19 June 2019 - 11:07
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 440623
فونت
نجف اشرف کے ایک مرجع تقلید نے بیان کیا ہے : ان لوگوں پر جو آئمہ اطہار علیہم السلام کے زائرین کی خدمت کرتے ہیں ان پر میں رشک کرتا ہوں ۔

رسا نیوز ایجنسی کے نجف اشرف میں عالمی رپورٹر کی رپورٹ کے مطابق احباب الزہرا (علیها السلام) انجمن منطقه الحبیبیة بغداد کے ممبران و ذمہ داران نے نجف اشرف کے مشہور مرجع تقلید حضرت آیت الله سید محمد سعید حکیم کے نجف اشرف آفس میں حاضر ہو کر مرجع تقلید سے ملاقات و گفتگو کی ۔

حضرت آیت الله حکیم اس ملاقات میں بیان کیا : حسینی عزاداری جلوس عزا و انجمنیں ، دینی شعائر کو شرعی احکامات کے مطابق زندہ کرتی ہیں اور اس کی دفاع کرتی ہیں ۔

انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا : دینی شعائر معاشرے کی ترقی و مضبوطی کا سبب ہوتی ہیں اسی وجہ سے دشمن ان میں نفوذ کرنے کی کوشش میں ہے تا کہ اس کے ذریعہ دینی اقدار جو سیرہ معصومین علیہم السلام سے حاصل کیا گیا ہے اور یہ اقوام کے درمیان قدرت کے اسباب ہیں ان سے لوگوں کو دور کرے ۔

آیت الله حکیم نے سیرہ اهل بیت علیہم السلام سے تمسک کے ذریعہ قدرت و طاقت کے وسائل کی حفاظت اور ان کے عقیدہ کی عاطفی رابطہ کی برقراری کی اپیل کرتے ہوئے وضاحت کی : گذشتہ آمری نظام میں شیعوں کے حالات ایسے ہو چکے تھے کہ « اس کے بعد کسی بھی شیعہ کا وجود نہیں ہوگا » کا نعرہ لگایا جاتا تھا ، لیکن شیعوں نے صبر و ثبات قدم کے ذریعہ ان پر کئے گئے ظلم و ستم کو برداشت کیا اور اس زمانہ کو گذار دیا اور اب آگے نکل گئے ۔

انہوں نے سید الشهدا (علیه السلام) کے عنوان پر زیادہ توجہ دینے کی تاکید کی اور بیان کیا : مومنوں کو چاہیئے کہ دینی و عقیدتی امور سے رابطہ میں اپنی ذمہ داری سے آشنا وہیں ۔

مرجع تقلید نے اس بیان کے ساتھ کہ وہ مومن افراد جو زائرین آئمہ اطہار علیہم السلام کی کسی بھی جگہ کسی بھی مواقع و مناسبت سے خدمت کرتے ہیں میں رشک کرتا ہوں بیان کیا : خداوند کریم سے زیارت کی قبولی ، دعا کے استجابت اور اپنی ذمہ داری پر عمل کرنے کی توفیقات کے حصول کے لئے دعا کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ دنیا اور آخرت میں اپنے اعمال کے نتایج دیکھے نگے ۔

قابل ذکر ہے کہ آیت الله حکیم نجف اشرف کے مشہور مراجع تقلید میں سے ہیں ۔

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬
تازه ترین خبریں
مقبول خبریں