08 April 2019 - 23:48
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 440124
فونت
ایران کی اعلی قومی سلامتی کونسل نے مغربی ایشیا میں موجود امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ اور اس سے وابستہ تمام یونٹوں کو دہشت گرد گروہ قرار دے دیا ہے۔

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کی اعلی سلامتی کونسل نے امریکہ کی جانب سے پاسداران انقلاب فورس کو دہشتگرد تنظیم قرار دینے کے رد عمل میں امریکی حکومت کو دہشتگرد کی حامی اور امریکی سینٹرل کمان CENTCOM کو دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں قرار دے دیا۔

موصولہ رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کی اعلی سلامتی کونسل نے امریکہ کی جانب سے پاسداران انقلاب فورس کو غیر ملکی دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں قرار دینے کے اس غیر قانونی اور خطرناک اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے ایک بیان میں امریکی حکومت کو دہشتگرد کی حامی اور امریکی سینٹرل کمان CENTCOM کو دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں قرار دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق امریکی صدر "ڈونلڈ ٹرمپ" نے ایک بیان میں پاسداران انقلاب فورس کو دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا۔

ایرانی وزیر خارجہ نے پیر کے روز پارلیمنٹ میں قائم قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں امریکہ کی جانب سے پاسداران انقلاب فورس کو دہشتگرد تنظیم قرار دینے کی سازش کی شدید مذمت کر تے ہوئے کہا کہ امریکہ کے اس اقدام کی وجہ سے بہت سارے مسائل اور خطرات رونما ہوں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر چہ اسلامی جمہوریہ ایران خطے اور دنیا میں کشیدگی کے درپے نہیں ہے لیکن اگر واشنگٹن نے پاسداران انقلاب کو دہشت گرد قرار دیا تو ایران امریکہ کے خلاف جوابی کارروائی کرے گا۔

 ڈاکٹر محمد جواد ظریف نے صدر مملکت اور اعلی قومی سلامتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر حسن روحانی کے نام اپنے خط میں لکھا تھا کہ خطے میں تعینات امریکی فوجیوں کی جانب سے دہشت گرد گروہوں کی حمایت اور دہشت گردانہ سرگرمیوں میں امریکہ کے براہ راست ملوث ہونے کے پیش نظر، مغربی ایشیا کے لیے امریکی فوجی کمان سینٹ کام کو دہشت گرد گروہوں کی ایرانی فہرست میں شامل کرلیا جائے۔

سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل محمد علی جعفری پہلے ہی خبردار کرچکے ہیں کہ اگر امریکہ نے آئی آر جی سی کے خلاف ایسا احمقانہ قدم اٹھایا تو مغربی ایشیا میں موجود امریکی فوجیوں کو کہیں امان نہیں ملے گی۔

واضح رہے کہ ایرانی انقلاب کے بعد امام خمینی (رح) کی سربراہی میں پاسدارانِ انقلاب کا قیام عمل میں آیا تھا جس کا بنیادی مقصد نئی حکومت کی حفاظت اور فوج کے ساتھ اقتدار کا توازن برقرار رکھنا تھا جب کہ حکومتی پالیسی اور احکامات کی تعمیل کرانا بھی اس فورس کی ذمہ داری میں شامل ہے۔

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬
تازه ترین خبریں
مقبول خبریں