28 April 2019 - 17:51
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 440278
فونت
ڈاکٹر ہیثم ابو سعید :
انسانی حقوق کے کمشنر نے کہا : سعودی عرب میں رہنے والے شیعہ مظلوم اور بے دفاع ہیں ان کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں ، انھیں صرف شیعہ ہونے کے جرم میں بے بنیاد الزامات عائد کرکے قید کرلیا جاتا ہے اور پھر ان کے سر قلم کردیئے جاتے ہیں۔

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق مغربی ایشیا میں انسانی حقوق کے کمشنر ڈاکٹر ہیثم ابو سعید نے سعودی عرب کی حکومت کے ہاتھوں 37 شیعہ مسلمانوں کے بہیمانہ طور پر سرقلم کرنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی حکومت نے سعودی شہریوں کا قتل عام کرکےعظیم اور سنگین  جرم کا ارتکاب کیا ہے۔

انہوں نے سعودی ظالمین کی طرف سے شیعوں کا سر قلم کئے جانے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا : سعودی عرب میں رہنے والے شیعہ مظلوم اور بے دفاع ہیں ان کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں ، انھیں صرف شیعہ ہونے کے جرم میں بے بنیاد الزامات عائد کرکے قید کرلیا جاتا ہے اور پھر ان کے سر قلم کردیئے جاتے ہیں انھیں اپنے دفاع کا حق بھی فراہم نہیں کیا جاتا۔

ڈاکٹر ہیثم ابو سعید نے سعودی عرب میں بے گناہ مسلمانوں کے بہمیانہ طور پر قتل کی مذمت کرتے ہوئے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا : میں ذاتی طور پر سعودی عرب میں 37 افراد کو مظلومانہ طور پر قتل کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہوں ، انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے بھی سعودی عرب کے اس بہیمانہ عمل کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

مغربی ایشیا میں انسانی حقوق کے کمشنر نے سعودی عرب کو بین الاقوامی اصولوں کے منافی اقدام کرنے میں ماہر جانا ہے اور بیان کیا : سعودی عرب کی اپنے شہریوں کے ساتھ وحشیانہ رفتار انسانی، اسلامی ، اخلاقی اور بین الاقوامی اصولوں کے منافی ہے۔

انہوں نے سعودی عرب کے ہاتھوں جمال خاشقجی کے بہیمانہ قتل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا : عالمی سطح پر سعودی عرب کے اس مجرمانہ عمل کی بھی مذمت کی گئی لیکن سعودی عرب امریکی پشتپناہی کی وجہ سے بھیانک جرائم کا ارتکاب جاری رکھے ہوئے ہے۔

مغربی ایشیا میں انسانی حقوق کے کمشنر نے ایران کے خلاف امریکی پابندیوں کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا : ایران کے خلاف امریکی اقتصادی پابندیاں بھی انسانی حقوق اور عالمی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہیں اور ہم اس کی مذمت کرتے ہیں۔

ڈاکٹر ہیثم ابو سعید نے کہا کہ کئی مؤثر اور باوزن ممالک نے بھی امریکہ کی ایران کے خلاف پابندیوں کو رد کردیا ہے اور اقتصادی پابندیوں کی جنگ میں بھی امریکہ کو ایران کے ہاتھوں شکست نصیب ہوگی۔

واضح رہے کہ اس سے قبل اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی ہائی کمشنر نے اپنے بیان میں سعودی عرب میں سزائے موت سنائے جانے کے غیر منصفانہ فیصلوں کے طریقہ کار کے بارے میں جاری ہونے والی رپورٹ کا ذکر کرتے ہوئے 37 افراد کو سزائے موت دیئے جانے کی سخت الفاظ میں مذمت کی-

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی ہائی کمشنر نے ان افراد کے کیس کی سماعت کے طریقہ کار اور ملزمان سے جبری اعترافی بیان لینے کے لئے ایذا رسانیوں سے متعلق رپورٹوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سعودی حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ، اپنے قوانین پر نظرثانی کر کے مزید افراد کو سزائے موت دینے منجملہ ان تین لوگوں کو جنھیں عنقریب سزائے موت دینے کا اعلان کیا گیا ہے ان کی سزا پرعمل درآمد سے اجتناب کریں۔

قابل ذکر ہے کہ سعودی عرب میں جب سے بن سلمان، ولی عہد بنائے گئے ہیں اس ملک کی جانب سے علاقے میں امریکہ اور اسرائیل کی پالیسیوں کو آگے بڑھایا جا رہا ہے جبکہ ہزاروں کی تعداد میں تاجروں، علمائے کرام اور مخالف سعودی شہزادوں کو گرفتار کر کے جیل میں بند کیا جا چکا ہے۔

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬