27 March 2019 - 15:41
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 440058
فونت
اے این پی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے یہ کہتے ہوئے کہ عوام کی حکمرانی یقینی بنانے کیلئے تمام سیاسی قوتوں کو اپناکردار ادا کرنا ہوگا کہا: ہمارے معاشرے میں جنت برائے فروخت کے نام پر مسلمانوں کا قتل عام کیا جا رہا ہے ۔

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اے این پی کے مرکزی جنرل سکریٹری میاں افتخار حسین کہا: نیوزی لینڈ کا سانحہ انتہائی افسوسناک سانحہ تھا، جس نے تمام عالم اسلام اور دیگر دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔ اس واقعے کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔

انہوں نے مزید کہا: نیوزی لینڈ کی وزیراعظم نے اپنے کردار اور مسلمانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کی اعلٰی مثال قائم کر دی ہے، کسی بھی مذہب میں دہشتگردی کو جائز قرار نہیں دیا جاسکتا۔ پہلی بار نیوزی لینڈ کی پارلیمنٹ میں تلاوت قرآن پاک اور وزیراعظم کے مشرقی لباس میں شہداء کے لواحقین سے اظہار یکجہتی اور انکے کیلئے شہداء پیکج کے اعلان نے نئی تاریخ رقم کی ہے، جو حقیقی معنوں میں لائق تحسین ہیں۔

میاں افتخار حسین تاکید کی: اس سانحہ میں شہید ہونے والے نعیم راشد کی بہادری کو دنیا سلام کررہی ہے، نیوزی لینڈ اور پاکستان میں بہت فرق ہے، وہاں یکجان ہوکر دہشت گردی کی مخالفت کی جاتی ہے لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں دہشت گردوں کو تحفظ فراہم کیا جاتا ہے، میرے اکلوتے بیٹے میاں راشد شہید کے قاتل کو بچانے کیلئے کوششیں کی جا رہی ہیں جو نہ صرف اپنا گناہ قبول کرچکا ہے، بلکہ لوگوں نے اسے شناخت بھی کیا ہے۔

انہوں نے کہا: عالمی سظح پر پاکستان سے دہشتگردی کے خاتمے کیلئے کوششیں کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے لیکن یہاں معاملات الٹ ہیں، جب دہشت گردوں کو ثابت ہونے کے باوجود رہا کیا جائے تو دہشتگردی کیسے ختم ہوسکتی ہے؟ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں قربانیوں پر پاکستان کو ہلال امتیاز مل چکا ہے لیکن موجودہ صورتحال میں دہشتگردوں کی رہائی اس ایوارڈ کی توہین ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں جنت برائے فروخت کے نام پر مسلمانوں کا قتل عام کیا جا رہا ہے لیکن کوئی اس کے خلاف آواز اٹھانے والا نہیں۔ /۹۸۸/ ن

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬