09 April 2019 - 16:02
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 440131
فونت
علی لاریجانی:
اسلامی جمہوریہ ایران کے پارلیمنٹ اسپیکر نے کہا ہے کہ امریکہ عالمی سطح پر فوجی اور اقتصادی دہشتگردی کی علامت ہے۔

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اسلامی جمہوریہ ایران کے پارلیمنٹ کے اسپیکر علی اکبر لاریجانی نے آج منگل کے روز ایرانی اراکین پارلیمنٹ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئےکہا کہ امریکہ کی جانب سےسپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کو نام نہاد دہشتگرد قرار دینا اس حکومت کی گہری جہالت اور کینہ پروری کی علامت ہے۔

اس موقع پرعلی لاریجانی نے سپاہ پاسداران کے قومی دن پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کا اس طرح کا غلط رویہ اس کی جہالت اور بے وقوفی کی علامت ہے.

علی لاریجانی نے کہا کہ سب جانتے ہیں کہ سپاہ پاسداران نے علاقے میں بڑی طاقتوں کی جانب سے حمایت یافتہ دہشتگردوں اور اسی طرح صدام کیلئے عالمی طاقتوں کی حمایت کے باوجود ان پر کاری ضربیں لگائیں.

انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ برسوں میں بڑی طاقتوں کے ہاتھوں کا کھلونا بننے والے دہشتگردوں نے علاقے کو آگ و خون میں نہلا دیا لیکن سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے ان کی کمر توڑ دی۔

ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے امریکی حکام کی توجہ پاکستان کی سابق وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو کے اس بیان کی جانب دلائی جس میں محترمہ بے نظیر بھٹو نے کہا تھا کہ بنیادی طور پر افغانستان میں دہشت گرد گروپوں کی تشکیل میں امریکہ کا ہاتھ تھا، لہذا آج امریکہ کو دہشت گرد گروہوں کے بانی اور حامی ہونے کے ناطے جوابدہ ہونا چاہئیے۔

ایران کی پارلیمنٹ کے اجلاس کے موقع پر اراکین پارلیمنٹ نے مردہ باد امریکہ کے فلک شگاف نعرے لگائے۔

سپاہ پاسداران اسلامی انقلاب (IRGC) کے خلاف امریکی اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل میں آئندہ دنوں انتخابات ہونے جارہے ہیں، ایران میں آج قومی یوم پاسداران ہے اور ایران امریکہ سفارتی تعلقات منقطع ہونے کی سالگرہ بھی قریب ہے.

ٹرمپ انتظامیہ نے گزشتہ رات ایران کے خلاف دشمنانہ پالیسیوں کے تسلسل میں سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کو دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیاجس کے جواب میں اعلی ایرانی سلامتی کونسل نے امریکہ کو دہشتگردوں کا حامی قرار دیتے ہوئے امریکی سینٹ کام فورس کو دہشتگرد گروہ قراردیا./۹۸۸/ ن

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬