07 April 2019 - 19:42
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 440116
فونت
حجت الاسلام علامہ سید جواد نقوی :
تحریک بیداری امت مصطفی کے سربراہ نے کہا :مومن وہ ہے جو اللہ کی وحدانیت پر یقین رکھتا ہو، انبیاء کو مانتا ہو اور قیامت کو مانتا ہو اور ملائکہ پر ایمان رکھتا ہو اس کا قتل جائز نہیں۔

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق تحریک بیداری امت مصطفی کے سربراہ حجت الاسلام علامہ سید جواد نقوی نے مسجد بیت العتیق جامعہ عروة الوثقیٰ لاہور میں خطاب کرتے ہوئے کہا : قرآن نے قصاص کو انسانی زندگی قرار دیا ہے، اگر حیات انسانی کو خطرے میں ڈالا جائے تو بہت بڑا جرم ہے۔ کسی بھی بہانے سے دوسرے کو مار دینا بدترین جاہلیت اور گناہ ہے۔

انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا : جنت حاصل کرنے کے نام پر مسلمان کو قتل کرنیوالے وحشی ہیں۔ دین کے نام پر عبادت سمجھ کرانسان کو قتل کرنا دہشتگردی ہے۔ انسانیت دین کا ستون ہے، انسانیت کیلئے دین ہے، انسانیت کی تکریم کیلئے دین ہے، نہ کہ انسانیت کو نابود کرنے کیلئے۔

علامہ نقوی نے بیان کیا : قصاص ہر آدمی نہیں کر سکتا بلکہ شرعی حاکم کر سکتا ہے، قصاص کا اجراء حکومتوں کا کام ہے۔ جو بھی زمین میں فساد کرنے کیلئے قتل کرے یا کسی نفس کو بغیر کسی جواز کے قتل کرے یا زمین میں فساد پھیلائے یہ خدا کے نزدیک برابر ہے، ایک بندے کو قتل کرنا برابر تمام بشریت کا قاتل ہے۔

انہوں نے مجرم کی وضاحت کرتے ہوئے کہا : مجرم صرف گولی، چھری یا چاقو سے قتل کرنیوالے ہی نہیں، کھانے پینے والی اشیا میں ملاوٹ کرکے مارنے والے بھی قاتل ہی ہیں۔ حیات انسانی کے ماحول کو گندا کرنے، پینے والا پانی گندا کرنیوالے، جعلی دوائیں بنانے والے اور انسانی غذاﺅں کو آلودہ کرنیوالے قرآن کی رو سے مجرمین کے زمر ے میں آتے ہیں۔ کیونکہ سرمایہ داری نظام میں سرمائے کی اہمیت ہے انسان کی اہمیت نہیں۔ فیکٹریوں کا گندا پانی نالیوں میں ڈالنے والے بھی انسانوں کے قاتل ہیں کیونکہ یہ کیمیکل ملا پانی دریاوں اور فصلوں میں ڈالا جاتا ہے، تو انسانی قتل کا باعث بنتا ہے۔

تحریک بیداری امت مصطفی کے سربراہ نے کہا : رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے کئی بار وضاحت کی ہے کہ ہم ایٹم بم اسلئے نہیں بناتے کیونکہ یہ انسانیت کش ہے اور یہی تقویٰ ہے۔ وہ دین نہیں جس میں حیات انسانی کی قدو قیمت نہیں۔

انہوں نے تاکید کرتے ہوئے کہا : سورہ مبارکہ بقرہ میں قتل میں قصاص لازم قرار دیا گیا ہے، اسی طرح انسانی اعضاء کا بھی خیال رکھا گیا ہے۔ یہ قصاص اور حدود تقویٰ کا حصہ ہے اگر اس کی پرواہ نہیں کریں گے اور ترک کریں گے تو ایسے ہی ہے جیسے مسلمان عبادات کے مومن ہیں۔

سید جواد نقوی نے بیان کیا : قصاص، حدود و دیت پر کوئی عمل نہیں کرتا اور کوئی پرواہ بھی نہیں، قرآن نے قصاص کو انسانی زندگی قراردیا ہے۔ اگر حیات انسانی کو خطرے میں ڈالا جائے تو بہت بڑا جرم ہے۔ سورہ مائدہ میں حیات انسانی کی اہمیت واضح کرتے ہوئے ایک انسانی زندگی خطرے میں ڈالنے کو پوری انسانیت کو خطرے میں ڈالنے کو پوری انسانیت کا جرم قرار دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا : ہماری دینداری قرآنی دین سے مطابقت نہیں رکھتی، کیونکہ ہم قرآن سے آگے نکل جاتے ہیں یا پیچھے رہ جاتے ہیں۔ مومن قاتل نہیں ہو سکتا مگر قتل خطائی گناہ نہیں لیکن اس قتل خطا سنگین جرم ہے، جس کی سزا اور جرمانہ دیت ہے، جس کا تعین اس ملک کے اقتصادی پیمانوں کی بنیاد پر ہوتا ہے۔

جامعہ عروة الوثقی کے سربراہ نے بیان کیا : مومن وہ ہے جو اللہ کی وحدانیت پر یقین رکھتا ہو، انبیاء کو مانتا ہو اور قیامت کو مانتا ہو اور ملائکہ پر ایمان رکھتا ہو اس کا قتل جائز نہیں۔ اس کو قتل نہیں کر سکتے کسی بھی بہانے سے، حادثاتی موت ارادی نہیں ہوتی۔ اس کو قتلِ خطا کہتے ہیں۔ لیکن جو قتل عمدی ہو اس پر سخت سزا ہے۔ ہخطائی جرائم کیلئے دیت جرمانہ رکھا گیا ہے۔ یہ دور حاضر کے مطابق پیمانہ کتنا ہوگا۔

حجت الاسلام سید جواد نقوی نے قصاص کے سلسلہ میں وضاحت کرتے ہوئے بیان کیا : یہ اجتہاد کا موضوع ہے۔ یہ مجتہدین کا کام ہے۔ اگر خطاء مومن نے مومن کو قتل کیا تو دیت ہے اگر جان بوجھ کرمارا تو دنیا میں قصاص ہے اور آخرت میں جہنم ہے اور اس سے چھٹکارا بھی نہیں۔ اس پر اللہ کا غضب اورلعنت بھی ہے۔

انہوں نے مجرم کی وضاحت کرتے ہوئے کہا : مجرم صرف گولی، چھری یا چاقو سے قتل کرنیوالے ہی نہیں، کھانے پینے والی اشیا میں ملاوٹ کرکے مارنے والے بھی قاتل ہی ہیں۔ حیات انسانی کے ماحول کو گندا کرنے، پینے والا پانی گندا کرنیوالے، جعلی دوائیں بنانے والے اور انسانی غذاﺅں کو آلودہ کرنیوالے قرآن کی رو سے مجرمین کے زمر ے میں آتے ہیں۔ کیونکہ سرمایہ داری نظام میں سرمائے کی اہمیت ہے انسان کی اہمیت نہیں۔ فیکٹریوں کا گندا پانی نالیوں میں ڈالنے والے بھی انسانوں کے قاتل ہیں کیونکہ یہ کیمیکل ملا پانی دریاوں اور فصلوں میں ڈالا جاتا ہے، تو انسانی قتل کا باعث بنتا ہے۔

تحریک بیداری امت مصطفی کے سربراہ نے کہا : رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے کئی بار وضاحت کی ہے کہ ہم ایٹم بم اسلئے نہیں بناتے کیونکہ یہ انسانیت کش ہے اور یہی تقویٰ ہے۔ وہ دین نہیں جس میں حیات انسانی کی قدو قیمت نہیں۔

انہوں نے تاکید کرتے ہوئے کہا : سورہ مبارکہ بقرہ میں قتل میں قصاص لازم قرار دیا گیا ہے، اسی طرح انسانی اعضاء کا بھی خیال رکھا گیا ہے۔ یہ قصاص اور حدود تقویٰ کا حصہ ہے اگر اس کی پرواہ نہیں کریں گے اور ترک کریں گے تو ایسے ہی ہے جیسے مسلمان عبادات کے مومن ہیں۔

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬
تازه ترین خبریں
مقبول خبریں