10 March 2019 - 23:38
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 439961
فونت
آیت الله جوادی آملی:
حضرت آیت الله جوادی نے کہا : اگر انسان الہی راستہ پر رہے گا تو اقتصاد بھی منظم ہو جائے گا لیکن اگر غبن و احتکار کرے گا لیکن اگر احتکار و غبن ہو اور غیر عرف و غیر عاقلانہ خرچ کرتا ہو اور غیر عادلانہ تنخواہ حاصل کرتا ہے تو کوئی فائدہ نہیں ۔

رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر کی رپورٹ کے مطابق حوزہ علمیہ قم میں درس خارج کے مشہور و معروف استاد حضرت آیت الله عبدالله جوادی آملی نے ایران کے مقدس شہر قم کے مسجد اعظم میں منعقدہ اپنے تفسیر کے درس میں اس بیان کے ساتھ کہ عقل نقل کے مقابلہ میں ہے نہ شرع کے ، کہا : عقل چراغ کے مانند ہے لیکن چراغ کوئی خاص کام نہیں کر سکتا صرف دیکھتا ہے اور عقل کوئی حکم نہیں رکھتا ہے ۔

انہوں نے وضاحت کی : "العدل حسن" کو عقل دیکھتا ہے نہ یہ کہ اس کو بناتا ہے ، تعقل کا معنی یہ ہے کہ انسان عقل کے چراغ کے ذریعہ سمجھے کہ خدا اور پیغبروں نے کیا چیز عطا کی ہے اور اس کو انجام دے ، عقل سراج ہے نہ صراط کیوں کہ صرف قرآن و اہل بیت علیہم السلام صرط ہیں ۔

قرآن کریم کے مشہور و معروف مفسر نے اس بیان کے ساتھ کہ جو شخص بھی ظالم ہے وہ جہنم کا ایندھن ہوگا بیان کیا : عالم حساب کے عدد کے مانند ہے کہ اس سے کھیلا نہیں جا سکتا ، مال و کام جو صحیح نہ ہو بغیر کسی شک کے انسان کو رسوا کرتا ہے ۔

انہوں نے اپنی گفتگو کے سلسلہ کو جاری رکھتے ہوئے کہا : اگر انسان صحیح راستہ پر ہو تو اقتصاد بھی منظم ہو جاتا ہے لیکن اگر احتکار و غبن ہو اور غیر عرف و غیر عاقلانہ خرچ کرتا ہے اور غیر عادلانہ تنخواہ حاصل کرتا ہے تو کوئی فائدہ نہیں کیوں کہ خداوند عالم نے نعمت عنایت کی ہے لیکن بعض لوگ خود اور دوسروں پر رحم نہیں کرتے ہیں ۔

حضرت آیت الله جوادی آملی اگر انسان صحیح راستہ پر ہو تو خداوند عالم اسے تمام چیزیں عنایت کرتا ہے بیان کیا : اگر انسان غلط راستہ اختیار کر لیتا ہے تو اس کے اس عمل سے وہ خود اپنے لئے مشکل پیدا کرتا ہے ؛ فرمایا اگر انسان صحیح راستہ پر ہو نہ کہ کج راہ پر اور نہ ہی کسی کے راستہ کو بند کرتا ہے تو اس کی عزت و آبرو دنیا اور آخرت میں محفوظ ہے لیکن اگر ایسا ہو کہ ہر انسان اپنی مرضی و خواہشات نفس پر عمل کرے تو خود انسان نقصان اٹھائے گا ۔/۹۸۹/ف

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬