18 May 2019 - 14:55
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 440405
فونت
ہارورڈ یونیورسٹی کے سابق پروفیسر:
پروفیسر ڈاکٹر علی اسکاٹ نے کہا ہے امریکہ جس ڈیموکریسی کی بات کرتا ہے وہ ایسی ڈیموکریسی ہے جو صرف اس کے مفادات کا تحفظ کرتی ہے ۔

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق جمہوریہ چیک سے تعلق رکھنے والے ہارورڈ یونیورسٹی کے سابق پروفیسر ڈاکٹرعلی اسکاٹ نے امام علی رضا (علیہ السلام ) سیٹلائٹ ٹی وی چینل سے گفتگو کے دوران اس بات کا ذکرکرتے ہوئے کہ وہ مسلمان ہونے کے جرم میں ۷ سال تک امریکہ کی جیل میں رہ چکے ہیں، کہا کہ امریکہ جس ڈیموکریسی کا دم بھرتا ہے وہ صرف اس کے اپنے مفاد کے لیے ہوتی ہے اور جو بھی اس کی مخالفت کرتا ہے اس کو طرح طرح کی مشکلات اور ایذا رسانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

انہوں نے دین اسلام کی تبلیغ کی اہمیت کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ میں جس دور میں ہارورڈ میں تعلیم حاصل کررہا تھا ، اس وقت امریکی حکومت نے گرفتار کرکے مجھے جیل میں ڈال دیا تھا اسی لئے جو کچھ بھی میرے پاس اسلامی اور دینی معلومات تھیں انہيں دوسروں تک نہ پہونچا سکا لیکن جیل کے اندر ہی اپنے ساتھیوں کے لئے ایک کلاس کی شکل تشکیل دی اور ان کو جیل ہی میں قرآن کریم کی تعلیم دینی شروع کی۔

ڈاکٹر علی اسکاٹ نے مغربی ممالک میں اسلام کی تبلیع کی بہترین روش کے سلسلے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ بہترین چیز جو تبلیغ اسلام کا اچھا ذریعہ بن سکتی ہے وہ اسلام کے دستورات اور احکامات پر عمل کرنا ہے، نہ یہ کہ صرف زبان سے اسلام کو بیان کیاجائے ، یعنی ہر مسلمان بیان کرنے سے پہلے خود ان الہی احکامات پر عمل کرے لہذا اگر ہم بھی دین اسلام کی تبلیغ کرنا چاہتے ہیں تو پہلے خود اس پر عمل کرنا شروع کریں۔

انہوں نے اسلام اور رضوی سیرت کی تبلیغ وترویج میں امام علی رضا( علیہ السلام ) سیٹلائٹ ٹی وی جیسے چینلوں کے کردار کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ سچ یہ ہے کہ وہ لوگ کبھی بھی نہیں چاہیں گے کہ یہ پروگرام یا اس جیسے دیگر پروگرام وہاں نشر کیے جائیں اور لوگوں کو یہ معلوم ہوکہ اس طرح کے پروگرام بھی دنیا میں پائے جاتے ہیں ۔

ڈاکٹر علی اسکا ٹ کا کہنا تھا کہ اس طرح کے پروگراموں کو امریکا میں بہت جلد بلاک کردیتے ہیں اور کسی بھی طرح کی تبلیغ و اطلاع رسانی کی اجازت نہیں دیتے ۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر کچھ لوگ ایسے پروگراموں کو دیکھنا بھی چاہتے ہیں تو ان کو گرفتار کرلیا جاتا ہے اور جیل میں ڈال دیا جاتا ہے اور امریکی حکام ہمیشہ اس طرح کے چینلوں کو خراب کرنے کی کوشش میں رہتے ہیں ۔

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬
تازه ترین خبریں
مقبول خبریں