24 June 2019 - 09:43
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 440651
فونت
حجت الاسلام والمسلمین قرائتی:
سرزمین ایران کے مشھور عالم دین نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ مومن هرگز راہ حق سے منحرف نہیں ہوتا، مومنین خود کو کفار و بدکرداروں کے چھار قسم کے مضحکہ کیلئے تیار رکھیں کہا: مومنین قیامت کے روز کافروں کا مذاق اڑائیں گے ۔

رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر کی شھر تہران سے رپورٹ کے مطابق، سرزمین ایران کے مشھور عالم دین حجت الاسلام والمسلمین محسن قرائتی نے تہران یونیورسٹی کی مسجد میں تقریر کرتے ہوئے کہا: خداوند متعال نے سوره مطففین میں اہل ایمان سے فرمایا ہے کہ تم خود کو تیار رکھو کیوں کہ تم دنیا میں چھار قسم کا طنز سنو گے ۔

انہوں نے اس چھار قسم کے طنز کی جانب اشارہ کیا اور کہا: مجرمین دنیا میں مومنین کی مذاق اڑائیں گے ان پر ہنسیں گے ، ان کے پاس سے گذرتے وقت غمزدہ نگاہوں سے انہیں دیکھیں گے اور جب اپنے ہم فکروں اور گینگ کے پاس پہونچیں گے تو مومنین کے اعمال کا مذاق اڑائیں گے ، انہیں منحرف اور بے عقل بتائیں گے ۔ 

حجت الاسلام والمسلمین قرائتی نے الھی ایات کی نظر میں فرمایا : خداوند متعال نے مومنین کا مضحکہ اڑانے والے بدکاروں اور بے ایمانوں کو خطاب کرتے ہوئے کہا: ایک دن ائے گا جب اہل ایمان یعنی قیامت کے دن اہل ایمان ، کفار اور بدکرداروں کا مذاق اڑائیں گے اور ان پر ہنسیں گے ۔

قران کریم کے مشھور مفسر نے بیان کیا: انسان اگر یہ سمجھ جائے کہ فلاں کام حق ہے تو اسے ضرور انجام دے، حق کے راستہ میں گالیاں ، بدگوئی ،  طنز اور اس طرح کی چیزوں سے خوف زدہ ہوکر حق کے راستہ سے دوری نہ اپنائے اور حق کے راستہ میں انجام دی جانے والی سرگرمیوں سے خود کو پیچھے نہ ہٹائے ۔

 

انہوں نے ایرانی عدلیہ کے سابق سربراہ اور مشھور شیعہ عالم دین شھید ڈاکٹر بھشتی سے منقول ایک بات کی جانب اشارہ کیا اور کہا: شھید بھشتی ایک دن حضرت امام خمینی رہ کے پاس گئے اور کہا کہ بنی صدر کے ماننے والئے ہماری بہت زیادہ توھین کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ «بهشتی تم نے ایت اللہ طالقانی کا قتل کیا ہے » تو امام خمینی رہ نے ان باتوں کو سن کر شھید بھشتی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر دنیا کے لوگ ہمیں گالیاں دیں یا ہمارے حق میں دعائیں کریں ، ہر دو صورتوں میں مجھ پر اثر نہیں پڑتا ، انسان کو اس مرحلہ تک پہونچنا چاہئے ۔

حجت الاسلام والمسلمین قرائتی نے مزید کہا: ایک دن شھید بھشتی نے مجھ سوال کیا کہ جناب قرائتی اپ نے کس دن بلیک بورڈ کے استعمال کی سوچی تو میں نے کہا کہ حوزه علمیہ میں مختلف علماء کرام آیت الله، واعظ، فلاسفی، عارف، اہل منبر، عقد خوان موجود تھے مگر بچوں کا مولوی نہ تھا اس لحاظ سے میں نے فیصلہ کیا کہ بچوں کا مولوی بنوں اسی بنیاد پر میں بلیک بورڈ پر اگیا ۔/ ن ۹۸۸ /

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬
تازه ترین خبریں
مقبول خبریں