13 April 2019 - 13:05
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 440157
فونت
مولانا کلب جواد نقوی:
مولانا کلب جواد نقوی امریکہ کے ذریعہ ایران کے فوجی دستے "سپاہ پاسداران انقلاب ‘‘ کو عالمی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کئے جانے کے فیصلے کی سخت مذمت کی ۔

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مجلس علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا سید کلب جواد نقوی نے امریکہ کے ذریعہ ایران کے فوجی دستے " سپاہ پاسداران انقلاب ‘‘ کو عالمی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کئے جانے کے فیصلے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا: امریکا کا یہ فیصلہ غیر عادلانہ اور آمریت پر مبنی ہے ۔

مولانا نقوی نے کہا کہ امریکہ کا یہ فیصلہ عالمی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے جس پر اقوام متحدہ اور دیگر انصاف پسند ملکوں کو امریکہ کے خلاف ٹھوس قدم اٹھانے چاہئیں کیونکہ پہلی بار کسی ملک کی فوج کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا گیاہے ۔

انہوں نے تاکید کی کہ سپاہ پاسدار ان انقلاب اپنے ملک اور سرحدوں کی حفاظت کے لئے مسلسل قربانیاں دیتی رہی ہے ،کیا ایسی فوج کو دہشت گرد تنظیم کہنا انصاف ہے؟۔ہم امریکہ کے اس فیصلے کی مذمت کرتے ہیں۔

مولانا نقوی نے کہا کہ امریکا ،اسرائیل اور سعودی عرب کی فوجیں مسلسل دوسرے ملکوں میں دہشت گردی کو فروغ دے رہی ہیں اور دہشت گرد تنظیموں اور ملکوں کی پشت پناہی کررہی ہیں ،کیا امریکہ اپنی اور اسرائیل کی فوج کو بھی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرے گا ؟۔

انہوں نے بیان کیا کہا کہ امریکہ خود بھی دہشت گرد ہے اور دہشت گردوں کا سرپرست ہے ،اس لئے وہ دوسروں کو دہشت گرد کہہ کر اپنی دہشت گردی پر پردہ ڈالنے کی ناکام کوشش کررہاہے۔

مولانا نقوی نے مزید کہا کہ ڈونالڈ ٹرمپ جب سے اقتدار میں آئے ہیں دن بدن عالمی صورتحال خراب ہوتی جارہی ہے ۔

انہوں نے ٹرمپ کا یہ معاندانہ فیصلہ مشرق وسطیٰ کو غیر مستحکم کردے گا اور اسکے نتائج خوش آئند نہیں ہونگے ۔

مولانا نقوی نے کہا کہ ٹرمپ کا یہ فیصلہ ایران پر عالمی دبائوں بڑھانے کی کوششوں کا حصہ ہے لیکن ٹرمپ کو نہیں معلوم کہ ایران مسلسل ایسی آمرانہ پابندیوں اور غیر عادلانہ فیصلوں کے خلاف ایک عرصے سے کامیابی کے ساتھ مقاومت کرتا آرہاہے اور ان شاء اللہ آئند ہ بھی وہ استعماری طاقتوں کے خلاف اسی طرح سینہ سپر رہے گا۔/۹۸۸/ ن

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬
تازه ترین خبریں
مقبول خبریں