14 July 2019 - 15:09
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 440796
فونت
حجت الاسلام سید حسن نصر اللہ:
حزب اللہ لبنان کے جنرل سکریٹری نے کہا :حزب اللہ کے پاس وہ دفاعی قوت جو اسرائیل کو ہمارے ساتھ جنگ کرنے سے روکتی ہے اس کو اسرائیل بھی جانتا ہے، اس لئے وہ حملہ کرنے سے پہلے ہزار دفعہ سوچے گا۔

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق حزب اللہ لبنان کے جنرل سکریٹری حجت الاسلام و المسلمین سید حسن نصراللہ کے انٹرویو کا خلاصہ ۔


حزب اللہ کے پاس وہ دفاعی قوت جو اسرائیل کو ہمارے ساتھ جنگ کرنے سے روکتی ہے اس کو اسرائیل بھی جانتا ہے، اس لئے وہ حملہ کرنے سے پہلے ہزار دفعہ سوچے گا۔

2006 کی جنگ میں ہم دفاعی قوت رکھتے تھے، آج ہمارے پاس حملہ کرنے کی طاقت ہے، اور ہمارے پاس ہر حوالے سے اسٹریٹجک اسلحہ موجود ہے۔

میزائل ٹیکنالوجی میں ہماری پیشرفت اور گائیڈڈ میزائل دشمن کے لئے پریشانی کا باعث ہے۔

ڈرون طیارے کافی تعداد میں موجود ہے، اور اس کی تاثیر ناقابل انکار ہے۔ کئی قسم کے اسلحوں میں بڑی حد تک پیش رفت ہوئی ہے، کچھ چیزیں وقت پہ واضح ہوگی۔

بری، بحری، اور فضائی حوالے سے محور مقاومت نے ترقی کی ہے، نوعیت کے حوالے سے بھی اور تعداد کے اعتبار سے بھی، ٹریننگ کے اعتبار سے بھی اور مدد خدا پر یقین اور ایمان کے حوالے سے بھی۔

جس جگہ پر اسرائیل کو سب سے زیادہ نقصان ہوا ہے، اور جو زخم مندمل نہیں ہو سکتا وہ یہ کہ ان کے اعتماد کو ختم کرنا، اور روحی اعتبار سے ان کو کاری زخم لگا ہے، جس کا علاج کرنا آسان نہیں۔

اس زخم کے علاج کے لئے آج تک اسرائیل نے جو کچھ بھی کیا ہے، وہ ناکام ہوا ہے، اس میں غزہ کی جنگ میں حماس کی مقاومت بھی شامل ہے، وہ چیز جس کو اسرائیل کبھی درست نہیں کرسکتا وہ اس کا داخلی طور پر تفرق اور ضعف ہے۔

اسرائیل کا یہ کہنا کہ ہم آئندہ ممکنہ جنگ میں لبنان کو پتھر کے دور میں لے جائیں گے، تو ہم جوابا کہیں گے، کہ ہم اس ظالم اور غاصب وجود کا کیا حشر کرتے ہیں۔

مقبوضہ شمالی اسرائیل ہمارے میزائلوں کی زد میں ہے، اور ہر ٹارگٹ بارے ساری معلومات موجود ہیں۔

ساحلی پٹی نتانیا سے لے کر اشدود تک اگرچہ بڑی تعداد میں غاصب صہیونی سویلین آبادی ہے۔ لکن اس غاصب وجود کے سب سے بڑے اور اہم مراکز یہاں ہیں۔

اس پٹی پر اہم صنعتیں، غیر تقلیدی اسلحہ، ایٹمی ری ایکٹر، دو بندرگاہیں، اہم تر تجارتی مراکز، سٹاک ایکسچینج، بجلی گھر اور گیس کے اہم مراکز موجود ہیں۔

اگر محور مقاومت کے پاس اتنے میزائل موجود ہیں جو ان تمام جگہوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں، تو کیا اسرئیل کا غاصب وجود یہ برداشت کرے گا، یہاں کون کس کو پتھر کے دور میں لے جائے گا،

کوئی بھی آئندہ ممکنہ جنگ اسرائیل کو یقینا زوال کی نوید سنائے گی، اگر اس کو یقینی کامیاب نہ ملے اور یہ کامیابی اس کو کہاں سے ملے گی؟۔

ہمیں آئندہ ممکنہ جنگ میں کامیابی کا ہر حوالے سے یقین ہے۔

میں ان لوگوں میں سے ہوں جو بہت پر امید ہیں کہ وہ قدس میں نماز پڑھیں گے۔

صدی کی ڈیل۔

مجھے اور میرے ساتھیوں کو یقین ہے کہ صدی کی ڈیل ناکام ہوگی۔

کچھ ایسے اسباب ہیں جو اس ڈیل کو اندر سے ختم کریں گے اور اسے اپنے قدموں پر کھڑا نہیں ہونے دیں گے۔

اسکی ناکامی کا سب سے بڑا سبب قدس کا مسئلہ ہے، اگرچہ باقی امور بھی مہم ہیں۔

ناکامی کے اسباب میں سے فلسطینیوں کا اس حوالے سے باہمی اتحاد ہے۔

ایران کی مدد عسکری اعتبار سے اور باقی حوالوں سے، شام میں جیت، یمن کی قربانیاں، فلسطینی عوام کا ثبات، اور محور مقاومت کی قوت اور طاقت ہے۔

لبنان کا موضوع۔
لبنان کے حدود کے مسئلے میں کچھ اسٹریٹجک اور ٹیکنیکل اسباب ہیں جن کی وجہ سے لبنان اقوام متحدہ کے زیر سایہ مذاکرات کا حامی ہے۔
اس حوالے سے اسرائیل کی تعیین پر کوئی اعتبار نہیں۔

شام۔
شامی حکومت مستحکم تر ہوتی جا رہی ہے۔ اور اس کا قبضہ قوی تر ہوتا جارہا ہے۔

فرات کے شرقی علاقہ کا مسئلہ اٹکا ہوا ہے۔ اور بنیادی مسئلہ ادلب کا شہر ہے۔
ان تمام مسائل پر کام جاری ہے، البتہ اب پیچھے جانے کا کوئی امکان نہیں۔

ہم آج تک شام میں ان تمام جگہوں پر موجود ہیں جہاں پہلے دن سے ہیں البتہ تعداد میں کمی کی ہے، کیونکہ ضرورت نہیں۔ اس کا تعلق ایران پر پاندیوں سے نہیں۔

اس وقت ایران اور روس کے درمیان جنگی اور سیاسی اعتبار سے تفاہم موجود ہے۔
اس وقت ایران اور روس پہلے سے کہیں زیادہ قریب ہیں اور یہ سب جناب ٹرامپ کی برکت سے ہے۔

نتن یاہو سے کہتا ہوں کہ جو کچھ کر سکتے ہو کرو، ایران شام سے نہیں نکلے گا، یہی شامی حکومت کا فیصلہ ہے اور ایرانی حکومت کا بھی۔

اسرائیل نے شام میں عسکری پوسٹوں پر جتنی بھی فضائی بمباری کی ہے سب بے سود رہی۔

ایران کبھی جنگ شروع نہیں کرے گا، اور میرے خیال میں شاید امریکہ بھی اس کی ابتداء نہ کرے۔
امریکہ میں جو جہت سب سے زیادہ جنگ نہیں چاہتی وہ پینٹاگون ہے۔ امریکہ میں کچھ ایسے لوگ ہیں جو امریکہ کو جنگ کی طرف لے جانا چاہتے ہیں۔

ٹرامپ اقتصادی پابندیوں سے امید لگائے بیٹھا ہے۔

امریکہ جانتا ہے کہ جنگ انتہائی نقصان دہ ہے۔
تیسری ممکنہ چیز وہ تدریجیا جنگ کی طرف جانا ہے۔ کہ یہاں سے حملہ ہو، وہاں سے حملہ ہو، لیکن دونوں اطراف یہ چاہیں گے کہ جنگ کی طرف نہ جایا جائے۔

ایران نے ایک ملک کے ذریعے پیغام بھیجا کہ اگر ایران کے کسی بھی جگہ پر بمباری ہوئی، ہم امریکی اہداف کو نشان بنائیں گے، اس لئے حملہ روک دیا گیا۔

ابھی تک جنگ کا ماحول قائم ہے۔ ہم سب کی ذمداری ہے کہ اس جنگ کو روکیں۔

ایران کبھی بھی براہ راست امریکہ سے مذاکرات نہیں کرے گا۔

وہ ہر اس ثالثی کے حامی ہیں جو ایرانی مفاد میں ہو۔

ایران کبھی بھی پابندیوں کی وجہ سے نہیں جھکے گا۔

یہ پابندیاں ایران کو اندر سے مضبوط کریں گی۔
ایران ہمیشہ سعودیہ عرب سے مذاکرات کا حامی ہے۔ جب کہ سعودی عرب کی طرف سے جواب ہمیشہ سلبی رہا اور مزید سازشیں۔
ایران ہر قسم کے ڈائیلاگ اور مذاکرات کا حامی ہے۔

یہ بات سب جان لیں کہ اگر امریکی ایرانی جنگ ہوئی تو سب علاقہ تباہ وبرباد ہو جائے گا۔
آل سعود کو جان لینا چاہیئے کہ وہ ایرانی دشمنی کو ایک جانب رکھے، کیونکہ یہ جنگ پورے علاقے کو جلا کر رکھ دے گی۔

اگر جنگ ہوئی تو کون اسرائیل کو بچائے گا، جو سب سے پہلے اسرائیل کو نشانہ بنائے گا وہ ایران ہے۔

اسرائیل کو جان لینا چاہیئے کہ وہ اس جنگ میں امن و امان سے نہیں رہے گا۔

جب امریکہ کو پتہ چلتا ہے کہ اسرائیل کو نشانہ بنایا جائے گا اور تباہ اور برباد کیا جائے گا تو پھر اسے سوچنا پڑتا ہے۔

ایران کے خلاف جنگ کا اعلان پورے علاقے کے خلاف جنگ کا اعلان ہے۔

امریکہ کو یہ بات اچھی طرح جان لینا چاہیے کہ جنگ کی صورت میں ہر امریکی ہدف کو نشانہ بنایا جائے گا، اور اسرائیل اس جنگ کی آگ کی لپیٹ میں ہوگا۔

ٹرمپ کے پیغام کے بدلے میں رہبر معظم انقلاب اسلامی کا رد عمل ایک آبرو مندانہ اقدام تھا جس کے ساتھ شجاعت بھی ہے اور حکمت بھی، اور یہ اس وقت کہ جہاں ٹرامپ سب سے پیسے لیتا ہے، ڈکٹیٹ کرتا ہے، وہاں اس کو اس بات کی حسرت رہی کہ ایرانی اسے ایک فون کرے، ایرانی مذاکرات کی پیشکش قبول کرے۔

ٹرامپ کی یہ کوشش ہے غیر مباشر کہ وہ حزب اللہ کے ساتھ روابط کا دروازہ کھولے۔

انصار اللہ اور یمنی قیادت کا ھدف ان پر مسلط شدہ جنگ روکنا ہے۔ اور وہ بالتدریج اس طرف جا رہے ہیں وہ سعودی عرب میں ائیر پورٹس کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔

امارات کے سینئیر اہلکار کے مطابق امارات یمن کے دلدل سے نکنا چاہتا ہے۔

صحافی: کیا آپ قدس میں نماز پڑھیں گے، یا آپ کے بیٹے، یا آپ کے پوتے؟؟
(دوسرے لفظوں میں یہ وقت قریب ہے یا دور)

سید حسن نصر اللہ: سب سے پہلے یہ کہ عمر اللہ کے ہاتھ میں ہے لیکن اگر ابھی کے حالات پر نظر کریں اور علاقے میں ہونے والے حادثات اور واقعات پر غور وفکر ہو، تو میرا اپنا خیال ہے کہ میں ان لوگوں میں سے ہوں جو بہت پر امید ہیں کہ وہ قدس میں نماز پڑھیں گے، میں بہت پر امید ہوں کہ میں قدس میں نماز پڑھوں گا۔ 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬
تازه ترین خبریں
مقبول خبریں