17 March 2019 - 22:11
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 439999
فونت
محمد ثروت اعجاز قادری :
پاکستان سنی تحریک کے سربراہ نے کہا کہ اگر مذاہب میں ٹکراؤ شروع ہوگیا، تو پھر یاد رکھا جائے دنیا کا امن تباہ ہو جائیگا ۔

رسا نیوز ایجنسی کی رہورٹ کے مطابق پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد ثروت اعجاز قادری نے کہا ہے کہ انتہاپسندی اور تشدد کو ختم کرنے کیلئے علماء و مشائخ کو اہم کردار ادا کرنا ہوگا۔

انہوں نے بیان کیا کہ مذہبی انتہاپسندی کے ذریعے دہشتگردی کو فروغ دینے کیلئے ملک دشمن قوتیں کام کر رہی ہیں، ہمیں اسلام کے حقیقی فلسفے کو فروغ اور نظریہ پاکستان کا ہر حال میں تحفظ کرنا ہوگا، سانحہ نیوزی لینڈ انتہاپسندی اور دہشتگردی کی انتہا ہے، انتہا پسندی کو نہیں روکا گیا، تو دنیا کا امن تباہ اور مذاہب میں ٹکراؤ شروع ہو جائیگا۔

انہوں نے بیا کیا کہ او آئی سی سانحہ نیوزی لینڈ پر صرف مذمت سے کام نہ چلائے، او آئی سی نیوزی لینڈ میں مسلمانوں کے سفاکانہ قتل کے خلاف آواز بلند اور دہشتگردوں کو انجام تک پہنچانے کیلئے کام کرے۔

ثروت اعجاز قادری کا کہنا تھا کہ دنیا کا کوئی مذہب انسانیت کے قتل کی اجازت نہیں دیتا۔ انہوں نے کہا کہ مغرب میں انتہاپسندی اور دہشتگردی عروج پر ہے، اقلیتوں اور تارکین وطن کو تحفظ فراہم نہیں کیا گیا، تو اس کے نتائج بھیانک ہو سکتے ہیں۔

ثروت اعجاز قادری نے کہا کہ انتہاپسندی اور دہشتگردی کی اصطلاع اپنی سوچ و منشاء سے کرنے والے ہی دہشتگردوں کو آکسیجن فراہم کر رہے ہیں، انسانیت کا قتل کرنے والا دہشتگرد ہے، اسے ذہنی یا نفسیاتی مریض نہیں کہا جا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ اگر مذاہب میں ٹکراؤ شروع ہوگیا، تو پھر یاد رکھا جائے دنیا کا امن تباہ ہو جائیگا، دنیا کے تمام مذاہب کو سانحہ نیوزی لینڈ کی مذمت اور جنونیت و دہشتگردی کو روکنے کیلئے بین المذاہب ہم آہنگی کیلئے کام کرنا ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ انتہاپسند دہشتگرد کسی بھی ملک میں ہوں، انہیں قانون کے تحت انجام تک پہنچایا جائے، اگر کوئی ملک مذہب کے نام پر کسی بھی دہشتگرد کو حیلے بہانے سے شیلٹر دینے کی کوشش کرے، تو پھر دنیا کے تمام ممالک کو ایسے ملک کے خلاف کھڑے ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ترکی نے سانحہ نیوزی لینڈ پر او آئی کا اجلاس طلب کیا ہے، اس کا خیر مقدم کرتے ہیں، او آئی کے اجلاس سے دنیا کو ایسا پیغام دیا جائے کہ بین المذاہب کو فروغ اور انتہاپسندی کا خاتمہ ہو۔/۹۸۹/ف۹۴۰/

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬