08 August 2019 - 10:10
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 441009
فونت
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام بتاریخ یکم رجب المرجب ۵۷ ھ یوم جمعہ مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے ۔

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حضرت امام محمد باقر علیہ السلام بتاریخ یکم رجب المرجب ۵۷ ھ یوم جمعہ مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے ۔

آپ کا اسم گرامی محمد، آپ کی کنیت ابوجعفر، اورآپ کے القاب کثیرتھے، جن میں باقر،شاکر،ہادی زیادہ مشہورہیں ۔

حضرت امام محمد باقرعلیہ السلام کواس لقب سے اس لیے ملقب کیا گیا تھا کہ آپ نے علوم ومعارف کونمایاں فرمایا اورحقائق احکام وحکمت ولطائف کے وہ سربستہ خزانے ظاہرفرما دئیے جو لوگوں پرظاہر و ہویدا نہ تھے۔

جوہری نے اپنی صحاح میں لکھا ہے کہ ”توسع فی العلم“ کو بقرہ کہتے ہیں، اسی لیے امام محمد بن علی کوباقرسے ملقب کیا جاتا ہے ، علامہ سبط ابن جوزی کا کہنا ہے کہ کثرت سجود کی وجہ سے چونکہ آپ کی پیشانی وسیع تھی اس لیے آپ کو باقرکہا جاتا ہے اورایک وجہ یہ بھی ہے کہ جامعیت علمیہ کی وجہ سے آپ کو یہ لقب دیا گیا ہے۔

شہید ثالث علامہ نوراللہ شوشتری کا کہنا ہے کہ آنحضرت نے ارشاد فرمایا ہے کہ امام محمد باقرعلوم ومعارف کو اس طرح شگافتہ کر دیں گے جس طرح زراعت کے لیے زمین شگافتہ کی جاتی ہے۔

واقعہ کربلا میں آپ کی عمرابھی ڈھائی سال کی تھی، کہ آپ کوحضرت امام حسین علیہ السلام کے ہمراہ وطن عزیزمدینہ منورہ چھوڑنا پڑا، پھر مدینہ سے مکہ اور وہاں سے کربلا تک کی صعوبتیں سفر برداشت کرنا پڑی اس کے بعد واقعہ کربلا کے مصائب دیکھے، کوفہ و شام کے بازاروں اوردرباروں کا حال دیکھا ایک سال شام میں قید رہے، پھر وہاں سے چھوٹ کر ۸/ ربیع الاول ۶۲ ھ کو مدینہ منورہ واپس ہوئے۔

حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے جابربن عبداللہ انصاری کی ملاقات

یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ حضرت امام محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی ظاہری زندگی کے اختتام پر امام محمد باقر کی ولادت سے تقریبا ۴۶/ سال قبل جابر بن عبداللہ انصاری کے ذریعہ سے امام محمد باقرعلیہ السلام کو سلام کہلایا تھا، امام علیہ السلام کا یہ شرف اس درجہ ممتاز ہے کہ آل محمد میں سے کوئی بھی اس کی ہمسری نہیں کرسکتا ۔

مورخین کا بیان ہے کہ سرورکائنات ایک دن اپنی آغوش مبارک میں حضرت امام حسین علیہ السلام کو لئے ہوئے پیارکر رہے تھے۔ ناگاہ آپ کے صحابی خاص جابربن عبداللہ انصاری حاضر ہوئے حضرت نے جابرکو دیکھ کر فرمایا ، اے جابر! میرے اس فرزند کی نسل سے ایک بچہ پیدا ہو گا جو علم و حکمت سے بھرپور ہو گا، اے جابر تم اس کا زمانہ پاؤ گے اور اس وقت تک زندہ رہو گے جب تک وہ سطح ارض پرنہ آ جائے ۔

اے جابر! دیکھو، جب تم اس سے ملنا تو اسے میرا سلام کہہ دینا، جابر نے اس خبر اور اس پیشین گوئی کو کمال مسرت کے ساتھ سنا اور اسی وقت سے اس بہجت آفرین ساعت کا انتظار کرنا شروع کردیا، یہاں تک کہ چشم انتظار پتھرا گئیں اور آنکھوں کا نورجاتا رہا۔

راوی کا بیان ہے کہ ہم جناب جابرکے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں امام زین العابدین علیہ السلام تشریف لائے، آپ کے ہمراہ آپ کے فرزند امام محمد باقرعلیہ السلام بھی تھے، امام علیہ السلام نے اپنے فرزند ارجمند سے فرمایا کہ چچا جابربن عبداللہ انصاری کے سر کا بوسہ دو، انہوں نے فورا تعمیل ارشاد کیا، جابر نے ان کو اپنے سینے سے لگا لیا اور کہا کہ ابن رسول اللہ آپ کو آپ کے جد نامدارحضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلام فرمایا ہے۔

حضرت نے کہا! اے جابر ان پراورتم پرمیری طرف سے بھی سلام ہو،اس کے بعد جابربن عبداللہ انصاری نے آپ سے شفاعت کے لیے ضمانت کی درخواست کی، آپ نے اسے منظورفرمایا اور کہا کہ میں تمہارے جنت میں جانے کا ضامن ہوں ۔

راوی بیان کرتا ہے کہ میں حج کے لیے جا رہا تھا، راستہ پر خطر اور انتہائی تاریک تھا جب میں لق و دق صحرا میں پہنچا تو ایک طرف سے کچھ روشنی کی کرن نظرآئی ۔ میں اس کی طرف دیکھ ہی رہا تھا کہ ناگاہ ایک سات سال کا لڑکا میرے قریب آ پہنچا، میں نے سلام کا جواب دینے کے بعد اس سے پوچھا کہ آپ کون ہیں؟ کہاں سے آ رہے ہیں اور کہاں کا ارادہ ہے، اورآپ کے پاس زاد راہ کیا ہے؟ اس نے جواب دیا، سنو میں خدا کی طرف سے آرہا ہوں اورخدا کی طرف جا رہا ہوں، میرا زاد راہ ”تقوی“ ہے ۔ میں عربی النسل ، قریشی خاندان  کا علوی نزاد ہوں، میرا نام محمد بن علی بن الحسین بن علی بن ابی طالب ہے۔

امام محمدباقر علیہ السلام کی شہادت

آپ اگرچہ اپنے علمی فیوض وبرکات کی وجہ سے اسلام کوبرابرفروغ دے رہے تھے لیکن اس کے باوجودہشام بن عبدالملک نے آپ کوزہرکے ذریعہ سے شہیدکرادیا اورآپ بتاریخ ۷/ ذی الحجہ ۱۱۴ ھ یوم دوشنبہ مدینہ منورہ میں انتقال فرماگئے اس وقت آپ کی عمر ۵۷/ سال کی تھی آپ جنت البقیع میںدفن ہوئے ۔

علامہ شبلنجی اورعلامہ ابن حجرمکی فرماتے ہیں ”مات مسموماکابیہ“ آپ اپنے پدربزرگوارامام زین العابدین علیہ السلام کی طرح زہرسے شہیدکردیئے  ۔

آپ کی شہادت ہشام کے حکم سے ابراہیم بن ولیدوالی مدینہ کی زہرخورانی کے ذریعہ واقع ہوئی ہے ایک روایت میں ہے کہ خلیفہ وقت ہشام بن عبدالملک کی مرسلہ زہرآلودزین کے ذریعہ سے واقع ہوئی تھی ۔

شہادت سے قبل آپ نے حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام سے بہت سی چیزوں کے متعلق وصیت فرمائی اورکہا کہ بیٹامیرے کانوں میں میرے والدماجدکی آوازیں آرہی ہیں وہ مجھے جلدبلارہے ہیں ۔

 آپ نے غسل وکفن کے متعلق خاص طورسے ہدایت کی کیونکہ امام راجزامام نشوید امام کوامام ہی غسل دے سکتا ہے ۔

علامہ مجلسی فرماتے ہیں کہ آپ نے اپنی وصیتوں میں یہ بھی کہا کہ ۸۰۰/ درہم میری عزاداری اورمیرے ماتم پر صرف کرنا اور ایسا انتظام  کرنا کہ دس سال تک منی میں بزمانہ حج میرے مظلمومیت کاماتم کیاجائے ۔

علماء کابیان ہے کہ وصیتوں میں یہ بھی تھا کہ میرے بندہائے کفن قبرمیں کھول دینا اور میری قبر چار انگل سے زیادہ اونچی نہ کرنا۔

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬
تازه ترین خبریں
مقبول خبریں