22 March 2019 - 21:16
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 440031
فونت
قائد انقلاب اسلامی حرم امام رضا علیہ السلام میں:
قائد انقلاب اسلامی نے تاکید کی : بعض افراد نئے سال کو خطرات کا سال قرار دے رہے ہیں لیکن میں اس کو مطلقا قبول نہیں کرتا ہوں اور میرا عقیدہ ہے کہ سال ۹۸ فرصتوں سے استفادہ کا سال ہے اور دفاعی بنیادوں کی تقویت اور خدا کے فضل سے، برکتوں اور مسائل کے حل کا سال ہو گا۔

رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر کی رپورٹ کے مطابق قائد انقلاب اسلامی حضرت آیت الله خامنه ای نے امام رضا علیہ السلام کے روضہ مبارک میں ہزاروں زائرین اور مجاورین کے عظیم الشان اجتماع سے خطاب میں امیرالمومنین حضرت علی بن ابیطالب علیہ السلام کے یوم ولادت باسعادت اور نئے ہجری شمسی سال کے آغاز کی مبارکباد پیش کی ۔

انہوں نے اعتکاف کے ایام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے وضاحت کی : معتکفین کی نورانی دلوں کو اس ایام کی مبارک باد پیش کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ الہی تفضل و رحمت معتکفین اور تمام لوگوں کے پاک نفس کے شامل حال رہے ۔

قائد انقلاب اسلامی نے آنے والے سال کے موضوعات ، مغربی حکومتوں کے ساتھ اس ملک کے مسائل اور نئے سال کا مقصد یعنی اقتصادی رونق اور تولید اور جوانوں سے ملک کے مسائل کو اپنی تقریر کے اصل محور قرار دیا ۔

سال ۹۸ فرصتوں سے استفادہ کا سال ہے

انہوں نے جاری مسائل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بیان کیا : بعض وقت مشاہدہ کیا جاتا ہے کہ بعض افراد نئے سال کو خطرات کا سال قرار دے رہے ہیں لیکن میں اس کو مطلقا قبول نہیں کرتا ہوں اور میرا عقیدہ ہے کہ سال ۹۸ فرصتوں سے استفادہ کا سال ہے اور دفاعی بنیادوں کی تقویت اور خدا کے فضل سے، برکتوں اور مسائل کے حل کا سال ہو گا ، ہاں جو لوگ اس کے بر خلاف اظہار نظر کرتے ہیں اور دوسروں کو خوف زدہ و ہراسان کرتے ہیں دانستہ یا ندانستہ قوم کے دشمنوں کے رجز خوانی کے تحت تاثیر ہو گئے ہیں ۔

حضرت آیت الله خامنه ای نے بیان کیا : ایرانی قوم کے دشمنوں نے دشمنانہ اقدامات کے ساتھ ہی نفسیاتی جنگ بھی چھیڑ رکھی ہے اور رجز خوانی بھی کرتے رہتے ہیں ، گزشتہ ہجری شمسی سال میں بھی رجز خوانی اور ایرانی عوام کو خوفزدہ اور ہراساں کرنے کی کوشش کی تھی۔

انہوں نے بیان فرمایا : گزشتہ شمسی سال کے دوران امریکا کے ایک نمبر کے ایک احمق نے کہا تھا کہ اگر ہم ایٹمی معاہدے سے نکل گئے تو ایرانی عوام  سڑکوں پر نکل کے بلوا کر دیں گے۔ اس نے دعوا کیا تھا کہ ایٹمی معاہدے سے امریکا کے نکلنے کے بعد حالات ایسے ہو جائیں گے کہ ایرانی عوام نان شبینہ کے بھی محتاج ہو جائیں گے۔ اور ایک دوسرے امریکی احمق نے اظہار نظر کیا تھا کہ امریکا ۲۰۱۹ میں کرسمس تہران کی سڑکوں پر منایا جائے گا ، خطے کے حالات کے سلسلہ میں ان کی تحلیل و تحقیق اس حد تک حقیقت سے دور ہے اور حماقت پر حماقت کر رہے ہیں یا روانی جنگ ان کا مقصد ہے اور خباثت کر رہے ہیں اور اس کو بار بار بیان کر کے جنگ روانی پیدا کر رہے ہیں ؟ ہاں ممکن ہے حماقت بھی ہو سکتا ہے اور خباثت بھی ۔

ملک کی اصلی مشکل اقتصادی اور معاشرے کے کمزور طبقہ افراد کی معیشت ہے

قائد انقلاب اسلامی نے بیان فرمایا : سال ۹۸ فرصتوں سے استفادہ کا سال ہے ، ملک کی اصلی مشکل اقتصادی اور معاشرے کے کمزور طبقہ افراد کی معیشت ہے ، اس مشکل کے ایک حصہ کا تعلق مغربی ممالک یعنی امریکا اور یورپ کی طرف سے ظالمانہ پابندی ہے اور کچھ حصہ داخلی کمی اور مدیریت کی کمزوری ہے ۔

انہوں نے بیان فرمایا : پابندیاں بھی مواقع ہو سکتی ہیں اور اس کمزوی و کمی کا مشاہدہ بھی آئندہ کے لئے بیش قیمت تجربہ ہو سکتی ہیں جو کئی برسوں تک ملک کو ادارہ کرنے سے حاصل ہوتی ہے ۔ پابندیاں مواقع میں تبدیل ہو سکتی ہیں کیونکہ تجربے نے ثابت کیا ہے کہ جن ملکوں کے پاس تیل جیسے قدرتی ذخائر موجود ہیں جب ان کی تیل کی آمدنی کم ہو جاتی ہے تو ان کے اندر وابستگی ختم کرنے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے اور وہ معاشی اصلاحات کی فکر کرتے ہیں۔

قائد انقلاب نے مزید فرمایا : ایران کی معیشت میں بھی جنگ کا آغاز ہو گیا ہے تاہم اللہ کے فضل سے ہم اس جنگ میں کامیاب ہوں گے ۔دشمن کو شکست دینا کافی نہیں بلکہ ہمیں اندر سے مزید مضبوط رہنا ہوگا. بعض اوقات دشمن ہم سے شکست کھاکر بھی کسی موقع کی تلاش میں رہتا ہے تا کہ وہ پھر سے ہمیں نقصان پہنچائے لہذا ہمیں ناقابل تسخیر دفاع کی اس حد تک پہنچنا ہوگا جہاں دشمن ہمارے خلاف کچھ نہ کرسکے۔ عسکری میدان کی طرح ہمیں معاشی لحاظ سے بھی ناقابل تسخیر بننا ہوگا۔

انہوں نے فرمایا : ایک ایسا بھی دور تھا جب دشمن اپنے جنگی جہازوں سے ایران پر بمباری کرتا تھا اور ہمارے پاس دفاع کے لئے کچھ نہیں تھا مگر آج ہم نے ہر لحاظ سے ترقی کی ہے جبکہ دشمن کو یہ پتہ چل چکا ہے کہ ایران کے پاس انتہائی درستگی کے ساتھ ہدف کو نشانہ بنانے والے ایسے میزائل ہیں جو خطے کی کسی بھی جگہ دشمن کا جواب دیا جاسکتا ہے۔

رہبر معظم نے فرمایا : مقدس دفاع کے برسوں میں مشرقی اور مغربی دونوں سپر طاقتوں نے صدام حکومت کو بہترین جنگی وسائل فراہم کئے جبکہ اسلامی جمہوریہ ایران پر پابندیاں تھیں اور حتی اس کو خار دار تاروں کی فروخت کی بھی اجازت نہیں تھی۔ جنگ کے زمانے میں سختیاں اس بات کا باعث بنیں کہ اغیار سے دفاعی وابستگی ختم کرنے کی فکر کی جائے اور آج فوجی اور دفاعی ساز وسامان اور وسائل کی تیاری کے لحاظ سے اسلامی جمہوریہ ایران کی پوزیشن خطے کے سبھی ملکوں سے بہتر اور مستحکم تر ہے۔

انہوں نے فرمایا : آج دشمن ایرانی قوم پر معاشی جنگ مسلط کر رکھی ہے. جنگ سے مراد صرف گولہ بارود اور ہتھیار نہیں بلکہ سیکورٹی اور انٹیلی جنس کی بھی جنگ ہوتی ہے جو بعض دفعہ عسکری جنگ سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔

آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے فرمایا : ہم اغیار کے دباؤ کو کوئی اہمیت نہیں دیں گے اور ملک کی دفاعی بنیادوں کی تقویت کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔ مغرب والوں سے سازش، خیانت اور پیچھے سے وار کی توقع تو رکھی جاسکتی ہے کسی مدد اور صداقت کی توقع نہیں رکھی جا سکتی۔

آپ نے فرمایا : یورپ والوں نے ایران کے ساتھ مالیاتی چینل کے قیام کے بارے میں پچھلے دنوں جو باتیں کی ہیں وہ ایک تلخ مذاق سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔ مغربی سیاستداں حقیقت میں وحشی ہیں اور امریکا اور مغرب کے سیاستدانوں میں شرارت اور شطینت کوٹ کوٹ کے پائی جاتی ہے-

رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے نیوزی لینڈ کے حالیہ دہشت گردانہ حملے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : نیوزیلینڈ میں مسلمانوں کا حالیہ قتل عام ان کی نظر میں دہشت گردی نہیں ہے۔ یہ دہشت گردی نہیں تو اور کیا تھی؟۔ یورپ والے، ان کے سیاستدا ں اور  ان کے ذرائع ابلاغ عامہ کوئی بھی اس حملے کو دہشت گردی کہنے پر تیار نہیں ہوا۔ انہوں نے اس کو مسلحانہ اقدام کہا۔ جہاں یورپ کی مرضی اور پسندیدہ شخص پر اگر کوئی حملہ ہو تو وہ ایسے دہشتگردی قرار دیتے ہوئے انسانی حقوق کا واویلا کرتے ہیں اور جہاں ان کی مرضی نہ تو دہشتگردی کی کوئی بات نہیں ہوتی، یہ ایسے لوگ ہیں۔

آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے سعودی حکومت کے بارے میں فرمایا کہ اس خطے میں اور شاید پوری دنیا میں سعودی حکومت جیسی بری کوئی اور حکومت نہیں ہے۔ یہ حکومت جابر بھی ہے، ڈکٹیٹر بھی ہے، بد عنوان بھی ہے، ظالم بھی ہے اور سامراجی طاقتوں سے وابستہ بھی ہے ۔

انہوں نے تازہ ترین علاقائی اور عالمی تبدیلیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئےفرمایا : مغربی ممالک نے یہ اعلان کیا ہے کہ وہ سعودی عرب کو ایٹمی ملک بنائیں گے اور اسے میزائل فراہم کریں گے۔ اگر مغرب نے ایسا کرنا ہے تو مجھے اس سے کوئی ذاتی مسئلہ نہیں کیونکہ مجھے یقین ہے کہ ایشی چیزیں انشاء اللہ قریب مستقبل میں مجاہدین اسلام کے ہاتھوں میں آئیں گی۔

آیت اللہ خامنہ ای نے نیوزی لینڈ میں حالیہ دہشتگردی پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ کیا مغرب کی نظر میں مسلمانوں کا قتل عالم دہشتگردی نہیں؟ یورپ میں نہ ان کے میڈیا اور نہ ہی ان کے سیاستدانوں نے اس واقعے کو دہشتگردی کا نام تک نہیں دیا جبکہ اسے ایک مسلح حملہ قرار دیا۔ جہاں یورپ کی مرضی اور پسندیدہ شخص پر اگر کوئی حملہ ہو تو وہ ایسے دہشتگردی قرار دیتے ہوئے انسانی حقوق کا واویلا کرتے ہیں اور جہاں ان کی مرضی نہ ہو تو دہشتگردی کی کوئی بات نہیں ہوتی۔

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬