02 June 2019 - 14:09
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 440513
فونت
آغا علی رضوی :
مجلس وحدت مسلمین پاکستان گلگت بلتستان کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ غیور فلسطینی عوام نے نہ صرف اسرائیل کی طاقت کو چور چور کرکے رکھ دیا بلکہ عملی طور پر انکا گھیرا تنگ کر دیا ہے۔

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق مجلس وحدت مسلمین پاکستان گلگت بلتستان کے سیکرٹری جنرل آغا علی رضوی نے کہا ہے کہ اسرائیل مسلسل اپنے منطقی انجام کی طرف بڑھ رہا ہے۔ فلسطین کی مزاحمتی تحریکوں اور غیور فلسطینی عوام نے نہ صرف اسرائیل کی طاقت کو چور چور کرکے رکھ دیا بلکہ عملی طور پر انکا گھیرا تنگ کر دیا ہے۔

مشرق وسطی میں نیل کی ساحل سے لے کر فرات تک اپنی سرحد کو توسیع دینے کے خواہاں اسرائیل ابھی اپنے وجود کو خطرے میں دیکھ کر شدید بوکھلاہٹ کا شکار ہو جاتا ہے۔ ایک طرف حزب اللہ لبنان، ایک طرف شام کی غیرت مند فوج اور اندر سے فلسطین کی مزاحمتی تحریکیں اسرائیل کے لیے خطرہ کی گھنٹی بن چکی ہے۔

آغا علی رضوی نے کہا ہے کہ اسرائیل اور امریکہ اسوقت عالم انسانیت کے لیے ناسور ہے۔ عرب ممالک بلخصوص سعودی عرب کا اسرائیل کے ساتھ جاری رویہ عالم انسانیت کے ساتھ خیانت ہے۔

سعودی عرب سنچری ڈیل کے ذریعے یروشلم کو اسرائیل کا دارلحکومت بنانے اور فلسطینی عوام کو مزید اپنے وطن سے بے دخل کرنے کے گھناونے جرم میں برابر کے شریک ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک اسلامی ریاست ہونے کے ناطے اور قائد اعظم کے رہنمائی کے مطابق اسرائیل کو تسلیم کرنا یا کسی بھی سطح پر اسرائیل سے سفارتی تعلقات قائم کرنا نظریہ پاکستان کے ساتھ غداری ہے۔ اگر کسی بھی سطح پر اسرائیل کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کی کوشش کی گئی تو پاکستان کے عوام حکمرانوں کا گھیرا تنگ کرکے رکھ دیں گے۔

پاکستان کے حریت پسند عوام کے دل فلسطینیوں کے ساتھ دھڑکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطین کی آزادی کے لیے پاکستان کے حکمرانوں کو بیانات سے ہٹ کر علمی طور پر جدوجہد کرنی چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ فلسطین کے حوالے سے ایران، لبنان اور شام کے علاوہ دیگر تمام اسلامی ممالک کا رویہ شرمناک اور خیانت پر مبنی ہے۔ اگر عالم اسلام متحد ہو جائے تو اسرائیل کو صفحہ ہستی سے مٹنے میں دیر نہیں گے گی۔

انہوں نے کہا کہ فلسطین کی طرح بلتستان کے عوام کو بھی اپنی زمینوں سے بے دخل کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬