20 April 2019 - 23:45
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 440219
فونت
آیت اللہ صدیقی:
اسلامی جمہوریہ ایران کے دارالحکومت تہران میں نماز جمعہ کے خطیب نے یورپی ممالک کی طرف سے ایران کو سختیوں اور دشواریوں میں تنہا چھوڑنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئےکہا ہے کہ ایران کے ساتھ یورپی ممالک کی رفتار بھی امریکی رفتار سے کم نہیں ۔

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اسلامی جمہوریہ ایران کے دارالحکومت تہران میں نماز جمعہ آیت اللہ صدیقی کی امامت میںم نعقد ہوئی، جس میں لاکھوں مؤمنین نے شرکت کی۔ خطیب جمعہ نے یورپی ممالک کی طرف سے ایران کو سختیوں اور دشواریوں میں تنہا چھوڑنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئےکہا ہے کہ ایران کے ساتھ یورپی ممالک کی رفتار بھی امریکی رفتار سے کم نہیں اور یورپی ممالک یقینی طور پر ایران کو سختیوں میں تنہا چھوڑ دیں گے۔

آیت اللہ صدیقی نے امریکی پابندیوں سے خوفزدہ ہونے والے افراد کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکہ اور فرانس نے مزید پابندیاں عائد کردیں تو کیا ہوجائےگا؟ کیا امریکہ اور فرانس متعدد مشکلات میں گرفتار نہیں ہیں۔ ہمیں امریکہ اور فرانس سے خوفزدہ ہونے کے بجائے اللہ تعالی سے ڈرنا چاہیے اور امریکہ و فرانس پر اعتماد رکھنے کے بجائے اللہ تعالی کی ذات پر اعتماد اور توکل رکھنا چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ جو لوگ امریکہ سے ڈرتے ہیں وہ متقی اور پرہیزگار نہیں ہیں ، متقی اور پرہیزگار لوگ صرف اور صرف اللہ تعالی سے ڈرتے ہیں اور اسی کی ذات پر اعتماد اور توکل رکھتے ہیں۔ حجۃ الاسلام صدیقی نے کہا کہ ہمیں امریکی پابندیوں سے نہیں بلکہ اللہ تعالی کی پابندیوں سے ڈرنا چاہیے۔

تہران کے عارضی خطیب جمعہ نے حالیہ بارشوں کو اللہ تعالی کی بہترین نعمت قراردیتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالی نے ایران کو خشکسالی سے بچا لیا اور ایران کے سوکھے ہوئے دریاؤں میں ایک بار پھر پانی موجیں مارنے لگا ہےاور ہمين اللہ تعالی کی اس نعمت کی قدر کرنی چاہیے۔

انھوں نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں فوج ، سپاہ ، رضاکار فورس اور عوام کی طرف سے امداد رسانی کے عمل کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی عوام اور حکام کو چاہیے کہ وہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امداد رسانی کا کام جاری اور ساری رکھیں۔

خطیب جمعہ نے سپاہ کے خلاف امریکی اقدام کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالی نے سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کو ہر دلعزیز بنادیا ہے اور سپاہ کی محبوبیت اور مقبولیت میں پہلے سے کہیں زيادہ اضافہ ہوگیا ہے۔ /۹۸۸/ ن

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬