30 May 2019 - 11:29
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 440486
فونت
قائد انقلاب اسلامی:
حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے فرمایا : فلسطینی عوام کا دفاع صرف اسلامی اور دینی مسئلہ نہیں بلکہ انسانی اور اخلاقی مسئلہ بھی ہے۔

قائد انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے یونیورسٹیوں کے بعض پروفیسروں، اساتذہ ، ممتاز شخصیات اور دانشوروں سے ملاقات میں مسئلہ فلسطین کے بارے میں اسلامی اور دینی ذمہ داری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: امریکہ اور اس کے آلہ کار صدی معاملے کو مسلط کرنا چاہتے ہیں لیکن ان کی گھناؤنی سازشیں ماضی میں بھی ناکام ہوئیں اور فلسطین کے بارے میں ان کا صدی معاملہ بھی ناکام ہوجائےگا۔

انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے فرمایا: فلسطینی عوام کا دفاع صرف اسلامی اور دینی ذمہ داری ہی نہیں بلکہ فلسطینیوں کا دفاع انسانی اور اخلاقی ذمہ داری بھی ہے۔

حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے فرمایا: عالمی یوم قدس اس سال ہر سال کی نسبت کہیں زیادہ اہم ہے اور اس کی اہمیت کی وجہ امریکہ اور اس کے آلہ کاروں کی جانب سےعلاقے میں خیانت اور جارحیت ہے جو اس طریقے سے صدی معاملے کو مسلط کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے امریکی حکام کی جانب سے فلسطین کے مسئلے کوحذف کرنے کی جانب اشارہ کرتے ہو‏ ئے فرمایا : صرف ماضی اور حال میں ان کے لہجے اور ادبیات میں فرق آیا ہے اس لئے عالمی یوم قدس اس سال ہر سال کی نسبت کہیں زیادہ اسلامی اور انسانی جذبے کے تحت جوش و خروش کے ساتھ منایا جائےگا۔

قائد انقلاب اسلامی نے مذاکرات کے بارے میں غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے پروپگنڈوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : ان کا یہ کہنا کہ ایران مذاکرات کی میز پر آئے در اصل ان کا مقصد امریکہ کے ساتھ مذاکرات کرنا ہے تاہم ہمیں دوسرے ممالک سے کوئی مسئلہ نہیں ہے اور ہم یورپی ممالک اور دوسروں سے مذاکرات کیلئے تیار ہیں۔

انہوں نے امریکہ اور یورپی ممالک کی طرف سے مذاکرات کے مطالبہ کی طرف اشارہ  کرتے ہوئے فرمایا: مذاکرات میں کوئی اشکال نہیں، ہم نے مشترکہ ایٹمی معاملے میں بھی مذاکرت کئے لیکن انھوں نے مذاکرات کے نتیجے میں ہونے والے مشترکہ معاہدے کو ہی توڑ دیا اور بد اعتمادی کی فضا ایک بار پھر پیدا کردی ۔ وعدہ خلافی کرنے والے اور جھوٹے ممالک کے ساتھ کون بار بار مذاکرات کرےگا ۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے تاکید کرتے ہوئے فرمایا: امریکہ کے اس حربے کے ساتھ مقابلے کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ دوسرا فریق بھی اپنے سارے طریقوں اور وسائل سے ان پر دباؤ ڈالنے کے ذریعے اپنے پر دباؤ میں کم کریں۔

قائد انقلاب اسلامی نے فرمایا: اگر دوسرا فریق، مذاکرات کیلئے امریکی دعوت کے دھوکے میں آجائے اور اس خیال میں رہے کہ اپنے طریقوں سے امریکہ پر دباؤ ڈالنے کی ضرورت نہیں ہے تو وہ یقینا پھسل کے ہار گیا ہے۔

انہوں نےاس جانب کہ مذاکرات میں اصل مسئلہ موضوع کا انتخاب اور تعین ہے فرمایا : ہم ہر موضوع کے بارے میں مذاکرات نہیں کریں گے اور ایران کی ناموس اور انقلاب ایران کی دفاعی طاقت کے بارے میں مذاکرات کرنا چاہتے ہیں توان موضوعات کے بارے میں کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے۔

حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے فرمایا: اگر وہ مذاکرات ایران کی دفاعی طاقت کے بارے میں یا ایران کے ریڈ خطوط کے بارے میں کرنا چاہتے ہیں تو ان موضوعات کے بارے میں بھی ان سے کوئی مذاکرات نہیں کرےگا۔ کیونکہ یہ مسئلہ ملکی اور قومی دفاع کا مسئلہ ہے۔

قائد انقلاب اسلامی نے ایک بار پھر اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات نہیں کئے جائیں گے فرمایا : اس سے پہلے بھی کہا جا چکا ہے کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات نہ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات کرنے کا نہ فقط کوئی فائدہ نہیں ہے بلکہ اس کے نقصانات ہیں۔

انہوں نے فرمایا: وہ مذاکرات کے ذریعہ دباؤ ڈالنا چاہتے ہیں ان کا منصوبہ صرف دباؤ برقرار کرکے ایران کو اس کے اہداف سے پیچھے کرنا ہے اور ایرانی قوم کسی کو ایسا کرنے کی اجازت نہیں دےگی۔

حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے فرمایا:  ایران پر امریکی دباو کی کوشش میں ہے، ایران کے پاس امریکی دباو ڈالنے والے ہتھکنڈوں کا مقابلہ کرنے کی طاقت و صلاحیت موجود ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ایران کی جوہری اور سائنسی صلاحیتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اسلامی جمہوریہ ایران، جوہری ہتھیاروں بنانے کے درپے نہیں ہے اور یہ امریکہ اور اس کے پابندیوں کی بدولت نہیں ہے بلکہ ہمارا مذہب کے اصولوں کی بدولت ہے جس میں یہ اقدامات حرام ہیں۔

انہوں نے بیان کیا: بعض لوگوں کا عیقدہ تھا کہ ہم جوہری ہتھیار تیار کرلیں لیکن ان کا استعمال نہ کریں یہ بھی غلط بات ہے کیونکہ ان کو بنانے کیلئے بہت سارے خرچے ہوتے ہیں اور دوسری طرف ہمارے مد مقابل فریق بھی جانتا ہے کہ ہم ان ہتھیاروں کا استعمال نہیں کریں گے تو اس لیے یہ کوئی بیکار اور بے اثر بات ہے۔

قائد انقلاب اسلامی نے ایران کی سائنسی صلاحیتوں اور پیشرفت کو تسلط پسند اور سامراجی طاقتوں کی تشویش کی وجہ قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ ایران کی روز افزوں سائنسی پیشرفت صرف ہمارا دعوی نہیں ہے بلکہ دنیا کے سائنسی مراکز نے اعلان کیا ہے کہ ایران کی سائنسی پیشرفت دنیا کے 13 برابر ہے اوربعض دیگر علوم میں تو ایران عالمی سطح پر پہلے نمبر پر ہے۔

حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے فرمایا:ہم موجودہ صورتحال میں اعلی قومی سلامتی کونسل کے فیصلے کے مطابق عمل کریں گے اور بعد میں اگر کسی دوسرے حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہو تو اسے اپنائیں گے۔

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬