03 April 2019 - 17:16
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 440090
فونت
علماء کے وفد نے وزیراعظم سے ملاقات میں انتہا پسندی، دہشتگردی اور فرقہ واریت کے خاتمے کیلئے حمایت کا اعادہ کیا اور ملک کی سماجی و اقتصادی ترقی کیلئے حکومتی کوششوں کی بھرپور حمایت کے عزم کو دہرایا۔

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ دینی مدارس کے طلباء بھی جج، ڈاکٹر، انجینئر اور سائنسدان بن سکتے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان سے علماء کرام کے وفد نے ملاقات کی، جس میں علماء کرام نے انتہا پسندی، دہشت گردی اور فرقہ واریت کے خاتمے کے لیے حمایت کا اعادہ کیا۔

علماء کرام نے ملک کی سماجی و اقتصادی ترقی کے لئے حکومت کی کوششوں کی بھرپور حمایت کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔

علماء کرام نے کہا کہ دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا ہے اور دہشت گردی کو کسی مذہب سے جوڑنا مناسب نہیں ہے۔

اس موقع پر وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ہمیں شرپسند عناصر کے عزائم کو ناکام بھی بنانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں مختلف نظام تعلیم معاشرے میں تفریق کا باعث ہیں، لہٰذا سب کے لیے یکساں نظام تعلیم رائج کرنے کی اشد ضرورت ہے، نظام و نصاب تعلیم میں اصلاحات کے ضمن میں حکومت ہر ممکن اقدامات کرے گی۔

ان کا کہنا ہے کہ دینی مدارس کے طلباء بھی جج، ڈاکٹر، انجینئر اور سائنسدان بن سکتے ہیں اور دینی مدارس سے فارغ طلباء کو بھی ترقی کے مواقع فراہم کریں گے۔

علماء کے وفد میں مفتی منیب الرحمن، صاحبزادہ حامد رضا، پیر محمد نقیب الرحمن، پیر قمر الدین سیالوی، سید مخدوم عباس، پیر محمد امین الحسنات، سید علی رضا بخاری، مولانا عبدالمالک، مولانا ایم حنیف جالندھری، مفتی محمد نعیم، محمد راغب حسین نعیمی، ڈاکٹر قبلہ ایاز، مولانا عبدالخبیر آزاد، مولانا حامد الحق حقانی، پروفیسر ساجد میر، ایم یاسین ظفر، علامہ افتخار حسین نقوی، علامہ نیاز حسین نقوی، صاحبزادہ عبدالمصطفیٰ ہزاروی، ڈاکٹر عطا الرحمن، مولانا ایم افضل حیدری شامل تھے۔

علاوہ ازیں وزیر تعلیم شفقت محمود، وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین، وزیر مذہبی امور نور الحق قادری، وزیر پارلیمانی امور اعجاز شاہ، وزیر مملکت داخلہ شہریار خان آفریدی، معاونین خصوصی نعیم الحق، یوسف بیگ مرزا، ندیم افضل چن اور سینئر افسران بھی ملاقات میں شریک تھے۔ نیوزی لینڈ میں حالیہ دہشت گردی کا تذکرہ کرتے ہوئے علماء کرام نے کہا کہ اس واقعہ کا کسی مذہب سے تعلق جوڑنے کی کوشش نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ نہ تو دہشت گردی کا کوئی مذہب ہوتا ہے اور نہ ہی اسے کسی مذہب سے جوڑنا مناسب ہے۔

انہوں نے نیوزی لینڈ کی وزیراعظم کے رویے اور مسلمان کمیونٹی کے ساتھ ان کے اظہار یکجہتی کو لائقِ تحسین قرار دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک بھر کے علماء مسلمانوں کے خلاف بے بنیاد پراپیگنڈے کو نہ صرف مسترد کرتے ہیں، بلکہ ان عناصر کی بھی مذمت کرتے ہیں جو اپنے مذموم مقاصد کے لئے اسلام کے نام کو بدنام کرتے ہیں۔ علماء نے پیغامِ پاکستان کانفرنس کی سفارشات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ سفارشات امن و امان کے فروغ کے لئے ممدو معاون ثابت ہوں گی۔

ملاقات کے دوران حکومت کی جانب سے نصابِ تعلیم کی بہتری کے حوالے سے اصلاحات اور مدارس کی ریجسٹریشن کے امور پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔ وفد نے وزیرِ اعظم کو اس ضمن میں اپنے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ وزیرِاعظم نے اس موقع پر علماء کو ملک میں اقتصادی ترقی، کرپشن کے خاتمے اور عوامی فلاح و بہبود کے حکومتی پروگرام کی تفصیلات اور اس ضمن میں اب تک کی پیش رفت سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں امن و امان کا قیام اور عوام کی جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک کو مختلف چیلنجوں کا سامنا ہے، ہماری کوشش ہے کہ ملک کی معیشت کو مضبوط بنائیں جو کہ ملکی ترقی کے لئے ازحد ضروری ہے، حکومت معاشرے میں امن و آشتی اور عوامی فلاح و بہبود کو فروغ دینے کا عزم کیے ہوئے ہے، اس کے ساتھ ساتھ ہمیں شرپسند عناصر کے عزائم کو ناکام بھی بنانا ہے، اس مقصد کے حصول کے لئے علماء و مشائخ کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ علماء کرام نے وزیرِاعظم عمران خان کی جانب سے ملک میں بے سہارا اور محروم طبقات کے لئے اٹھائے جانے والے اقدامات کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے قومی اہمیت کے امور پر جس انداز میں علماء کرام کی مشاورت کو یقینی بنایا اور انکی رائے کو اہمیت دی ہے وہ لائقِ تحسین ہے۔ /۹۸۸/ ن

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬