15 May 2019 - 09:21
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 440391
فونت
یوکرینی نومسلم خاتون:
یوکرین کی نومسلم خاتون محترمہ ویکٹوریہ کا کہنا ہے کہ میں نے دین اسلام کو اس لئے قبول کیا کیونکہ یہ دین فطرت انسانی کے عین مطابق ہے

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق نو مسلم خاتو ن ویکٹوریہ نے آستان قدس رضوی کے امام رضا سیٹلائٹ چینل سے گفتگو کے دوران کہا کہ میں نے دین اسلام کو اس اس لئے قبول کیا کیونکہ یہ دین انسانی فطرت کے عین مطابق ہے ۔

چارسال قبل اسلام قبول کرنے والی محترمہ ویکٹوریہ نے کہا کہ میں نے اس سے پہلے ہرگز خدا کے بارے میں کبھی سوچا بھی نہیں تھا کیونکہ میرے گھر والے ہمیشہ مجھ سے کہتے تھے کہ پہلے پڑھائی ،پھر یونیورسٹی اور آخر میں کام اور پیسے کمانا اور اسی وجہ سے خداکے علاوہ ہر چیز میرے ذہن میں تھی لیکن پھر ایک دن ایسا آیا جب میں نے خدا اور اس کی مخلوقات کے بارے میں سوچنا شروع کر دیا من جملہ یہی انسانی بدن کے اعضا اور اجزا جو اتنی پیچیدگی کے ساتھ اتنے اہم کام انجام دے رہے ہیں ان کے بارے میں سوچنے لگی یہ سب میرے لئے بہت عجیب تھے اور پھر میرے ذہن میں مختلف سوالات پیدا ہوئے اور آخر میں یہی نتیجہ نکالا کہ یہ سب کام فقط خدا ہی انجام دے سکتا ہے۔

امام رضا(ع) سٹلائیٹ چینل کے ضیافت الرحمن نامی پروگرام کی مہمان محترمہ ویکٹوریہ نے اپنی گفتگو کو مزید جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ان سوالات کے جوابات کے لئے عیسائیوں کی مقدس کتاب انجیل کا ترجمہ انٹرنیٹ سے ڈاؤنلوڈ کیا اور مطالعہ کرنا شروع کر دیا اور اس دوران بہت سارے سوالات میرے ذہن میں پیدا ہوئے من جملہ یہ کہ کیوں خداوند متعال انجیل میں ایک کام کرنے سے منع فرماتا ہے اس کے باوجود تمام عیسائی وہی کام انجام دیتے ہیں یا پھر یہ کہ انجیل کے قصے میرے لئے بہت ہی عجیب و غریب تھےمثال کے طور پر اس( دور کی انجیل کی) کتاب میں خداوند متعال فرماتا ہے کہ جب پریشان ہو توشراب پیئو اوریہ چیز انسانی عقل کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہے کیونکہ جب شراب پیتے ہیں تومست ہوجاتے ہیں جس کی وجہ سے نئی مشکلات شروع ہوجاتی ہیں۔

اس طرح کے بہت سارے سوالات میرے ذہن میں پیدا ہو چکے تھے لیکن ایک عیسائی ان سوالوں کا جواب نہیں دے سکتا تھا لیکن جب دین مبین اسلام سے آشنا ہوئی تو یہ واضح ہو گیا کہ دین اسلام عقل اور فطرت کے عین مطابق ہے۔

یوکرین میں مسلمانوں کے حالات پر گفتگو کرتے ہوئے محترمہ ویکٹوریہ کہتی ہیں کہ جب تین سال پہلے یوکرین سے آئی تھی اس وقت وہاں مسلمان بہت کم تھے اور اگر کچھ مسلمان تھے بھی تو وہ چھپ کر زندگی بسر کر رہے تھے لیکن کچھ وقت پہلے جب دوبارہ یوکرین گئی تو وہاں باپردہ خواتین کی تعداد زیادہ دیکھنے کو ملی البتہ بعد میں متوجہ ہوئی کہ یہ باپردہ خواتین تاجیکستان سے تعلق رکھتی ہیں جو حفظ حجاب کے لئے وہاں سے ہجرت کر کے یہاں آئی ہیں۔

محترمہ ویکٹوریہ سے جب سوال کیا گیا کہ آپ کے ملک میں تبلیغ کا بہترین ذریعہ کیا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ میری نظر میں یوکرینی عوام کی سب سے بڑی مشکل الکحل والے مشروبات کا استعمال ہے اور اس کے بعد غربت سب سے بڑی مشکل ہے کیونکہ وہاں کے زیادہ تر عوام ہمیشہ کام کرنے میں مصروف رہتے ہیں اور اسی لئے ان کے پاس دین کے بارے میں سوچنے کا وقت نہیں ملتا ہے۔

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬
تازه ترین خبریں
مقبول خبریں