14 March 2019 - 08:41
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 439980
فونت
عراق سے واپسی پر ایران کے صدر :
اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر عراق کے اپنے تین روزہ سرکاری دورے کو ان دو ملکوں کے درمیان مہربانی و محبت آمیز رابطہ جانا ہے اور کہا :کسی بھی ملک و طاقت میں اتنی قدرت نہیں ہے کہ اس دو بزرگ قوم ایران و عراق کے درمیان اختلاف پیدا کر سکے ۔

رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر حجت الاسلام والمسلمین حسن روحانی ایران کے مہرآباد ائرپورٹ پر رپورٹروں کے درمیان عراقی حکومت و عوام کی طرف سے مخلصانہ و دوستانہ استقبال کی قدردانی کرتے ہوئے کہا : اس سفر میں عراق کے تقریبا تمام اعلی عہدے دار جس میں وزیر اعظم ، صدر جمہور ، اسپیکر ، و دوسرے اہم عہدہ دار سے خصوصی و جمعی ملاقات و گفتگو کی اور اس ملاقات میں بہت ہی اہم مسائل پر گفتگو و تبال خیال ہوا ۔

انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا : ان ملاقاتوں میں ۱۹۷۵ کے معاہدے کے مطابق سرحدی مسائل پر خصوصی توجہ پر زور دیا گیا، دریائے اروند کی بحالی پر مشترکہ تعاون کے لئے اتفاق کیا گیا جو دونوں ممالک خاص کر ایران کے جنوبی خطے کے لئے نہایت اہمیت کا حامل ہے معاہدہ انجام پایا ۔

ایران کے صدر جمہور نے اس بیان کے ساتھ کہ عراقی زائرین ہر سال تقریبا ۳ ملیون اور اور ایران سے بھی تقریبا دو ملیوں زائرین و سیاح عرق کی طرف سفر کرتے ہیں بیان کیا :  سیاحتی موضوع اقتصادی ، ثقافتی اور یہاں تک کہ سیاسی اعتبار سے بھی بہت ہی اہمیت کا حامل ہے ۔

انہوں نے بیان کیا : عراق میں مختلف شہروں کا دورہ کیا اور وہاں مشترکہ تجارتی کانفرنس، مختلف قبایلی سربراہ، عمائدین اور مذہبی شخصیات سے ملاقاتیں بھی ہوئیں۔

حجت الاسلام حسن روحانی نے کہا : اعلی عراقی قیادت صدر، وزیراعظم، اسپیکر پارلیمنٹ اور دیگر حکام کے ساتھ ملاقاتیں کیں اور دوطرفہ تعلقات کے علاوہ اہم علاقائی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔

انہوں نے مزید کہا کہ عراق میں مختلف شہروں کا دورہ کیا اور وہاں مشترکہ تجارتی کانفرنس، مختلف قبایلی سربراہ، عمائدین اور مذہبی شخصیات سے ملاقاتیں بھی ہوئیں ۔

ایران کے صدر جمہور نے بیان کیا : اعلی عراقی قیادت صدر، وزیراعظم، اسپیکر پارلیمنٹ اور دیگر حکام کے ساتھ ملاقاتیں کیں اور دوطرفہ تعلقات کے علاوہ اہم علاقائی امور پر تبادلہ خیال کیا گی ۔

انہوں نے تاکید کرتے ہوئے کہا : اس دورے کا ایک اہم فیصلہ یہ تھا کہ ایران اور عراق نے اپنے زائرین اور سیاحوں کے لئے ویزوں کی فیس کو ختم کردیا ۔

ایران کے صدر جمہور نے وضاحت کیا : ویزوں کی فیس کو ختم کرنے سے ایران اور عراق کے درمیان سیاحتی سرگرمیاں اور مذہبی دوروں میں قابل قدر اضافہ ہوگا ۔

انہوں نے بیان کیا : عراق، دنیا میں ایرانی مصنوعات کی پہلی منزل ہے، لہذا دوطرفہ تجارت کی توسیع کے لئے اہم اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، ٹیرف کے مسائل کو حل کرنے میں موثر اقدامات کئے جائیں گے تاہم اس حوالے سے دونوں ممالک کے تاجر اور کاروباری حلقے کا کردار اہم ہے ۔

حجت الاسلام حسن روحانی نے اس بیان کے ساتھ کہ اسی طرح اس سفر میں آئمہ ہدی (ع) اور امام حسین علیہ السلام کے اصحاب کی زیارت نصیب ہوئے کہا : یہ سفر ان دو ممالک کے درمیان رابطہ کے لئے اہم سنگ میل ہو اور امید کرتا ہوں کہ ایران و عراق کے درمیان تعلقات مزید بہتر ہونے کی امید ہے اور یہ دونوں ممالک اور خطے کی ممالک کے مفاد میں ہوگا ۔/۹۸۹/ف

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬