10 June 2019 - 00:13
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 440558
فونت
عربی میں بقیع ایسی جگہ کو کہتے ہیں جہاں مختلف قسم کے جنگلی درخت پائے جاتے ہوں بقیع غرقد کی وجہ تسمیہ یہی ہے کہ یہاں کانٹے دار غرقد نامی درخت کی کثرت تھی جس کی وجہ سے اس جگہ کا نام بقیع غرقد پڑگیا۔ مدینہ منورہ کا قدیمی قبرستان، سر زمین بقیع کو قرار دیا گیا جسے بعد میں بعد قبرستان جنت البقیع کے نام سے یاد کیا جانے لگا۔

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق دنیا شاہد ہے کہ اس وقت کی وحشیانہ دھشت گردی کو اسلام کے نام سے جوڑنے میں سب سے اہم کردار اس وہابیانہ طرز عمل کا ہے داعش کی طرف سے پوری دنیا میں دہشت گردانہ حملے جو عالمی استعمار اور اس کے غلام وہابی حکمرانوں کے اشاروں پر انجام دیئے جاتے ہیں تاکہ اسلام کو بد نام کر کےاس سے نفرت کا ماحول پیدا کر سکیں. وہابی حکمراں اور ان کے زر خرید درباری علماء اپنے ان وحشیانہ اعمال پر اسلام کی نقاب ڈؑالنا چاہتے ہیں تاکہ پورے دنیا میں آباد برادران اہل سنت کے سامنے اپنے مذہب کو اہل سنت کے نام پر پیش کر سکیں۔

بظاہر ساف ستھرے لباس سے ڈھکی ہوئی یہ بدبودار فکر بہت جلدی دولت و شہرت کا سہارا لیکر مسلمان بستیوں کو اپنی چپیٹ میں لے لیتی ہے لہٰذا ضرورت ہے کہ اس کے مقابلے کے لئے ان کی کھوکھلی دلیلوں کی حقیقت واضح کی جائے اورصدر اسلام سے لیکر آج تک کے مسلمان جن میں صحابہ تابعین ائمہ معصومینؑ، علماء فقہاء، اولیاء، خاصان خدا سب شامل ہیں ان کے طرز عمل کا جائزہ لیکر قرآن و سنت کی روشنی میں اس مسئلہ کا حل تلاش کیا جائے تاکہ وہابیت کے چہرہ پر پڑی ہوئی اسلام کی نقاب کو ہٹاکر اس کا اصل مکروہ چہرہ دنیا کو دکھایا جا سکے اور اس طرح حقیقی اسلام کی تصویر دنیا کے سامنے پیش ہو سکے جہاں توحید الٰہی کے سایہ میں تمام باحیات اور دنیا سے بظاہر کوچ کر جانے والی شخصیتوں کا یکساں احترام ملحوظ رہا ہے۔

بزرگان دین کے مزار ات ان کی تعلیمات کو زندہ رکھنے کا ذریعہ بنتے ہیں عمارتوں سے ثقافتیں زندہ رہتی ہیں مسلمانوں کے جان و مال عزت و آبرو کی حفاظت کا سامان فراہم ہوتا ہے اور دین اسلام واقعی اک امن و امان کا علمبردار بھائی چارے کا مذہب دکھائی دیتا ہے جس میں ہر مخلوق کے حقوق کی حفاظت اور اس کا  پوراپاس و لحاظ رکھا جاتا ہے

 اس مختصر سی تحریر میں جنت البقیع کی مختصر تاریخ قبروں پر تعمیر کا شرعی حکم

اس سلسلہ میں قرآن و سنت کے پیغامات کے علاوہ قبروں کی زیارت کے فائدے اور اس کی شرعی حیثیت پر بھی مختصر بحث کی جائے گی تاکہ قارئین کرام صحیح اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اپنے عقائد و اعمال کا جائزہ لیں اور وہابیوں کے ان سیاہ کارناموں سے واقف ہوکر دھوکہ نہ کھائیں اور حقیقی اسلام سے دور نہ ہوں۔

بقیع پر احتجاجات کا سلسلہ پوری دنیا میں جاری ہے اور رہے گا. اس موقع پر اس کتاب کی اشاعت کے ساتھ اس احتجاج میں حصہ لینے والے، اس کا انتظام کرنے والے اور اس طرح کے کسی طرح کا احتجاج کرنے والے پوری دنیا کے افراد کا شکریہ کے مستحق ہیں امید ہے کہ ایک دن یہ احتجاجات ضرور رنگ لائیں گے اور سعودی حکومت کے خاتمہ کے ساتھ جنت البقیع پر عالیشان روضے تعمیر ہوںگے جو پوری دنیا کی علمی، دینی، سماجی، اقتصادی، سیاسی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے لئے رحمت، مغفرت، برکت، عزت اور سربلندی کا سامان فراہم کریں گے۔

پروردگار عالم وہ دن ہم سب کو دیکھنا نصیب ہو جس دن دشمنان اسلام سرنگوں ہوں .پرچم اسلام سربلند ہو اور پوری دنیا کے مستضعف اور کمزور افراد کو ان کا حق مل سکے۔ دنیا کو عدل و انصاف سے پُر کرنے والا زمانے کا معصوم امامؑ نگاہوں کے سامنے ہو اور ہم سب ان کے دیدار کے جلوے سے بہرہ مند ہو رہے ہوں۔

قبرستان جنت البقیع کا ایک مختصر تعارف

بقیع کے معنی:

عربی میں بقیع ایسی جگہ کو کہتے ہیں جہاں مختلف قسم کے جنگلی درخت پائے جاتے ہوں بقیع غرقد کی وجہ تسمیہ یہی ہے کہ یہاں کانٹے دار غرقد نامی درخت کی کثرت تھی جس کی وجہ سے اس جگہ کا نام بقیع غرقد پڑگیا۔

جنت البقیع

 مدینہ منورہ کا قدیمی قبرستان، سر زمین بقیع کو قرار دیا گیا جسے بعد میں بعد قبرستان جنت البقیع کے نام سے یاد کیا جانے لگا۔

محل وقوع:

قبرستان جنت البقیع مدینہ منورہ کی آبادی سے باہر مسجد نبوی کے مشرقی سمت میں واقع ہے۔ پہلے اس کے اطراف میں مکانات و باغات تھے، تیسری صدی میں جب مدینہ منورہ کی فصیل (چوطرفہ دیوار) تعمیر ہوئی تو یہ قبرستان اس سے ملا ہوا تھا۔ اس فصیل کی متعدد بار تجدید ہوئی جن میں آخری تجدید عثمانی ترکوں کے دور میں سلطان سلیمان کے زمانے میں ہوئی۔ پھر اس ملک میں امن و امان قائم ہوجانے کے بعد اس فصیل کو منہدم کر دیا گیا۔

موجودہ حدود:

 عصر حاضر میں شہر مدینہ کی توسیع کے بعد جنت البقیع شہر کے وسط میں قرار پا گیا ہے۔ مسجد نبویؐ اور جنت البقیع کے درمیان صرف ایک سڑک کا فاصلہ ہے۔بقیع کے موجودہ حدود میں وہ علاقہ بھی شامل کر لیا گیا ہے جہاں خلیفہ سوم عثمان بن عفان کی قبر تھی جو اصل جنت البقیع کے حدود کے باہر ہے۔

جنت البقیع میں مدفون پہلی اسلامی شخصیت: عام طور پر مشہور یہ ہے کہ جنگ بدر کے بعد سب سے پہلے صحابی رسول عثمان بن مظعون کی وفات کے موقع پر نبی اکرمؐ نے انہیں بقیع میں دفن کرنے کا حکم دیا۔ آپ ایک جلیل القدر صحابی تھے۔ ان کی قبر مبارک پر علامت کے طور پر ایک پتھر رکھا اور حکم دیا کہ اس کے اطراف میں اور مرحومین کو دفن یا جائے۔

بعض مورخین نے بقیع میں مدفون پہلی شخصیت اسعد ابن زرارہ کی بیان کی ہے جس کی توجیح اس طرح ممکن ہے کہ شاید بقیع میں دفن ہونے والی انصار کی پہلی شخصیت اسعد بن زرارہ کی تھی۔

قبر جناب ابراہیم ابن رسولؐ: جب پیغمبراسلامؐ کے فرزند جناب ابراہیم کی وفات ہوئی تو آپ نے انہیں بھی جناب عثمان بن مظعون کے پہلو میں دفن کرنے کا حکم دیا اس طرح قبرستان بقیع میں نسل پیغمبر اسلامؐ کے دفن کا سلسلہ شروع ہوا۔

بقیع میں مدفون ائمہ معصومینؑ:  پیغمبر اسلامؐ کے بارہ جانشینوں میں سے چار معصوم امام یعنی امام حسنؑ امام زین العابدینؑ امام محمد باقرؑ اور امام جعفر صادقؑ کی قبریں جنت البقیع میں ہیں۔

ایک احتمال کے مطابق صدیقہ طاہرہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی قبر مطہر بھی اسی قبرستان میں ہے ان قبروں پر بنے ہوئے قبہائے مطہرہ کو آل سعود کے ظالم و جابر حکمرانوں نے منہدم کر دیا۔ عالم اسلام اس عظیم سانحہ پر سوگوار ہے۔

بقیع میں مدفون دیگر شخصیات: پیغمبر اسلامؐ کے اعزاء مثلاً آپ کے چچا جناب عباس بن عبد المطلب، آپ کے چچا زاد بھائی، جناب عقیل بن ابیطالب، آپ کے اصحاب مقداد ابن اسود، خزیمہ ذوالشہادتین، زید ابن حارثہ، جابر ابن عبداللہ انصاری کے علاوہ بہت سے اصحاب تابعین مدفون ہیں ان کے علاوہ پیغمبر اسلام کی ازواج آپ کی پھوپھیاں وغیرہ اور جناب عباسؑ علمدار کی والدہ جناب ام البنین بھی اسی قبرستان میں مدفون ہیں۔

جنت البقیع میں موجود قبے اور روضے

تاریخی حوالوں اور زایرین کے اقوال کے مطابق جنت البقیع میں اولاد رسول کی قبروں پر قبے اور روضے تعمیر تھے اس کے علاوہ شہزادی کونین حضرت فاطمہ ص کی یادگار بیت الحزن بھی تعمیر تھا  استعماری سازشوں کے نتیجے میں وجود میں آنے والی سعودی حکومت نے وہابی نظریات کے اتباع میں ان مقدس بارگاہوں کو منہدم کر دیاانہدام کی یہ کاروایی دو مرتبہ دہرایی گئی۔ پہلی بارسنہ۱۲۲۰ھ اور دوسری بارسنہ ۱۳۴۴ھ  پہلی بار انہدام کے بعدسنہ۱۲۳۴ھ  میں عثمانی حکومت کے فرماںرواسلطان محمود ثانی کے حکم سے ان میں سے بعض بار گاہیں دوبارہ تعمیر ہوئیں۔

انہدام کے محرکات :

استعماری طاقتوں نے اپنے ناپاک مقاصد کے لیے ہمیشہ مسلمانوں میں پھوٹ ڈالنے  ان کے درمیان نفرتیں پھیلانے اور ان کی صفوں میں اختلاف پیدا کرنے کے لیے نئے نئے اعتقادات اور نظریات کا سہارا لیا ہے چنانچہ ابن تیمیہ کے نظریات کو بنیاد بناکر وہابیت کی شکل میں ایک نیا مذہب پیدا کیا محمد ابن عبدالوہاب نامی خود سر جوان کو اپنے مشن کی کامیابی کے لیے آلہ کار بنایا درعیہ کے حاکم کو پورے علاقہ کی حکومت کا لالچ دیکر عبد الوہاب کا تابع بنایا اور اس طرح مسمانوں میں ایک طویل مدت کشمکش پیدا کر دی۔

شروع شروع میں پوری دنیا کے عام مسلمانوں نے اس غیر اسلامی حرکت کے خلاف احتجاج کیا  پھر آہستہ آہستہ دولت کی بنیاد پر وہابیت کی ترویج کے ذریعہ پوری دنیا میں اپنے ہمنوا پیدا کرلیے اگرچہ انصاف پسند مسلمان بلکہ غیر مسلم بھی آج تک وہابیت کے اس اقدام کی مذمت کر رہے ہیں  وہابیوں نے طائف جدہ مکہ مدینہ میں مذہبی مقامات کے علاوہ کربلا اور نجف میں بھی اس قسم کے اقدامات کی کوشش کی لیکن وہاں کے بہادر عاشقان اہل بیت کی مزاحمت کے سامنے کامیاب نہ ہو سکے ۔

تحریر: سید حمید الحسن زیدی

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬