حدیث ذکر کی ہے۔

امام علی نقی الھادی علیہ السلام فرماتے ہیں اَلحَسَدُ ما حي‌الحَسَناتِ جالِبُ المَقتِ حسد انسان کی نیکیوں کو ختم کرے دیتا ہے اور بغض و دشمنی کا سبب بنتا ہے ۔

دوسری قلبی بیماریوں  کے نام ملا محمد نراقی رحمۃ اللہ علیہ اور علامہ راغب اصفہانی نے اس طرح بیان کئے ہیں:

انسان دو چیزوں پر زندہ ہے: جسم اور روح:

 اس لئے سماج یا معاشرہ میں دو طرح کی بیماریاں بھی ہوتی ہیں ۱: جسمانی بیماری ۲: روحانی بیماری۔

جسمانی بیماری:   کا علاج آپ جڑی بوٹی یا میڈیکل ڈاکٹر کے پاس جا کر کرتے ہیں۔ اور آپ اس کے بتائے ہوئے راستہ پر عمل کرتے ییں۔ جب بیماری علاج کے بعد بھی نہیں سنبھلتی ہے تو آپریشن کر وانا ہوتا ہے اور اسکے بعد ڈاکٹر اس حصہ کو جو بیمار ہوتا ہے  کاٹ کر نکال دیتا ہے۔

روحانی بیماری: مثلا حسد ، تکبر ،جلن، ھوس، طمع ، حب دنیا ، نفاق۔ یہ بیماریاں اس وقت پیدا ہونے لگتی ہیں جب انسان کی روح کو اسکی غذاؤں کی کمی محسوس ہو نے لگتی ہے۔  ہر مذھب میں روح کی غذائیں الگ الگ ہیں۔

اسلام میں روح کی غذا: صحیح ایمان کا ہونا، یعنی خدا پر ایمان ۔اللہ  کی کتاب پر ایمان،  اللہ کے  پیغمبروں پر ایمان آئمہ طاہرین کے بتائے راستوں پر ایمان ، دل کی سچائی، اچھی نیت، نماز روزہ حج زکوات، غصب کے مال سے دوری، تکبر سے دوری، دین کو اہمیت دینا اور خدا سے ڈرنا،  یہ سب اسلام میں روح کی غذا ہے۔ جو شخص خدا کی بتائی ہوئی باتوں پر عمل نہیں کرتا ہے اور اسے حقیر جانتا ہے۔ وہ روحانی بیماریوں کا شکار ہو جاتا ہے۔

اگر روح کو اچھی غذا دیجئے گا تو اچھی روح پرورش پائے گی  اور اگر خراب غذائیں  دیجئے گا تو روح میں خرابیاں پیدا ہو  سکتی ہیں۔

حسد کا بہتریں علاج: اپنی روح کو صحت مند رکھئے۔ اسے اچھی اور ایمان کی باتیں بتائیے قرآن سے رابطہ مت توڑئے ورنہ گمراہی لازمی ہے۔ اپنے اطراف علمی اور دینی ماحول بنائے رکھئے۔ خدا پر بھروسہ رکھئے  دوسروں کی مدد کیجئے۔

یتیموں مسکینوں اور غریبوں پر لطف و کرم کیجئے اور محنت و مشقت سے  خوب کمائیے کبھی حسد پیدا نہیں ہوگی۔  حسد منافق اور متکبر افراد کرتے ہیں۔ مومن حسد نہی کرتا ۔

ڈاکٹر سید ابو طالب زیدی

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬
تازه ترین خبریں
مقبول خبریں