01 April 2019 - 18:04
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 440082
فونت
رهبر معظم انقلاب اسلامی:
رهبر معظم انقلاب اسلامی نے امام صادق(ع) سے منقول حدیث کی تشریح میں کہا: خداوند متعال نے علما اور ماھرین سے اس بات کا عھد و پیمان لیا ہے کہ اگر وہ مالدار اور شکم سیر ظالم اور فقیر و بھوکے مظلوم کو دیکھیں تو اعتراض کریں ۔

رسا نیوز ایجنسی کی رھبر معظم انقلاب اسلامی کی خبر رساں سائٹ سے رپورٹ کے مطابق، رهبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے ۳ رحب المرجب مطابق ۱۰ مارچ ۲۰۱۹ عیسوی کو اپنے درس خارج میں " مالداروں کے وظائف" بیان کئے ۔

اپ کی تقریر حضرت امام صادق علیہ‌ السلام سے منقول حدیث کی تشریح ہے ۔

بسم الله الرّحمن الرّحیم؛

والحمد لله ربّ العالمین و الصّلاة و السّلام علی سیّدنا محمّد و آله الطّاهرین و لعنة اللَّه علی اعدائهم اجمعین.

عَن اَبی قَتادَةَ عَن داوُدِ بنِ سِرحانَ قالَ: کُنّا عِندَ اَبی عَبدِ اللَّهِ عَلَیهِ السَّلامُ اِذ دَخَلَ‌ عَلَیهِ‌ سَدیرٌ الصَّیرَفیُّ فَسَلَّمَ وَ جَلَسَ فَقالَ لَهُ: یا سَدیرُ! ما کَثُرَ مالُ رَجُلٍ قَطُّ اِلَّا عَظُمَتِ الحُجَّةُ لِلَّهِ تَعالى عَلَیهِ، فَاِن قَدَرتُم اَن تَدفَعوها عَن‌ اَنفُسِکُم فَافعَلوا؛ قالَ لَهُ: یَا بنَ رَسولِ اللَّهِ! بِماذا؟ قالَ: بِقَضاءِ حَوائِجِ اِخوانِکُم مِن اَموالِکُم. (۱)

تشریح:

عَن داوُدِ بنِ سِرحانَ قالَ: کُنّا عِندَ اَبی عَبدِ اللَّهِ عَلَیهِ السَّلامُ اِذ دَخَلَ‌ عَلَیهِ‌ سَدیرٌ الصَّیرَفیُّ فَسَلَّمَ وَ جَلَس ۔۔۔

اس روایت کی سند بہترین سند ہے ، البتہ سَدیر صیرفی کی توثیق نہیں کی گئی مگر اس کی کوئی اہمیت بھی نہیں کیوں کہ وہ اس روایت کے راوی نہیں ہیں بلکہ راوی داوود بن‌ سرحان ہیں کہ جو داوود رِقّی ہیں اور ثقہ ہیں ، روایت کی سند بھی اچھی ہے ۔

داوود بن‌ سرحان کہتے ہیں کہ میں حضرت امام صادق علیہ‌ السلام کی خدمت میں تھا کہ سَدیر صیرفی – جن کا پیشہ صرّافی تھا - حضرت علیہ‌ السلام کی خدمت میں وارد ہوئے ، انہوں نے حضرت علیہ‌ السلام کو سلام کیا اور بیٹھ گئے ۔

حضرت علیہ‌ السلام نے سدیر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: فَقالَ لَهُ یا سَدیرُ ما کَثُرَ مالُ رَجُلٍ قَطُّ اِلَّا عَظُمَتِ الحُجَّةُ لِلَّهِ تَعالى عَلَیه

بظاھر ایسا ہے کہ حضرت نے بغیر مقدمہ کے ، بغیر ان سے کچھ دریافت کئے اور کوئی بات کئے ان کی جانب رخ کیا اور فرمایا کہ اے سدیر! جس کے پاس پیسہ زیادہ ہو، جس کا مال زیادہ ہو اس پر خدا کی حجت بھی زیادہ ہوتی ہے ، کیوں کہ «اَخَذَ اللّهُ‌ عَلَى‌ العُلَماءِ اَلّا یُقارّوا عَلى کِظَّةِ ظالِمٍ وَ لا سَغَبِ مَظلوم»؛ (۲) خداوند متعال نے علماء سے اور اس مقام پر علماء سے مراد فقط فقھاء نہیں ہیں بلکہ معاشرہ کے تمام تعلیم یافتہ افراد ہیں ، اور ماھرین سے اس بات کا عہد لیا ہے کہ بھوکے فقراء اور شکم سیر امراء و مالداروں کے ظلم کے آگے خاموش نہ رہیں بلکہ اعتراض کریں ، اگر مالدار اور شکم سیر ظالم اور فقیر و بھوکے مظلوم کو دیکھیں تو معترض ہوں ، یہ خدا کی حجت اور دلیل ہے اور یہ خدا کا عھد و پیمان ہے ، حضرت علیہ السلام نے اس مقام پر سدیر سے فرمایا کہ اگر کسی کی دولت زیادہ ہوجائے تو خدا کی دلیلیں اور حجت بھی اس پر زیادہ ہوجاتی ہیں نیز اس کی ذمہ داریاں سنگین ہوجاتی ہیں ۔

 

فَاِن قَدَرتُم اَن تَدفَعوها عَن‌ اَنفُسِکُم فَافعَلوا

اگر ممکن ہے تو یہ زیادہ مال و دولت جو آپ کے پاس ہے اسے خود سے دور کریں ، سوال کیسے خود سے دور کریں؟ کیا ان پیسوں اور دولت کو دریا یا کویں میں ڈال دیں ؟ یا اسراف کریں اور بیجا پیسے خرچ کریں ؟ نہیں ھرگز یہ مراد نہیں ہے !

 

قالَ لَهُ یَا ابنَ رَسولِ اللَّهِ بِماذا؟

[سدیر نے سوال کیا:] ہم کس طرح پیسوں کو خود سے دور کریں ؟

قالَ بِقَضاءِ حَوائِجِ اِخوانِکُم مِن اَموالِکُم

[حضرت نے فرمایا:] اس کا طریقہ یہ ہے کہ اپنے آس پاس ، اپنے معاشرہ میں دیکھیں کہ نیاز مند کون افراد ہیں ان کی ضرورتوں کو برطرف کریں ۔

بعض افراد قدرت رکھنے کے باوجود ہمارے پاس آتے ہیں – چونکہ بیت المال ہمارے پاس ہے – ہم سے مطالبہ کرتے ہیں کہ فلاں انسان نیاز مند ہے اسے کچھ دے دیجئے ، ارے آپ تو خود مالدار ہیں ، آپ خود کیوں نہیں دیتے ، اگر آپ سے اس نیاز مند کی ضرورت پوری نہ ہوپائے تو پھر بیت المال سے اس کی ضرورتیں پوری کرنے کی کوشش کریئے ، یعنی خدا کی راہ میں انفاق کچھ لوگوں کے لئے بہت سخت ہے ، لہذا حضرت کا ارشاد ہے کہ اس زیادہ مال و دولت کو خود سے دور کرو ، یعنی اس میں سے اپنے مومن بھائیوں کو دو اور ان کی ضرورتیں پوری کرو ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حوالہ:

۱) امالی طوسی، مجلس یازدهم، صفحه‌ی ۳۰۲؛

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬