26 April 2019 - 23:47
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 440260
فونت
حجت الاسلام سید سبطین حیدر سبزواری:
شیعہ علماء کونسل شمالی پنجاب کے صدر نے کہا کہ 37 افراد کو قتل کرنا تشیع کو للکارنے کے مترادف ہے۔

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق شیعہ علماء کونسل شمالی پنجاب کے صدر حجت الاسلام سید سبطین حیدر سبزواری نے سعودی عرب میں 37 شیعہ علماء، پروفیسرز اور نوجوانوں کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ آل سعود کا ظالمانہ شاہی نظام نہیں چل سکتا۔ اقوام متحدہ، او آئی سی، یورپی یونین اور انسانی حقوق کی تنظیمیں کیوں خاموش ہیں۔

انہوں نے بیان کیا : تمام شہداء کا قصور سعودی عرب حکومت کی یمن پر مسلط جنگ کیخلاف سوشل میڈیا پر اظہار مذمت تھا۔ آل سعود کو بے گناہوں کے خون کا حساب دینا ہوگا، جنہوں نے سعودی عرب میں شیعہ ہونا جرم بنا دیا ہے سعودی عرب کے شیعہ اکثریتی صوبے دمام، احساء اور قطیف میں بنیادی انسانی جمہوری حقوق سے محروم عوام کی زندگی اجیرن بنا دی گئی ہے۔

انہوں نے وضاحت کی ہے کہ تمام شہداء کا تعلق جنوری 2016ء میں بے گناہ قتل کئے جانیوالے عظیم قائد شہید آیت اللہ باقر النمر کی تحریک اصلاح سے ہے، جو شاہی مظالم پر سراپا احتجاج تھے، جو سعودی عوام کے حقوق غصب کرکے روا رکھے ہوئے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ظلم کیساتھ حقیقت کو دبایا نہیں جاسکتا، سعودی حکمران اہل تشیع کیخلاف تعصبانہ اور ظالمانہ اقدامات جاری رکھے ہوئے ہیں، انہیں حساب دینا ہوگا۔

لاہور میں علماء سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ یہ کیسا اسلام اور حکومت ہے کہ جہاں بے گناہ مسلمانوں کی گردنیں کاٹ دی جاتی ہیں، سعودی جلادوں کے ہاتھوں شہید کئے گئے افراد میں 15 سالہ نوجوان بھی شامل ہے، جنہیں اپنے ہی ملک میں شہری حقوق سے محروم رکھا گیا ہے اور اسی جلادی سوچ کا اثر دوسرے ممالک میں سعودی عرب سے فکری ہم آہنگی رکھنے والی دہشت گرد تنظیمیں کولمبو میں 360 مسیحی عوام کو قتل کرنے کی ذمہ داری قبول کرتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اسلام امن پسند مذہب ہے، جس کا قتل و غارت گری اور دہشتگردی سے کوئی تعلق نہیں۔ سعودی عرب دنیا میں عدم برداشت پیدا کر رہا ہے، 37 افراد کو قتل کرنا تشیع کو للکارنے کے مترادف ہے۔

علامہ سبطین سبزواری نے سعودی جلادوں کے ہاتھوں 37 افراد کی شہادت کی خبر پاکستان کے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا سے غائب کرنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ذرائع ابلاغ کی آزادی پر بھی سوالیہ نشان ہے۔؟

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬
تازه ترین خبریں
مقبول خبریں