07 July 2019 - 14:36
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 440746
فونت
ایٹمی معاہدے پر عملدر آمد کے لیے یورپی فریقوں کو دی جانے والی ساٹھ روزہ مہلت اتوار سات جولائی کو ختم ہوگئی جس کے بعد ایران نے ایٹمی معاہدے پر عملدر آمد کی سطح میں کمی کے دوسرے مرحلے کا آغاز کردیا۔

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے نائب وزیر خارجہ اور سینیئر ایٹمی مذاکرات کار سید عباس عراقچی نے ساٹھ روزہ مہلت کے اختتام پر تہران میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یورپی ممالک نے ایران سے کیے گئے وعدے اب تک پورے نہیں کیے لہذا ہم ایٹمی معاہدے پر عملدرآمد کی سطح میں مزید کمی کر رہے ہیں۔

اس پریس کانفرنس میں جس میں، حکومت ایران کے ترجمان کے علاوہ ایران کے ایٹمی توانائی کے ادارے کے ترجمان بہروز کمالوندی بھی موجود تھے، نائب وزیر خارجہ اور سینیئر ایٹمی مذاکرات کار سید عباس عراقچی نے اعلان کیا کہ ایران اب ایٹمی معاہدے کی ان شقوں کی پابندی نہیں کرے گا جن میں یورینیئم کی افزودگی کا تناسب بیان کیا گیا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ایٹمی معاہدے پر عملدرآمد کی سطح میں کمی کے اقدامات معاہدے کو بچانے کی غرض سے کیے جا رہے ہیں اور اگر یورپی ملکوں نے ایران سے کے گئے وعدے پورے نہیں کیے تو ساٹھ روز کے بعد ایران تیسرے مرحلے کے اقدامات کا اعلان کرے گا۔

ایران کے نائب وزیر خارجہ اور سینیئر ایٹمی مذاکرات کار نے واضح کیا کہ امریکی پابندیوں اور یورپ کی عہد شکنی کا سلسلہ جاری رہنے کی صورت میں ایران ایٹمی معاہدے سے نکلنے پر مجبور ہو جائے گا۔

ایران کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں آئی اے ای اے کے بورڈ آف گورنرز کا اجلاس بلائے جانے کی امریکی درخواست کے بارے میں ایرانی عہدیدار کا کہنا تھا کہ اس سے زیادہ مضحکہ خیز بات اور کیا ہو سکتی ہے کہ ایٹمی معاہدہ چھوڑنے والا ملک یہ اجلاس بلانے کی درخواست کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یورپی ملکوں نیز روس اور چین نے بھی امریکی درخواست پر کوئی توجہ نہیں دی اور اس معاملے میں امریکہ اکیلا رہ گیا ہے۔

یہاں اس بات کا ذکر ضروری ہے کہ ایٹمی معاہدے کی شق چھبیس اور چھتیس کے تحت معاہدے کے دیگر فریقوں کی جانب سے اپنے وعدوں پر عمل نہ کرنے اور معاہدے میں درج فوائد حاصل نہ ہونے کی صورت میں، ایران کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اس معاہدے کے بعض حصوں پر مکمل یا جزوی عملدرآمد روک سکتا ہے۔

اسی حق کے تحت ایران کی اعلی قومی سلامتی کونسل نے ایٹمی معاہدے سے امریکہ کی علیحدگی کو ایک سال مکمل ہونے اور یورپی ملکوں کی جانب سے اپنے وعدوں پر عملدرآمد نہ کرنے کے بعد، آٹھ مئی کو ایٹمی معاہدے کے بعض حصوں پر عملدرآمد روکنے کا اعلان کیا تھا۔

ایران نے یورپ کو تجارتی اور مالیاتی لین دین اور ایرانی تیل کی فروخت کو یقینی بنائے جانے کے وعدوں پر عملدرآمد کے لیے ساٹھ روز کی مہلت دی تھی اور کہا تھا کہ بصورت دیگر ایران ایٹمی معاہدے پر عملدرآمد کی سطح میں مزید کمی کر دے گا۔

ایران نے گزشتے ہفتے ایٹمی معاہدے پر عملدرآمد کی سطح میں کمی کے پہلے مرحلے کا آغا کیا تھا جس بعد ایران میں افزودہ یورینیم کا ذخیرہ تین سو کلوگرام سے تجاوز کر گیا ہے۔

آج سے ایران ایٹمی معاہدے پر عملدرآمد کی سطح میں کمی کے دوسرے مرحلے کا آغاز کر رہا ہے جس کے تحت تہران یورینیم کی افرودگی کی مقررہ حد، تین آعشاریہ چھے سات فی صد کی پابندی نہیں کرے گا۔

ایران نے اراک کے ہیوی واٹر ری ایکٹر کو بھی ایٹمی معاہدے سے پہلے والی پوزیشن پر بحال کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

اقوام متحدہ کے ویانا ہیڈ کوارٹر میں قائم ایران کے نمائندہ دفتر نے بھی اپنے ایک بیان میں واضح کر دیا ہے کہ ایران کے تمام تر اقدامات اس صورت حال پر ردعمل ہے جو امریکہ نے ایٹمی معاہدے کے حوالے سے پیدا کر رکھی ہے۔ /۹۸۹/ ف

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬
تازه ترین خبریں
مقبول خبریں