23 May 2019 - 17:41
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 440436
فونت
امریکی انتظامیہ نے عراق سے بغداد میں اپنے سفارتخانے کے زیادہ تر اسٹاف کو واپس بلا لیا اور اپنے شہریوں سے کہا ہے کہ وہ عراق کا سفر کرنے سے گریز کریں ۔

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق امریکا نے ابراہم لنکن کیرئر بھیجا تو متحدہ عرب امارات کی الفجیرہ بندرگاہ پر کھڑے سوپر تیل ٹینکروں پر حملہ ہو گیا ۔ اس کے بعد سعودی عرب کے دار الحکومت ریاض سے کچھ ہی فاصلے پر سعودی عرب کی دو تیل تنصیبات پر ڈرون طیاروں کا حملہ ہو گیا اور اب عراق کا محاذ بھی گرم ہو گیا ہے۔

اس وقت اسلامی جمہوریہ ایران اور امریکا کے درمیان تصادم اور کشیدگی کا ماحول ہے تو تیزی سے رونما ہونے والے واقعات اور تبدیلیوں پر نظر رکھ پانا مشکل ہو رہا ہے ۔ امریکا نے ابراہم لنکن کیرئر بھیجا تو متحدہ عرب امارات کی الفجیرہ بندرگاہ پر کھڑے سوپر تیل ٹینکروں پر حملہ ہو گیا ۔ اس کے بعد سعودی عرب کے دار الحکومت ریاض سے کچھ ہی فاصلے پر سعودی عرب کی دو تیل تنصیبات پر ڈرون طیاروں کا حملہ ہو گیا اور اب عراق کا محاذ بھی گرم ہو گیا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپئو جو ایران کے خلاف جنگ کا ڈھول پیٹنے میں آگے آگے رہتے ہیں، عراق کے دار الحکومت بغداد پہنچے اور اپنے ساتھ کچھ سی ڈی بھی لے گئے جس میں یہ دکھایا گیا ہے کہ عراقی رضاکار فورسز حشد الشعبی نے شام سے ملنے والی سرحد کے نزدیک امریکی فوجی ٹھکانوں سے کچھ ہی دور پر میزائل نیٹ ورک قائم کر لیا ہے جس سے وہ امریکی فوجیوں پر حملہ کر سکتے ہیں ۔

ہمیں تو یہ خدشہ تھا کہ آبنائے ہرمز میں کوئی تصادم ہوگا لیکن اچانک پومپئو آکر عراق کے وزیر اعظم عادل عبد المہدی نیز میڈیا کو بتاتے ہیں کہ امریکی مفاد اور فوجیوں کے خلاف شدید خطرہ عراق کے اندر موجود ہے ۔ اس میں دو طرح کے پیغام ہیں ۔ ایک پیغام یہ ہے کہ اگر امریکی فوجیوں پر حملہ ہوا تو امریکا، عراقی حکومت سے رابطہ کے بغیر فوری جوابی کارروائی کرے گا اور دوسرا پیغام یہ تھا کہ امریکا، ایران سے مذاکرات چاہتا ہے ۔

امریکی انتظامیہ نے عراق سے بغداد میں اپنے سفارتخانے کے زیادہ تر اسٹاف کو واپس بلا لیا اور اپنے شہریوں سے کہا ہے کہ وہ عراق کا سفر کرنے سے گریز کریں ۔

اس سے پتہ چلتا ہے کہ امریکا کو اطلاعات ملی ہیں کہ امریکی مفاد کو ایران سے شدید خطرہ ہے ۔ اس سے پہلے گزشتہ سال ستمبر میں امریکی سفارتخانے کے قریب دھماکہ ہوا اور بصرہ میں امریکی قونصل خانے پر حملہ ہوا تو امریکا نے قونصل خانہ بند کر دیا اور سفارتخانے کا اسٹاف بہت کم کر دیا تھا کیونکہ سیدھی سی بات یہ ہے کہ امریکا ڈر گیا تھا ۔

امریکا نے عراق پر قبضہ کرنے کے لئے 3 لاکھ سے زائد فوجی بھیجے تھے اور 7 ٹریلین ڈالر خرچ کر ڈالے۔ امریکا کے کم از کم 3 ہزار فوجی ہلاک ہوئے ۔ اتنا سب ہونے کے بعد بھی امریکا کے صدر یا وزیر خارجہ میں اتنی ہمت نہیں ہے کہ وہ دن کے اجالے میں اور علی الاعلان عراق کا دورہ کریں ۔ وہ ڈری سہمی بلیوں کی طرح چپکے سے عراق میں داخل ہوتے ہیں اور وہاں سے جلدی سے نکل جاتے ہیں ۔ یہیں سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اگر ایران جیسے عظیم ملک پر حملہ کیا تو امریکا کو کیا قیمت چکانی پڑے گی ۔

ہمیں یہ نہیں پتاہ کہ پومپئو اپنے ساتھ جو اطلاعات لے کر گئے ہیں وہ کس حد تک صحیح ہیں تاہم ہمیں دو باتیں اچھی طرح پتا ہیں ۔

ایک تو یہ کہ عراقی وزیر اعظم عادل عبد المہدی امریکی فوجیوں کو بچا نہیں پائیں گے۔ پومپئو غلط جگہ چلے گئے ۔ عراقی رضاکار فورسز کی تعداد ڈیڑھ لاکھ سے زائد ہے اور پیشرفتہ ہتھیاروں سے مسلح ہے جو کسی بھی فوج کی طرح کافی طاقتور ہے ۔

دوسری بات یہ ہے کہ یہ ساری اطلاعات لے کر پومپئو یورپی ممالک میں بھی گئے تھے تاہم کسی بھی یورپی ممالک کو اپنی بات کا یقین نہیں دلا سکے ۔ عراق اور شام میں بین الاقوامی اتحاد کے ترجمان برطانوی جنرل کرس گیکا نے واضح طور پر کہا کہ امریکی فوجیوں کو ایران کی حمایت یافتہ تنظیموں سے جو خطرہ ہو سکتا ہے اس کی سطح حالیہ دنوں میں بالکل بھی نہیں بڑھی ہے، یعنی وہ کہہ رہے ہیں کہ پومپئو تم چھوٹ بول رہے ہو!

ایران کو خوفزدہ کرنے کے لئے طیارہ بردار بیڑہ اور بمبار فورس بھیجنے والے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حالت یہ ہے کہ وہ ایران کو خوفزدہ کرنے کے بجائے خود ہی ڈرے سہمے ہوئے ہیں اور ان کی سمجھ میں نہیں آ رہا ہے کہ امریکی فوجیوں پر کس طرف سے حملہ ہو سکتا ہے ۔

ایک بات اور بھی ہے کہ ٹرمپ اب ایران کے خلاف دوسرے مرحلے کی پابندیوں کی بات نہیں کر رہے ہیں یعنی ایران کی تیل برآمدات کو صفر بیرل تک پہنچانے پر تاکید نہیں کر رہے ہیں بلکہ ثالثی کی مدد سے پیغام بھیج رہے کہ ایران ان سے مذاکرات کر لے ۔

ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر امریکی مفاد پر یا امریکی اتحادیوں کے مفاد پر کوئی حملہ ہوا تو وہ سخت جواب دیں گے مگر دیکھ لیجئے کہ دو دن کے اندر متحدہ عرب امارات کی بندرگاہ پر اور سعودی عرب کے اندر دو حملے ہوئے اور ٹرمپ جوابی کاروائی کرنے کے بجائے اپنے وزیر خارجہ کو عراق بھیج رہے ہیں کہ کسی طرح امریکی فوجیوں کی جان بچی رہے تاکہ شاید امریکا میں انتخابات ہوں تو دوبارہ ٹرمپ کی فتح کا امکان باقی رہے ۔ اس لئے کہ اگر عراق میں امریکی فوجی ہلاک ہوئے تو ٹرمپ کے لئے انتخابات میں کامیابی سخت ہو جائے گی ۔

ایران کے خلاف امریکا کی فوج کشی سے تمام یورپی ممالک نے خود کو دور کر لیا ہے۔ ٹرمپ حکومت ایک بھی یورپی ممالک کو ایٹمی سمجھوتے سے باہر نکلنے پر آمادہ نہیں کر سکی ۔ اگر ٹرمپ ان حالات میں ایران سے جنگ کے لئے آگے بڑھتے ہیں تو انہیں صیہونی حکومت اور کچھ عرب ممالک کے علاوہ کسی کی مدد نہیں ملے گی جو خود اپنی حفاظت کے لئے امریکا سے مدد مانگنے پر مجبور ہیں ۔

اس کشیدگی اور تصادم سے ٹرمپ شکست کھا کر ہی باہر نکلیں گے، ٹرمپ ایک بھی گولی فائر کرنے سے پہلے ہی جنگ ہار چکے ہیں ۔ ان کی دھمکیوں سے ایران نہیں ڈرا بلکہ حالات سے خود ٹرمپ خوفزدہ ہو گئے ہیں ۔

مشرق وسطی کے علاقے میں پومپئو، بولٹن اور نتن یاہو کے علاوہ کوئی بھی جنگ نہیں چاہتا ۔ اگر امریکا نے کوئی بھی غلطی کی تو اسے بھاری قیمت ادا کرنی پڑے گی ۔ ہمیں یقین ہے کہ عراق اور شام میں موجود امریکی فوجیوں میں سے ایک بھی زندہ اپنے ملک واپس نہیں لوٹ پائے گا تو ان کی بات ہی چھوڑ دیجئے جو جنگی بیڑے اور سمندری جہازوں پر بیٹھے دعا مانگ رہے ہیں کہ بغیر کسی تصادم کے وطن واپسی ہو جائے ۔ ہم یہاں امریکا کے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسے اتحادیوں کی بات نہیں کریں گے کیونکہ ان کے لئے تو یمن کے الحوثی کی کافی ہیں ۔

عبد الباری عطوان

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬
تازه ترین خبریں
مقبول خبریں